محبت – روبینہ اعجاز




اللہ تعالی نے ہر انسان کے دل اور دماغ میں کتنی وسعت رکھی ہے۔ اسی لیے ہم بہت سی محبتیں سمیٹ لیتے ہیں۔ اور پھر انسان کو اللہ نے بانٹنے کی طاقت بھی اتنی وسیع دی ہے کہ ہم یہ محبتیں خوب بانٹتے ہیں۔

جس اللہ نے ہم انسانوں کے ایک مٹھی جتنے دل میں اتنی محبتوں کے خزانے رکھے ہیں تو وہ خود کتنی محبت کرنے والا رب ہے۔ جس نے تخلیق کی ابتدا کی جس نے ماں کے پیٹ کی ایک چھوٹی سی فیکٹری میں اسے ہاتھ، پاوں، ناک، کان اور کتنے ہی نک سک جوڑ کر اسے تیار کیا اور پھر دنیا کے سپرد کیا۔ یہ انسان کتنا خوش نصیب ہے جس کے لیے اس نے بے حساب بے پناہ بڑا اسمان اور اتنی ہی بڑی زمین تیار کی۔ اس کے رہنے کھانے جینے کے تمام طریقے سکھانے کے لیے اپنے چنے ہوئے بندے دنیا میں بھیجے اور محبتوں پہ محبتیں لٹانے کے لیے ماں باپ اور خاندان جیسی نعمتیں دیں۔ مسلم گھرانے میں پیدا کیا اور اپنی محبتیں ہم پر دن رات لٹا دیتا ہے۔

اور دیتا ہی جاتاہے، نہ گنتا ہے نہ گنواتا ہے، دیے ہی جاتا ہے۔ جو کسی چیز کا طالب نہیں ہے اس کی نعمتوں کا شمار کریں تو دنیا کے درخت ختم ہو جائیں۔ دنیا کے سمندروں کا پانی ختم ہو جائے۔ اس کی نعمتیں گن نہیں سکتے الحَمْدُ ِلله سبحان الله۔۔۔! جو رب ہمیں دینا سکھاتا ہے اور دیے ہی جاتا ہے ہم اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟؟ اسے چھوڑ کر دنیا کی محبتیں تلاش کرتے ہیں۔ اور بڑے جذبات سے کہتے ہیں کہ میں اس کے بغیر رہ نہیں سکتی اور وہ نہ ہو گا تو میں مر جاؤں گی۔ ہم نے کبھی یہ سوچا جو رب مجھے سب کچھ دیتا اور جس نے محبت کرنے والے رشتے دیئے ہم اس کے ساتھ کتنے خالص ہیں؟؟

جس انسان کے لیے اس رب نے میرے دل میں محبت رکھی اس رب کا زیادہ حق نہیں کہ اس سے محبت کی جائے؟؟ کبھی سوچا دنیا کا کون سا انسان کسی کے ساتھ سدا رہا ہے یا کیا رہ سکتا ہے؟؟ یہ تو وقتی محبتیں ہیں جو آج ہیں اور کل نہیں اسی لیے تو اللہ سورہ کھف میں فرماتے ہیں: ” یہ مال اور اولاد تو دنیا کی زینتیں ہیں باقی رہنے والی چیز تو عمل صالح ہے۔”
اور کسی شاعر کا خوب شعر ہے کہ:
~ پیار تو جھوٹا وعدہ ہے کب کوئی پیار نبھاتا ہے
احساس دلا کے چاہت کا ہر کوئی بھول ہی جاتا ہے۔

یہ دنیا کی محبتیں تو بس ایسی ہی ہوتی ہیں آج ہیں تو کل نہیں ہیں۔ ماں باپ سے زیادہ کون پیار کرتا ہے؟ ہم تو ان کی محبتوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔ باقی رہنے والی محبت تو اللہ اور اس کے رسول صلہ اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ اور اس محبت میں اتنی وسعت ہے اتنی قربت ہے کہ ہم ایک قدم اپنے رب کی طرف بڑھائیں تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ ہم اس سے کم مانگیں تو وہ زیادہ دیتا ہے۔ ہم اس سے دنیا اور آخرت مانگیں تو وہ دونوں دیتا ہے۔ ہم اس کے راستے میں ایک دانہ خرچ کریں تو وہ دنیا میں 70 گنا اور آخرت میں 700 گنا دیتا ہے۔ دنیا تو بدل مانگتی ہے کہ جو دو گے وہ ملے گا مگر میرا رب دیتا ہی ہے۔

اس کے بدل نہیں مانگتا محبتوں کی وسعت وسیع ہے میرے رب کی۔ وہ نہیں چاہتا کہ یہ بندہ جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے میں جہنم جیسی وادی میں پھینکوں۔ نہیں۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتا مگر جب ہم دنیا کی دلدل میں گھستے چلے جاتے ہیں، تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ جیسے ایک ماں اپنے بچے سے بے شمار پیار کرتی ہے۔ وہ اسے دنیا کی گرمی سردی سے بچاتی ہے۔ اسے سینے سے لگا کر دنیا کے نشیب و فراز سمجھاتی ہے۔ مگر بچہ ماں کے ڈرانے سمجھانے کے باوجود اپنے لیے غلط راستہ اختیار کرے تو وہ دنیا کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ تب ماں بھی ناراض ہوتی ہے اور سزا دیتی ہے۔ اسی طرح میرا رب بھی سزا دیتا ہے۔

اسی لیے تو اللہ فرماتے ہیں، اے میرے بندے یہ دنیا کی سب نعمتیں میں نے تمھارے لیے بنائی ہیں۔ میں تو بے نیاز ہوں، مجھے دنیا کی کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ میں تو دینے والا ہوں۔ سب کچھ لے لے اور بھی مانگ اور بھی لے لے، دنیا بھی لے لے، آخرت بھی لے لے۔ بس تو میرا ہو جا۔ مجھ سے محبت کر۔ بس میری عبادت کر۔ بس مجھ سے ہی مانگ۔ کسی کو میرے مد مقابل نہ لا۔ کسی کو میرے ساتھ شریک نہ بنا ساری دنیا کی محبتیں میرے رب نے دے دیں ہیں۔ تو میرا بھی فرض ہے جب اللہ کی طرف سے پکارا جائے آ جاؤ تو آ جاؤں۔ پانچوں نمازوں کے وقت۔۔ ہر فرضی کام کے لیے ازمایشوں میں سے گزرنے کے لیے امتحان میں کامیابی کے لیے۔

اور یہی چوبیس گھنٹے میرے نبی مہربان ص کے پاس تھے۔ یہی چوبیس گھنٹے آپ ص کے صحابہ کرام کے پاس تھے۔ یہی 24 گھنٹے آئمہ کرام کے پاس تھے۔ جنھوں نے اسی دنیا کی الجھنوں اور پریشانیوں میں رہ کر اپنے رب کی رضا پائی اور اپنے لیے جنت کو ٹھکانا بنایا۔ آج تو اللہ نے ہمیں بے شمار سہولتیں دے رکھی ہیں۔ ہر طرح کی مشین ہونے کے باوجود ہمارے پاس اپنے رب کی قربت پانے کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں نماز پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں اللہ کے دیے سے خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ ہمیں فرضی روزے عذاب لگتے ہیں۔ ہمیں قران کو سمجھنا پسند نہیں ہے۔ تو سوچیں ہم کیسے محبت کرنے والے ہیں۔ سچ تو یہ ہے، جس سے ہم منہ چھپائے بیٹھے ہیں، کہ ہم کسی سے بھی پیار نہیں کرتے اگر ہماری پیوریٹی اللہ نہیں ہے۔

تو بس فائنل ہو گیا اللہ سے محبت ہی دنیا کی محبت کی بنیاد بھی ہے اور اختتام بھی۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں