چراغِ وفا – حرا زرین




حُکْم ہے یہ حَكَم کا سںنو غور سے
قوم سوئی ہے اسکو جگانا نہیں
اور ساکت رہو لب سلے ہی رکھو
پاؤں کی بیڑیوں کو ہلانا نہیں
راستے روک دو روشنی کے سبھی
اور دیا بھی کسی نے جلانا نہیں

اے مرے دوستو سوچتے کیوں نہیں؟
زندگی کو یونہی تو بِتانا نہیں !
کب تلک سانس لو گے گھٹن میں سبھی؟
تیرگی کے پہاڑوں کو ڈھانا نہیں؟
اور کس کام کا ہے جوانو لہو؟
زورِ بازو کو گر آزمانا نہیں؟

بدلو ارباب کو ، تخت کو ، تاج کو
یونہی بدلے گا ورنہ زمانہ نہیں
آج میں نے قلم سے ہے وعدہ لیا
سچ کو کہنا ہے ہر سو چھپانا نہیں
تم بھی خود سے کوئی ایک وعدہ کرو
یوں بے مقصد تو اب جیتے جانا نہیں

نوجوانو اٹھو اپنے حق کے لئے
جوش جو اب جواں ہے دبانا نہیں
دیپ اپنے لہو سے جلا کر کہو
ظلمتوں کا کوئی اب ٹھکانہ نہیں
مرکزِ آس ہے یہ چراغِ وفا
بس چراغ آخری یہ بجھانا نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں