افسانہ “گیم از اوور ” “GAME IS OVER” – ضحی شبیر




“ارے واہ…! کالج میں جا کر تو بڑی خوب صورت ہو گئی ہے نورالدین کی بیٹی.. ارے دیکھو درمیان والی وہی تو ہے”.نیلے رنگ کے لباس میں ملبوس لڑکے نے ساتھ کھڑے دوسرے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا.”وہی تو دیکھ رہا ہوں. کیا تخلیق ہے خدا کی..؟ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے. “گرے کلر کی شرٹ میں موجود خوش شکل نوجوان، جو بالوں پر ہاتھ پھیر کر لڑکیوں کو تاڑنے میں مصروف تھا، اس نے جواب دیا.

“ارے نمبر تو دیتی جاؤ کبھی کبھار بوریت دور کرنے کے لیے بات چیت ہی کر لینا ڈئیر. “نمرہ کا دوپٹہ ہاتھ میں پکڑ کر روز سے کھینچا وہ لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہوئے لیکن مضبوطی سے قدم جما لیے. وہ دونوں لڑکے اپنی بکواس جاری رکھے ہوئے تھے. نمرہ اپنی دوستوں کے ساتھ تیز تیز چلتے آگے نکل آئی.جلدی سے گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا. یہ آج کی ہی بات نہیں تھی. کئی دنوں سے یہ معمول ہی بن گیا تھا. روز کالج سے واپسی پر وہ لڑکے ان کو چھیڑتے رہتے.نمرہ نے آج ابو کے ساتھ تھانے میں جا کر رپورٹ درج کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا.امی کو ساری بات بتائی. پہلے انہوں نے تھوڑا اعتراض کیا. لیکن نمرہ کے غصے اور دلیل کے آگے خاموشی اختیار کر لی. نمرہ ابو کے آنے کا انتظار کر رہی تھی.نمرہ…. آ کر کچھ تھوڑا سا کھا لو…؟ جب سے آئی ہو غصہ کر رہی ہو. امی نے کھانہ ڈالتے ہوئے صحن میں ٹہلتی بیٹی کو آواز لگائی. “نہیں کھانا مجھے…. یہ خود کو سمجھتے کیا ہیں بڑے تیس مار خان بنے پھرتے ہیں. تھوڑا سا پیسا اور اثر و رسوخ کیا ہے خود کو ہی اس محلے کا بادشاہ سمجھ لیا ہے. آتی جاتی ہر لڑکی کو تاڑتے ہیں. آوارہ کتوں کی طرح دن بھر لڑکیوں کے آگے پیچھے گھوم کر ان کی زندگی عذاب بناتے ہیں ان کے گھر والوں کے اندر سے غیرت ہی ختم ہو گئی ہے۔ بجائے زنجیریں ڈال کر کھونٹی سے باندھنے کے ان کے کرتوتوں پر پردے ڈالتے ہیں. بڑے باعزت بننے کے ڈرامے رچاتے ہیں.

اپنی بہن بیٹیوں کو کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے دوسروں کی تو جیسے سڑکوں پر لگے شو پیس ہیں جن کو اوپر سے نیچے تک گھورنے پر ثواب ہو گا. ان بااثر لوگوں کو برا بھلا کیا کہوں یہاں تو سارے بس اپنی لڑکیوں کے معاملے میں غیرت مند اور باقی سب کے معاملے میں بے غیرتی کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں. ہر منظر یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی مداری سرکس پیش کر رہا ہو. “نمرہ مسلسل بولے چلے جا رہی تھی اس کی زبان پر اس کا کنٹرول نہیں آ رہا تھا. غصے کی شدت سے چہرہ لال ہو چکا تھا.نمرہ کو ہمیشہ وہ لڑکے زہر لگتے تھے جن کی وجہ سے لڑکیوں کے سپنے ادھورے رہ جاتے تھے وہ خوابوں کو حقیقت تک اڑان نہیں دے سکتی تھی.ابو آپ میرے ساتھ چلیں تھانے میں رپورٹ درج کروا آئیں تا کہ آئندہ ان کی شکلیں نظر نہ آئیں کل کو کوئی بات سننے کو آئی تو آپ نے تب مجھے کالج چھڑوا دینا ہے اور لوگوں نے مجھے ہی خراب کہنا ہے بھلا لڑکے کب خراب ہو سکتے ہیں ہم ہی ان کو تاڑ تاڑ کر سیٹیاں بجا کر نمبر مانگتی ہیں.

______________
“آپ ان لڑکوں کے خلاف رپورٹ درج کر رہے ہیں یا ہم ایس ایچ او صاحب کے آفسں تشریف لے جائیں “.گھنٹے سے کانسٹیبل سے بحث کر کر کے نورالدین صاحب تنگ آ چکے تھے.کانسٹیبل ان لڑکوں کا ساتھ دے رہا تھا۔ “جیسے وہ شریف النفس انسان ہیں وہ ایسی حرکت نہیں کر سکتے ہیں. ان اعلی خاندان کے چشم و چراغ ہیں ایسی حرکتیں ان کو کب زیب دیتی ہیں. ایس ایچ او کے آفس جانا ہے تو شوق سے جائیں وہ سامنے ان کا آفس رہا.”

“شکریہ. بکاؤ مال ہم خود ہی آفس کا پتہ کر لیں گے.” نور الدین صاحب شدید غصہ میں آ چکے تھے. نمرہ کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور ایس ایچ او کے آفس کی طرف چل پڑے. السلام علیکم ایس ایچ او ….. “وعلیکم السلام سر.. آئیں تشریف رکھیں”. جی شکریہ. کرسی پیچھے دھکیل کر بیٹھتے ہوئے نمرہ اور نور الدین نے ایک ساتھ کہا. “سر آپ کا کانسٹیبل ایف آئی آر ہی نہیں درج کر رہا ہے. مسٹر سرور شجاعت اور کامران صدیقی صاحب کے بیٹوں نے لڑکیوں کی زندگی جینا دو بھر کر دی ہے. کالج سے واپسی پر لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں ان کے نمبر مانگتے تھے. پہلے ان کو ایک بار وارننگ دی تھی مگر آج انہوں نے حد ہی کر دی میری بیٹی کا دوپٹہ سر عام سڑک میں کھینچنے کی کوشش کی. وہ مسلسل ان بدمعاشوں کی طرف داری کر رہا ہے. خاندان کا بااثر اور شریف ہونا کہاں اس بات پر یقین دلاتا ہے کہ وہ لڑکے ایسی حرکت نہیں کر سکتے ہیں.”نور الدین صاحب نے مکمل روداد سنائی.” اور یہ میری بیٹی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا چاہتی ہے تاکہ آئندہ کسی کی بیٹی کو میلی نگاہ سے دیکھ نہ سکیں. گواہی کے لئے اس کی ساتھی موجود ہیں جو اس واقعہ کی عینی شاہد ہیں”.ایس ایچ او نے کرسی بائیں دائیں گھماتے آرام سے پوری کہانی سنی.”اچھا سر جی. تو میں نے سن لی آپ کی داستان. اب آپ میری بات سنیے اور سمجھیے جناب.

دیکھیں ایف آئی آر درج کرنے کو تو میں کر لوں مگر وہ بچے بااثر اور امیر گھرانوں کے ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی کروں گا تو وہ اثر و رسوخ استعمال کر کے بری الذمہ ہو جائیں گے. تو بہتر یہی ہے کہ آپس میں بات چیت کر کے معاملات اندر ہی اندر نبٹا لیں شہر میں ڈھنڈورا پیٹنے سے کیا ہو گا. ایسے بھی کیا کر لیا ان لڑکوں نے،آپ کی لڑکی تو صحیح سلامت آپ کے پاس ہے کچھ ہوا ہوتا ایسا ویسا تو پھر کاروائی بھی ہو جاتی اور ثبوت بھی ہوتا… آپ میری بات سمجھ رہے ہیں. ان خاندانوں کے لیے عزت اور غیرت بڑی چیز ہوتی ہے نام داغدار نہیں ہونے دیں گے نام اور اونچی ناک بچانے کے لیے سب جائز سمجھتے ہیں. آپ ہی نقضان میں رہو گے.میرا کام تھا سمجھانا. وہ میں نے کر لیا باقی آپ کی مرضی…”ایس ایچ او کے چہرے پر صاف صاف دکھائی دے رہا تھا یہ بکاؤ مال ہے. پیسے کی چمک اس کی ایمانداری کو کہیں پیچھے چھوڑ آئی ہے. بد دیانتی ماتھے پر چمک رہی تھی اور لالچ آنکھوں سے ٹپک رہی تھی.نورالدین صاحب نے نمرہ کی طرف دیکھاآنکھوں ہی آنکھوں میں اس کو کہا دیکھو میری بات سچ ہے یہاں اندھیر نگری ہی ہے. قانون بھی بکتا ہے.نورالدین مایوسی کے عالم میں اب کرسی چھوڑ کر کھڑے ہو چکے تھے.”چلو بیٹا چلتے ہیں. جگہ تو درست پر ہی آئے تھے لیکن شاید جگہ پر قبضہ غلط لوگوں کا ہو چکا ہے. عہدہ ان کو مل چکا ہے جو اس کے قابل نہیں ہیں.”

نمرہ نے اپنے اندر اٹھنے والے ابال کو بہت مشکل سے قابو کیا. وہ یہاں کچھ نہیں کہہ سکتی تھی کہنا لفظوں کا ضیاع تھا. ایس ایچ او ان کی ایف آئی آر لکھ بھی لیتا تو اس نے کون سا ایمانداری سے کام کر لینا تھا.ایس ایچ او ہر بات کو مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے فون پر لگ چکا تھا.نمرہ اپنے ابو کے ساتھ نکل کے باہر آ رہی تھی. گیٹ تک پہنچنے سے پہلے ایک جملہ اس کے کانوں سے ٹکرایا اور اس کے صبر کو انتہا تک پہنچا گیا.”ایسے لوگوں کو اندر میرے پاس کیوں بھیج دیتے ہو. پتہ نہیں کہاں کہاں سے اٹھ پر عزت دار لوگوں پر الزام لگانے چلے آتے ہیں. ہماری نوکری کے پیچھے پڑ جاتے ہیں”.ایس ایچ او اپنے کسی کانسٹیبل کو ڈانٹ رہا تھا.نمرہ ایک دم سے وہیں سے پیچھے مڑی اور تیزی سے اندر داخل ہوئی. نورالدین صاحب کو کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دیا.” اے ہیلو ایس ایچ او کیا تم بھی عزت دار اور غیرت مند انسان ہو …..؟ شریف النفس فیملی سے تعلق رکھنے والے ہو…..؟
ان شاء اللہ تمہاری اور تمہارے ان غنڈوں کی شرافت کے چرچے زبان زد عام ہوں گے. تمہاری بیٹیوں بہنوں کو بھی کوئی شوخی، لا ابالی پن میں چھیڑتا ہو گا. مگر ٹیک اٹ ایزی جوانی میں نہیں لڑکے ایسی حرکت کریں گے تو کب کریں گے….؟”ایس ایچ او غصے سے پیج و تاب کھاتا نمرہ کی گفتگو سن کر کھڑا ہوا.” خود پر آئے تو چھبتی ہے، دکھتی بھی ہے اور غلط بھی لگتی ہے.تمہارا برا وقت بھی شروع ہو گا. جسٹ ویٹ اینڈ واچ. خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے.”نمرہ کہہ کر واپس جانے کے لیے مڑی.” چل نکل یہاں سے. روز تم جیسوں سے ہی تو نبٹتے ہیں”.

_____________
“نمرہ تجھے منع بھی کیا تھا نہ جا. مگر تم اور تمہارے ابو میری بات سنتے کب ہیں…”نمرہ کو امی سب سننے کے بعد ڈانٹ رہی تھی. ” امی آپ ہمیشہ ڈرتی ہی رہیں. یہ ہمیں ڈرا ڈرا کر ہی ماریں گے. کل جب ڈرا ڈرا کر کام نہیں چلتا تو بیٹیوں کی لاشیں غیرت کے نام پر لٹکتی نظر آتی ہیں.کرتا کوئی اور ہے اور بھرتا کوئی اور ہے”.آپ بس مجھے ہی ڈانٹنا لیکن اب ان سب کی الٹی گنتی شروع…. بس بہت ہو گیا اب ایک ایک خود کو خود بے نقاب کرے گا.”نمرہ امی کو سب باتیں سنا کر کمرے کی طرف چل دی.نورالدین صاحب وہیں بیٹھ کر پانی پینے لگے.” اپ س لڑکی کو کچھ سمجھاتے کیوں نہیں. زمانہ اتنا خراب ہے کسی رشتہ کی کسی کو پرواہ نہیں. آپ الٹا اس کی مدد کرتے ہیں…؟”پانی تھماتے مسز نورالدین نے کہا.”آپ بھی تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتی ہیں. ابھی وہ غصہ میں کوئی بات سمجھ سکے گی کیا..؟نورالدین نے پانی پی کر گلاس واپس تھماتے ہوئے جواب دیا.
___________
“اب کی بار اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گی ان کو. کسی صورت بھی نہیں.آج تک بس عورت کو کمزور دیکھا ہے اب دکھاؤں گی عورت کی طاقت کیا ہے اور اب کی بار سمجھ ہی نہیں سکیں گے وار ہوا کدھر سے ہے اور کیا کس نے ہے..؟”نمرہ رجسڑ اور پنسل لے کر بیٹھی ہوئی تھی. سوچنے کے ساتھ کچھ نوٹ کیے جا رہی تھی.” روبہ، مریم، کشف، ماریہ، زمر اور الفت یہ چھ لڑکیوں کے ان لڑکوں کی وجہ سے سکول اور کالج چھوٹے. کشف اور ماریہ دونوں کی شادی ہو گئی ہے.

باقی چار بچی ان چاروں سے مدد کی امید کی جا سکتی ہے ان کو پڑھائی سے لگاؤ تھا. کردار پر لگے داغ کو دھونا تو چاہیں گی. ان کے اندر چنگاریاں تو ہوں گی باقی بھڑکانے کے لیے انتظام ہو جائے گا.شادی شدہ میں سے کشف میری مدد کو آ سکتی ہے… اس کے سسرال والے اچھے ہیں اس سے بات کر کے دیکھتی ہوں اس کے شوہر کی مدد بھی درکار ہو سکتی ہے. “سب کے نام نوٹ کرنے کے بعد وہ ساتھ کچھ لکھ بھی رہی تھی.متاثرہ لڑکیوں کے بعد اب وہ آوارہ بدمعاشوں کے نام لکھ رہی تھی.” ولید، عادل، احمر، رانا، حسنین، اور سیٹھی ” ٹوٹل ملا کر پورے محلے کے یہ چھ لڑکے خراب تھے جن کی وجہ سے لڑکیوں کی زندگی مسائل میں گھرتی جا رہی تھی…”ولید، عادل، رانا ان تک رسائی کے لیے ان کے چیلے ہی مدد کریں گے.”نمرہ نے اپنے دماغ میں مکمل پلان تیار کیا تھا بس اب اس منصوبہ کو عمل میں لانے کے لیے لڑکیوں کو ملانا تھا. بہت سی لڑکیوں کو وہ جانتی تھی جو اس کا ساتھ دے سکتی تھی. اس کام کو انجام دینے کے لیے 24 لڑکیوں کی ضرورت تھی. جن میں سے تین لڑکیاں احمر، سیٹھی اور حسنین کی بہنیں تھی. ان کے مدد کے بغیر مشن کا ہونا ناممکن تھا.اب کل نمرہ نے 16 لڑکیوں سے کالج میں ملاقات کرنی تھی. ان کے متفق ہونے کی صورت میں ان کی ذمہ داری سونپی تھی. پلان کے مطابق بہنوں سے بعد میں ملاقات ہونی تھی.اب بس اسے کل کے آنے کا انتظار تھا.
____________

دوسرا دن نمرہ کے لیے واقعی خوشگوار ثابت ہوا. 16 لڑکیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں تھی جو ساتھ نہیـــــــــں دیتی.اب ان کو فری کلاس میں ہال کے قریب خالی کمرے میں ملنے کو بلایا تھا تاکہ اپنی پلاننگ ان کو بتا سکے ان کے کام ان کو سمجھا سکے.مقررہ وقت پر سولہ لڑکیاں خاموشی سے کمرہ میں آ چکی تھی یہ کمرہ چونکہ ہال کے پیچھے تھا یہاں کسی کا آنا جانا نہیں تھا بس کسی فنکشن کے دوران یہاں کے سٹیوم وغیرہ چینچ کیے جاتے میک اپ کر کے آرٹسٹ تیار کیے جاتے ہیں. سو یہاں وہ آسانی سے بات کر سکتی تھی.

“مجھے خوشی ہے کہ آپ سب ساتھ دے رہی ہیں. ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ صرف میرا معاملہ نہیں ہے. ہم سب کسی نہ کسی موڑ پر اپنے سپنوں کو ان گھٹیا لوگوں کی وجہ سے داؤ پر لگا دیتے ہیں پھر بھی خراب ہم ہی ہوتے ہیں. ہماری عزت داغدار ہوتی ہے. ہمارے معاشرے میں مرد جو مرضی کر لے چوں کہ وہ مرد ہے تو اس سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کوئی پابندی نہیں ہے.لیکن ہم اپنی عزت اور کردار کا رسک نہیں لے سکتے ہیں. کہانی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کروا دیتے ہیں.”نمرہ ہاتھ میں بورڈ مارکر اٹھائے سامنے کھڑی بول رہی تھی. سب سے پہلے ڈائس پر موجود اس قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانا ہو گا. کہ آپ ہر صورت میں مشن کی تکمیل تک ساتھ دیں گی. خوف سے عاری ہو کر دیانت داری کے ساتھ ہر اک رشتہ کو کہیں دور چھوڑ کر بس مشن میں ہوں گی. آپ کا راز اپ کا راز ہو گا اس کی کسی کو کبھی خبر نہیں ہو گی. کہیں ڈر لگ جائے ہمت ہار جائیں تو منہ سی کے الگ ہو جائیں گی. راز نہیں کھولیں گی. آپ کا اپنا کوئی مصیبت میں مبتلا ہو یا کچھ بھی ہو اس سے مکمل طور پر خود غرض ہوں گی.
مجھے امید ہے کہ آپ کا ایمان کا لیول اتنا تو ہائی ہو گا آپ لوگوں کے لیے اللہ کو نہیں چھوڑیں گی البتہ اللہ کے لیے تمام لوگوں اور دنیاوی چیزوں سے منہ موڑ سکیں گی.”

نمرہ کی بات سن کر سب نے متفقہ طور پر سر ہلا لیا.اب باری باری سب نے حلف لیا.چلیں تو اب شروع کرتے ہیں پلاننگ کی بات.”کون کون سے لوگوں نے ٹیم میں رہتے کونسے کام سر انجام دینے ہیں.”اقرا، نور اور ثمرہ آپ تینوں نے ایک ہی ٹیم میں رہنا ہے آپ کی ٹیم انٹیرئیر ڈائیننگ کا کام کرے گی. اس کے لیے آپ کو چنا ہے آپ جانتی ہیں کہ وہ کام آپ اچھے طریقے سے کر سکتی ہیں”.آپ کی ٹیم کا کوڈ آئی ڈی 123 ہے.صباح، سدرہ اور خنفساء آپ کے ذمہ داری ہے دوست بنانا. آپ حسنین، سیٹھی اور احمر کی بہنوں کے ساتھ دوستی بہت مضبوط اور گہری کریں گی. ان کے ایک ایک کام پر نظر رکھیں گی. ان کے دماغ میں خلل ڈال دینا ہے. ان سے دوستی کر کے ان کے بھائیوں کے لیے دل میں نفرت کے کچھ قطرے ڈالنے ہیں. اس طرح سے ان کو ساتھ ملانا ہے کہ بھائیوں کو سدھارنے کے لیے بے تاب ہو کر ہمارا ساتھ دیں. ان کے لیے اس مشن کی تکمیل تک صرف ان کی اپنی ذات، کردار اور عزت معنی رکھے. آپ نے سائیکالوجی کے مضمون کے مطابق ان کو ٹریٹ کرنا ہے. ان کے ارد گرد کو ایسا بنا دیں ان کو لگے اگلا شکار وہ بھی ہو سکتی ہیں ان کو گھروں تک محدود کیا جا سکتا ہے. آپ کی ٹیم کا نام ایف. ایم 456 ہوگا.کوئی کنفیوژن……؟فی الحال تو نہیں…..خنفساء نے کہا.

