یہ راہ حق ہے سنبھل کے چلنا! فرح رضوان




یہ راہ حق ہے سنبھل کے چلنا! قرآن میں شوہر کے لیے ایک لفظ بعل بھی آیا ہے – بہت زبردست نکات ہیں اس ایک لفظ میں کہ سمجھ رکھنے والے جس زاویے سے سمجھنا چاہیں بات کو سمجھ سکیں – لیکن اس لفظ کی گہرائی کو سمجھنے سے قبل تین مختصر لیکن اہم ترین باتیں یاد رکھنی لازم ہیں ۔

١- ایک یہ کہ مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ سر زمین میں تن تنہا اپنی اہلیہ اور بیٹے کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام نے پہلی دعا خوراک اور پانی کی بالکل بھی نہیں مانگی، بلکہ امن کی دعا کے ساتھ ہی یہ کہ مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا لینا کہ کثیر الناس کو انہوں نے بہکا دیا -اس دعا میں بت کے لیے لفظ آیا ہے صنم سے، یعنی ایسا شدید کوئی پیارا جو دل کے وسط میں گھپ گیا ہو،یہ کوئی بھی شدید خواہش یا ازواج و اولاد کے بت بھی ہو سکتے ہیں،احباب یا سسٹم یا مال و جاہ کے بت بھی کہ جن کی طلب اور چاہ میں انسان ہلکان ہو جاۓ – ٢-دوسری بات آدم علیہ السلام و اماں حوا کے رشتے کی ہے ،یعنی سکون پانا اور دینا -تو مرد و زن سے مل کر ایک رشتے میں جڑنے ایک مسلم گھرانے کے بسنے ،ان دونوں کے ساتھ رہنے یا کسی سبب سے ساتھ چھوڑ دینے کے تمام تر ترتیب وار اصول اللہ تعالیٰ نے وضع فرما دیے ہیں،اور قران کریم میں دو ٹوک سادہ الفاظ میں قیامت تک کے لیے موجود ہیں –

٣-تیسری بات ، کچھ غذائیں اور ماکولات جیسے سؤر مردار اور شراب ،کچھ مالی معاملات جیسے سود اور رشوت،کسی اور کا حق وراثت ،کم تولنا ،کچھ جانی معاملات جیسے قتل ناحق ،خود کشی ،کچھ جسمانی معاملات جیسے زنا وغیرہ کو واضح الفاظ میں قران میں رب تعالیٰ نے حرام کہا ہے -مگر آج ہمارے” مسلم” ملک میں کچھ لوگوں نے خود پر ان کو خود سے ہی حلال کر لیا ہے جبکہ کچھ اس پر خاموش ہیں ،مگر بات یہ ہے کہ اس خاموشی سے یا سینہ زوری سے کوئی حرام شے حلال نہیں بن سکتی اس برے کام سے برا انجام چمٹا رہے گا حتی کہ سچی توبہ نہ کر لی جاۓ – ٹھیک اسی طرح اللہ کی حلال کردہ بہت سی باتیں کسی بھی دور یا دباؤ یا منطق کے تحت خود سے خود پر یا دوسروں پر حرام نہیں کی جاسکتیں جیسے طلاق اور نکاح اور وراثت وغیرہ –

چلیں اب آتے ہیں لفظ بعل پر یہ سورہ الصافات آیت 125 میں بھی آیا ہے لیکن شوہر کے لیے نہیں بلکہ بت کے لیے أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ -(الیاس علیہ السلام قوم سے مخاطب ہیں کہ )
کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو .
سامی قبائل اپنے بت کو بعل کہتے برتری کی بنیاد پر عربوں میں شوہر کے لیۓ یہ لفظ استعمال کیا جانے لگا حتی کہ قران نے بھی مخصوص مقامات پر زوج یا رجال یا کوئی بھی اور لفظ نہیں بلکہ شوہر کے لیے کلچر میں رائج اسی لفظ کا انتخاب کیا –
بعل کے معنی :حیرت -دہشت -غیر محتاجی -مالک -آقا،رفیق و ساتھی اور بلندی،وہ بھی ایسی کہ سیلاب کا پانی جہاں تک پہنچ نہ پاۓ -اور ہر وہ درخت جو بغیر آبپاشی کے اپنی جڑوں میں پانی کھینچ لاۓ –
سورہ البقرہ کی آیت ٢٢٨ میں یہ لفظ بعل طلاق کے معاملات سمجھاتے ہوئے آیا ہے – وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ ( اور اس مدت کے اندر) ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں-

