ملالہ کے شر میں چھپی خیر – شاذیہ ظفر




سوشل میڈیا پہ ہر طرف ملالہ کے بیانیے کا چرچا ہے۔ سب کی ملی جلی رائے ہے۔ کوئی اس پہ لعنت ملامت کر رہا ہے تو کوئی یہ کہتا ہے کہ اس حماقت کو اہمیت دیئے بنا آنکھیں میچ کے اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس کے گزر جانا چاہیئے۔

اور کوئی اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ غرض سب کی اپنی اپنی رائے ہے۔ ہماری دانست میں تو ملالہ کی اس شر انگیزی میں ہی خیر کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مغربی معاشرے کے اخلاقی انحطاط کا اہم سبب انکے خاندانی نظام کی بربادی ہے۔ وہاں مرد و زن کے کسی پاکیزہ بندھن میں بندھ کر باہمی محبت، ایثار اور قربانی کے ساتھ گھر بنانے کا تصور قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ جہاں انکا معاشرتی نظام شکست و ریخت کا شکار ہے وہیں وہ مسلم معاشرتی نظام کی کامیابی سے بری طرح خائف ہیں۔ وہ مسلم معاشرے میں نکاح کی اہمیت اور اسکے تقدس سے اچھی طرح واقف ہیں۔

جانتے ہیں کہ نکاح کے نتیجے میں تشکیل پانے والا مضبوط خاندانی نظام ہمارے مسلم معاشرے کی شان اور پہچان ہے۔ اہل مغرب کے لیے مسلم معاشرے کی اس بنیاد پہ نقب لگانا ہمیشہ سے دیرینہ خواب رہا ہے۔ کبھی لبرل ازم کی آڑ میں عورت مارچ جیسے فلاپ شوز کی بدولت خواتین کو عائلی ذمہ داریوں اور پابندیوں سے برگشتہ کرنے اور اس سے فرار کے نعرے لگوا کے تو کبھی ملالہ جیسے متنازعہ کردار کے منہ سے اپنی ایجنڈے کے مطابق بیان دلوا کے۔ لیکن شاید اہل مغرب نہیں جانتے کہ انکے یہ تمام حربے ہمیشہ ناکام ہی رہیں گے کہ ہم مسلمان اپنی دینی تعلیمات سے قطعاً غافل نہیں ہیں۔

ملالہ کے حالیہ بیان نے عائلی زندگی سے متعلق اسلامی تعلیمات اور عقد نکاح کی اہمیت اور فضائل کو خود ہماری نئی نسل میں بھی موضوع بحث بنا دیا ہے۔ بظاہر لاابالی نظر آنے والا نوجوان طبقہ بھی بہت زوردار طریقے سے نکاح کے بندھن اور اسلامی اصولوں کے مطابق عائلی زندگی کے حق میں دلائل دے رہا ہے۔ نکاح اور شادی کے حوالے سے فرمان الٰہی اور احادیث کے حوالے پیش کر رھا ہے۔ الحمدللہ یہ کامیابی ہی تو ہے۔ اور دوسری جانب رہی یہ بات کہ ہمارا معاشرہ بھی تو درپردہ اور اعلانیہ طور پہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے۔ تو اسکے لیے صرف نسل نو کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے یہ دیکھنا بھی تو ضروری ہے کہ ہم بحیثیت والدین کیا ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔

کم ازکم ہم یہ تو کر ہی سکتے ہیں نہ کہ اپنے گھروں میں ایسے موضوعات کو شجر ممنوعہ نہ بنائیں اولاد سے تبادلہ خیال کریں۔ اور مکالمے کی اس فضا میں دوستانہ ماحول اور دین کی روشنی میں اپنی اخلاقی اقدار کو واضح کرتے رہیں۔ خود کو بھی مثال بنائیں۔ تھوڑا کھلائیں مگر حلال کا لقمہ کھلائیں اور اس دعا کو اپنا معمول بنالیں۔

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں