سگریٹ پر فتح – عصمت اسامہ




1987ء سے ہر سال 31مئ کو “ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے”منایا جاتا ہے جس کا مقصد عوام الناس کو تمباکو کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنا ہے ۔فی زمانہ ، انسانیت بحیثیت مجموعی کئی طرح کی آزمائشوں سے دوچار ہے۔مختلف معاشی و سماجی مسائل نے نفسیاتی دباؤ اور ٹینشن کو بہت بڑھا دیا ہے ۔سکون کی تلاش میں انسان سرگرداں و پریشان ہے ۔خاص طور پر وہ لوگ جنھیں قوم کا متوسط اور غریب طبقہ کہا جاتا ہے ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ایسے لوگ دن بھر محنت مشقت کرکے بمشکل اپنے اہل خانہ کے لئے گزر بسر کا انتظام کرتے ہیں۔ان تھکے ماندے ٹوٹتے جسموں کو کسی وقت سگریٹ میں مدہوشی ملتی ہے تو وہ تھوڑی دیر کے لئے اس خوفناک دنیا سے دھوئیں کی دنیا میں چلے جاتے ہیں لیکن یہ دھواں ان کے مسائل کو ختم نہیں کرسکتا مگر ان کے وجود کو دھیرے دھیرے ختم کردیتا ہے۔تمباکو نوشی ہو یا کوئی دوسری منشیات ،اس کا استعمال انسانی صحت کے لئے زہر کا کام کرتا ہے۔ سگریٹ پینے والے افراد منہ ،گلے اور پھیپھڑوں کی شدید بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد رہنے والے دوسرے انسانوں کے لئے بھی خطرہ ثابت ہوتے ہیں ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کے نتیجہ میں بیمار ہوکے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ۔دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ استعمال کرتا ہے۔آج سے دس پندرہ برس قبل بڑی عمر کے لوگ سگریٹ یا حقہ پیتے نظر آتے تھے لیکن اب تو نوجوان بچے ،کالج یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس یہاں تک کہ ٹین ایجرز بھی سگریٹ اور شیشے کو فیشن سمجھ کے یا اپنی کسی فرسٹریشن کو کم کرنے کے لئے اختیار کر رہے ہیں جو انسانیت کے مستقبل کے لئے انتہائی مہلک اور تباہ کن ہے۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔

لاہور کے ڈاکٹر فہیم بٹ کا کہنا ہے کہ “تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پاۓ گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں ۔تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔”اس ضمن میں ڈاکٹرز ،پروفیسرز،ٹیچرز ،علماء سب کو عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں ڈیبیٹس اور سیمینار منعقد کروائے جائیں ۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ “سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے”- نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جاۓ اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جاۓ ۔ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ،اس نے ساری انسانیت کو بچالیا !”۔ نشے کے عادی افراد کے علاج معالجہ کو بھی آسان کیا جائے۔ بعض لوگوں نے اس علاج کو بھی بزنس بنالیا ہے ،انسانیت کا درد رکھنے والے افراد کو اس میدان میں آگے بڑھنا چاہیے۔بعض اوقات تعلیم یافتہ لوگ بھی سگریٹ ،شیشہ یا کوئ دوسرا نشہ چھوڑ نہیں پاتے ،ان کو جاننا چاہیئے کہ انسان اپنی مضبوط قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر اپنی اس بری عادت کو ہرا سکتا ہے ۔

اپنے لئے نہیں تو اپنی فیملی اپنے بچوں کی خاطر یہ کرنا ہی ہوگا۔اپنی بقا کی جنگ کرنی ہوگی۔یہ صلاحیت انسان کو خدا نے ودیعت کی ہے کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کر کے اپنے رب سے مدد مانگتا ہے تو اسے توفیق مل ہی جاتی ہے۔ایسے شخص کو اس بری عادت سے چھٹکارا پانے کے لئے پہلے اپنے اندر عزم کرنا ہوگا ،پھر اسے چاہیے کہ وہ اندازہ لگاۓ کہ چوبیس گھنٹوں میں وہ کتنے سگریٹ لیتا ہے اور پھر بتدریج ان کو کم کرتا چلا جائے۔ان کے متبادل کوئی پھل ، اسنیکس ،چیونگ گم یا کچھ اور منہ میں ڈال لیا کرے اور جب وہ اپنی اس مشق میں کامیاب ہوجاۓ تو خود کو شاباش دیا کرے کہ وہ سگریٹ جیسے دشمن پر فتح حاصل کر رہا ہے۔اگر ضرورت پڑے تو کسی ڈاکٹر سے رجوع کرکے کچھ ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں کیونکہ “جان ہے تو جہان ہے! ”

اپنا تبصرہ بھیجیں