اس بات کو مد نظر رکھ کر کہ یہ بائن یعنی مکمل جدا کر دینے والی طلاق کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ طلاق رجعی میں کیا معاملہ ہوگا یہ سکھا رہا ہے قران -مکمل آیت کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو، اگر وہ اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں، اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے، (228)
اب بات کرتے ہیں کچھ حالات کی کہ پہل طلاق بھی ہوئی ہی کیوں ؟
اگر آج کل کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو دو باتیں صاف ہیں ،شوہر بیوی خواہ کسی عمر اور طبقے سے تعلق رکھتے ہوں – حکمت کی شدید کمی اور منافقت کی شدید زیادتی ،ہر دوسرے ٹوٹتے رشتے میں دکھائی دیتی ہے – الا ماشا اللہ (اس میں وہ تمام آتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حق عطا کیا ہے کہ وہ فلاں فلاں بنیاد پر فوری یا ٹہر کر علیحدہ ہو جائیں )

سوال ہے کہ کیا ہمارے ہاں آج کے مرد میں بعل والی تمام تر نہ بھی سہی لیکن اکثر خوبیاں موجود ہوتی ہیں ؟ اگلا سوال کیا ہم اپنے بیٹوں کی تربیت ان خطوط پر کرتے ہیں کہ بحیثیت شوہر اس میں بعل والی تگڑی خصوصیات پیدا ہوں ،اپنے والد یا پھر ارد گرد کے بزرگ یا ہم عمر مردوں کو دیکھ کر ؟
سوال ہے کہ کیا ہم اپنے بیٹے یا بھائی کا بعل بن کر بیوی کے حقوق اپنے فرائض انجام دے کر ثواب داریں حاصل کرنا پسند یا برداشت کرتے ہیں ؟ سوال ہے کہ ڈگری ،نوکری اور ذات و مسلک کے سوا کوئی خوبی مرد سے رشتہ جوڑتے دیکھی بھی جاتی ہے ؟
سوال ہے کہ اگر واقعی مرد میں بعل والے اکثر ہی اوصاف موجود ہیں تو کیا بیگم اتنی سمجھدار اور شکر گزار ہوتی ہیں کہ ان کی نظر میں یہ اوصاف بڑے دکھائی دیتے ہوں ؟ سوال ہے کہ اگر اس ایک لفظ بعل کے اندر موجود صفات اگر تسلیم کریں تو کیا احمق اور ضدی میکے والے کبھی اپنی بہن یا بیٹی کا گھر برباد کریں؟ -اور حکم الہی کو مد نظر رکھیں کہ ایک پر تپش لمحے میں آگ لگ ہی گئی ہے تو اسے ہوا نہ دیں بلکہ اللہ جو غالب اور زبردست ہے جو حکمت والا ہے اس کے حکم کی پاسداری کرتے،دوران عدت صلح کے ارادے سے،شوہر کے رجوع کرنے پر اسے اس کی بیوی کو واپس لے جانے دیں –

اب دوسری طرح دیکھیں کہ شوہر کا دل کھٹا ہو گیا وہ رجوع ہی نہیں کرنا چاہ رہا ،نہ ثالث کی سنتا ہے نہ کسی بھی اور کی اب اسے بیوی کو بسانا ہی نہیں( یا وہ اخلاقی مریض ہے یا شدید چلاک ہے کہ زیور گاڑی زمین جائیداد نام کرو-مطلب آگے کے لیے ہاتھ کاٹ کر اس کے حوالے کر دو )جبکہ عورت کا قصور نہیں وہ مظلوم ہے -تو اللہ کی بندی ایسے انسان کو بعل یعنی بت اور صنم یعنی دل میں گھپا ہوا ہلکان کر دینے والا بت یا خون میں رچا ہوا بچھڑا بنا کر پوجنے کی رتی بھر ضرورت نہیں ہے،یہ شرک ہے ہلاکت ہے -قدرت نے موقع فراہم کیا ہے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا تو اب داسی بن کر ستی ہوکر اللہ کی دی ہوئی صحت اور وقت کو برباد نہ کرتے ہوئے خاک ڈال ،آگ لگا ،نام نہ لے یاد نہ کر —-ہاں یہ خوف ہے کہ دوبارہ کوئی فراڈ ہو تو معاشرے سے ڈرنا ہے یا اللہ سے؟ یہ فیصلہ آپ کا ہے،اب بھی بھرم کے صنم کی پوجا چھوڑ کر اپنی زندگی اسلامی طریقے سے ایک اللہ کی مان کر ہمت سے گزار سکتی ہیں،تیسری بار ،چوتھی بار نکاح حرام نہیں ہے،آپکی آزمائش اوروں سے مختلف ہے اتنا سمجھ لینا کافی ہے أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو

اب ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں – دیکھیں بعل کا تعارف کہ وہ سر تا سر خوبیوں سے مزین ہے، کمزوری کا شکار نہیں ،شرابی نہیں ، نشئی نہیں بے راہ روی کا شکار نہیں، مرتد نہیں ، لالچی اور کاہل اور بدزبان اور خودغرض نہیں رفیق ہے سہارا دے کر ہر ہر سیلاب سے بچانے والا ہے.، سینچنے والا پھلدار سایہ دار ہے ..سوال ہے کہ کیا کل کو بعل کا کردار نبھانے والے نو عمر لڑکے آج اس نہج پر پالے جا رہے ہیں ؟
ہر ہر وہ برائی جس کے لیے قرآن میں سخت وعید آئ ہے اسکا گلہ ایک عورت اپنے میکے میں بہت دیر برداشت کر کے جب کرتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ گزارا کرو جیسے سب خواتین کرتی ہیں کیونکہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں – آپ ہی ٹھیک ہیں کہ مرد یقینا ایسے ہو سکتے ہیں کیونکہ جہنم صرف عورتوں کے لیے تیار نہیں ہوئی ہے – مرد تو اس سے کہیں بد ترین عادات و صفات کے بھی ہو سکتے ہیں؛ لیکن مومن مرد ،جنتی مرد ،متقی مرد ایسے ہرگز ہرگز بھی نہیں ہوتے- تو اب اگر محنت ، صبر قربانی درگزر حکمت کے باوجود حالات وہ ہیں ہی نہیں کہ گھر میں امن ہو سکے، بچے ہو چکے تو ان کی شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ خواتین کی اپنی جذباتی ،ذہنی ٹوٹ پھوٹ ،چند سال بعد معاشرے کو کیسے شہری عطا کرے گی ؟

ہماری زبانیں ہمارے رویۓ جائز وجہ کے باوجود عورت کو درست وقت پر طلاق لینے سے جب روکتے ہیں ،جب ہم ایک حلال کام کو اپنی تنگ اندھیری سوچ سے بے لگام زبانوں سے،خوفناک رویوں سے حرام بناتے یا جتاتے ہیں،تب بیک وقت کئی گناہ اپنی جھولی میں اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں ،اور گناہوں کا وبال ان سے جڑا ہوتا ہے،جو “حاجی نمازی دینداروں “تک پہنچ کرہی رہتا ہے –
طلاق کے ڈر سے بدترین گناہوں میں خواتین زیادہ تر جادو ٹونے کے چکر میں پڑتی ہیں – خود کشی ، ایکسٹرا میریٹل افیئرز تک نوبت جاتی ہے یہ چند گناہ ہیں تمام نہیں اور امراض یا ادویات کے ذیلی اثرات تو اس میں شامل ہی نہیں —-اور اللہ کی حدود جو لمحہ لمحہ ان حالات ٹوٹتی ہیں ان پر بھی کوئی بات نہیں کی گئی ہے ،کہ اللہ کی حدیں توڑ لو “گھر ” “رشتہ ” نہ توڑو –
کمال ہے نا کہ مسلمان اس بات پر غیر مسلم کو کوسیں کہ وہ جہاد کی آیات کو قرآن سے نکالنے کہتے ہیں جبکہ ہماری طرف یہ حال ہے کہ طلاق کیوں ،کب ،کیسے کی تفصیلی آیات کو مزے سے عملی طور پر زندگیوں سے نکالا ہوا ہے –
آخری بات یہ کہ ویل جہنم کی وہ وادی ہے جس سے جہنم بھی پناہ مانگتی ہے تو ایک جائز بات کہنے پر ایک جائز حق کے استعمال پر مونہہ پر طعنے دینے والے ،پیٹھ پیچھے غیبت کرنے والے تضحیک کرنے مذاق اڑانے چغلی بہتان اور دیگر خرافات کرنے والے جان لیں کہ وہ اپنے لیۓ کیا سمیٹ رہے ہیں اور اپنوں کو کیا بانٹ رہے ہیں.

Name : Asra Ghauri . Education : M. A. Islamic Studies. Writer, blogger. Editor of web www.noukeqalam.com Lives In Pakistan.

اپنا تبصرہ بھیجیں