“فرحین، صائمہ اور مہرین آپ کی ذمہ سب انٹرنیٹ سے منسلک ہے. فیس بک، انسٹا گرام، ٹک ٹاک جو جو ایپس ہیں اب کی فیک آئی ڈی بنائیں. ہمارے شہر کے سارے پیج ان فیک آئی ڈی سے فالو کریں. اور آئی ڈی بنانے کے لیے میل ایڈریس استعمال کریں فون نمبر قطعاً استعمال نہیں کرنا اور سم ایسی استعمال کریں جو آپ کی اپنے استعمال میں نہ ہو. کہیں سے بھی 60 سال سے زیادہ لوگوں کے نمبروں کو استعمال کر کے آئی ڈی بنالیں. راہ چلتے کسی سے بھی فون لیں. وہاں سے کوڈ لے لیں. بہت ہوشیاری سے یہ کام کرنا ہے آپ کا لباس ایسا ہو جیسے آپ نہیں ہیں. آپ کی شناخت کرنا مشکل نہیں ناممکن ہونا چاہیئے. ٹھیک ہے. سفر کریں گھر والوں سے بات کرنے کا بہانہ بنائیں کچھ دیر کے لیے فون حاصل کریں انٹرنیٹ سپیڈ کو اسٹرونگ رکھنا ہے. تین منٹ کے اندر کام مکمل کرنے کی کوشش کریں گی اپ کی ٹیم کا نام ایس ایم ٹیم 789. ہے .”” ارینا ، اقصی، منیبہ اور مرینہ آپ لوگوں کے ذمے کام ہے تھانہ جانا. تھانہ جانے کے لیے آپ نے فل ڈرامہ بازی کی پریکٹیس کرنی ہے ڈائیلاگ لکھنے ہیں ان کو تیار کرنا ہے. بلکہ کوئی غلطی نہ ہو ہر بات کا جواب ہو آپ کے پاس….. آپ چاروں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے. آڈر ملتے فوراً روانہ ہوں گی. اس کے لیے آپ سب کو ہزار ہزار روپے مجھے جمع کروانے ہیں. پاکٹ منی پورے پندرہ دن کی میرے ہاتھ پر رکھ لیں. ہم سب کو اپنے اپنے پیسے استعمال کرنے ہوں گے. ڈی بی ٹیم 13101112 ہے “.

اب آپ تین لڑکیاں بچی ہیں ثمن، بینش اور مہروش آپ لوگوں کے ذمے الگ الگ کام ہیں مل کر نبٹانے ہیں. ثمن تمہارا بھائی فوٹو گرافر ہے اس کے پاس کافی کیمرے ہیں ان سے ایک کا ارینج کرنا تمہارا ذمہ ہے. بینی تمہارے ذمے ان چھ لڑکوں کی باتیں اگلوانی ہیں جو مرضی سورس استعمال کرو. مہروش تمہارا کام میری پروٹیکشن ہے ہر مشن سے پہلے مجھے تمہارے گھر ہونا ہے یہ فیصلہ تمہارے گھر کے بندوں کی وجہ سے کیا ہے. تمہاری اماں اور دادی کو آسانی سے بے خبر رکھا جا سکتا ہے۔ اپ کی ٹیم کا نام141516 ہے. امید ہے سب کو سمجھ آ چکی ہو گی یہاں واٹس ایپ نمبر لکھیں باقی باتیں وہاں ہوں گی. اب سے ہم میں کوئی گہرا تعلق نہیں ہے. آپ اپنے راستے میں اپنے راستے.سمجھ گئی ہیں؟. اوکے باری باری یہ روم لیفٹ کرتی جائیں.
لگتا ایک چھوٹا سا مشن تھا لیکن آسان نہیں تھا صرف اس مشن کی بنیاد ” بھروسہ” تھی ذرا سی دراڑ سب کچھ برباد کر سکتی تھی. مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا.اب اس نے آخری کام سر انجام دینا تھا اس کے لیے اسے آج پھپھو کے گھر جانا تھا. کشف اس کی پھپھو کی بہو تھی پہلے اس کے ساتھ کالج فیلو ہوا کرتی تھی. مگر پھر قسمت نے ساتھ نہیـــــــــں دیا اور بدنامی کے ڈر سے باپ نے نمرہ کے کزن عدن سے اس کی شادی کروا لی تھی. “السلام علیکم پھپھو…..” نمرہ نے اندر داخل ہوتے چہکتے ہوئے جھٹ سے پھپھو کو سلام دیا.

وعلیکم السلام میرا بچہ آیا ہے اتنے دنوں بعد. ضرور اپنی دوست سے ہی ملنے آئی ہو گی پھپھو سے ملنے کا تمہیں کب شوق ہے. پھپھو جھوٹی ناراضگی دکھا رہی تھی. پھپھو آپ کتنی ذہین ہیں آئن سٹائن کا دماغ ہے اپ کے پاس. فورا سے پہلے آپ کو پتا چل گیا. لیکن وعدہ اگلی بار آپ سے ملنے آؤں گی.کشف کدھر ہے نظر نہیں آ رہی ہے…. اور عدن بھیا… ؟اوپر ہی ہیں دونوں. عدن نے آج چھٹی کی ہوئی ہے. آفس جانے کا اس کا دل نہیں کر رہا تھا. “میں مل کر آتی ہوں…”. نمرہ بول کر جلدی سے سیڑھیاں چلنے لگی. شکر ہے عدن بھائی نے پھپھو سے کوئی ذکر نہیں کیا. آجاؤ چھوٹو. ہم ادھر ہی ہیں.
عدن بھائی نے آتا دیکھ کر آواز دی. السلام علیکم کیسی ہو کشف؟کشف سے گلے ملتے نمرہ نے حال پوچھا. ٹھیک ہوں تم سناؤ کیا پلاننگ ہے..؟ نمرہ نے کشف کی بات سنتے ہی پوری سٹوری سنا دی. چھوٹو پلان تو بہت اچھا ہے لیکن ذرا بھی گڑ بڑ تمہارے لیے عذاب بن سکتی ہے…. عدن نے پلان سن کر کہا. “اب ٹھان لی ہے جو ہو گا دیکھیں گے.آپ اس میں ساتھ دے رہے ہیں اور بس. آپ نے ان میڈیسن کا انتظام کرنا ہے لیکن اس شہر سے کسی صورت میں نہیں”. نمرہ نے ایک پرچی تھمائی. اوکے میں دو دن میں لا دوں گا. لیکن چھوٹو اپنا بہت خیال رکھنا. مسلسل رابطے میں رہنا. عدن کے چہرے پر تھوڑا سا ڈر تھا. بھیا بے فکر… سائیکالوجی کے مطابق ایک ایک چیز پر فوکس کریں گے.
____________
ایس ایم ٹیم کی تیاری مکمل ہو چکی تھی. ان کو سم مل چکی تھی. وہ آسانی سے فیک اکاؤنٹ تیار کر چکی تھی. ہر پیج کو لائک کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقوں کے سب لوگوں کو فرینڈ بھی بنا چکی تھی. فیکس اکاؤنٹ تمام ایپس پر تیار ہو چکے تھے. ٹیم آئی ڈی نے اپنی ضرورت کا سارا سامان جمع کر لیا. خریدنے کے بجائے گھروں سے ہی سامان جمع کیا تا کہ وہ کسی قسم کے ثبوت نہ رکھ سکیں.ٹیم ایف ایم کی تیاری بھی مکمل تھی بس بہنوں کو حلف اٹھوانا اور نمرہ سے ملاقات کروانا باقی تھی.”نمرہ کل تم ان تینوں سے مل لو”نمرہ کو ٹیم ایف ایم کا میسج ریسیو ہوا.”اوکے ڈن”.
____________
بینیش نے ان لوگوں کے تمام کارنامے پتا لگا لیے تھے معمولات بھی اکھٹے کر لیے تھے کہاں کس کو ٹریپ کیا جا سکتا ہے. الگ الگ کے بجائے دو شکار کر کے ان چھ لڑکوں کا کام آسان کر دینا ہے. اس ایس ایچ کو شرافت کا بتانا ہے. اگر یہ شرافت اور عزت داری ہے تو بے حیائی اور غنڈہ گردی کیا ہے.. ؟نمرہ نے روم میں پہنچتے ہی کاسٹیوم پہن لیا تھا. لینس ڈال کر اس نے چہرے چھپا لیا تھا.

ان سے باری باری اسی طرف حلف لیا.”اپ لوگ اپنے بھائیوں کے خلاف جا رہی ہیں”نمرہ نے تصدیق چاہی.جی معلوم ہے مگر کیا کریں جن کی ہم غیرت ہیں ان میں غیرت ہی باقی نہیں رہی ہے “.ہم آپ کے ساتھ ساتھ ہیں at least اس سبق کے بعد ہمارا فیوچر تو برائٹ ہو گا.گڈ. آپ لوگ اس عرصے میں selfish ہو جاؤ. ابھی پچھلے دنوں ہی آپ نے دیکھا ہو گا “ماں اور بیٹی کو قتل کر کے الٹا لٹکا دیا ہے غلطی کس کی ہے ان کے بیٹے کی. کرتا کوئی ہے اور بھگتنا کسی اور کو پڑتا ہے. آپ لوگوں کا مستقبل کہیں ویسی لاشوں جیسا نہ ہو”نمرہ ان کے ذہنوں میں خوف برقرار رکھنا چاہتی تھی.”خوف ان کے چہروں پر جھلکتا صاف دکھائی دے رہا تھا “.چلو تو ٹھیک ہےسنیں آپ نے کیا کیا کام سر انجام دینا ہے.مایا سیٹھی تمہارا بھائی ہے نا… اور یہ ہمیں بھی معلوم ہے سیٹھی کی دوستی ولید اور رانا کے ساتھ ہے. ولید اور رانا کو ہم ایک ساتھ سیٹھی کے ساتھ تمہارے گھر پر شکار کریں گے. مناسب وقت اور ان کی آمد کی تفصیل تم ہمیں دو گی.. ہماری انفارمیشن کے مطابق سیٹھی روز شام کی چائے ولید اور رانا کے ساتھ اپنے گھر پر پیتا ہے اور اس وقت تم اور تمہاری امی موجود ہوتی ہیں. ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے آج شام یہ شکار کرنا ضروری ہے…..یہ میڈیسن ہاف ہاف تم نے چائے میں ملا دینی ہے. ٹیم آئی ڈی تمہارے گھر پر گروپ اسٹڈی کے لیے جائے گی اور میں تمہیں بعد میں ملوں گی.

ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. یہ سب بس بھروسہ کی گیم ہے اس سے زیادہ کی امید نہیں ہے. حلف کے بعد جس جس کا ایمان لرزے وہ اپنا احتساب شروع کرے. گل بانو اور کرشمہ آپ لوگوں کو کل آپ کا کام سونپا جائے گا.آج شام مایا نے آئی ڈی ٹیم کو اپنے گھر تین بجے کے قریب بلا لیا تھا. اپنی امی کو بولا کہ کل کے ٹیسٹ کے لیے گروپ سٹڈی کرنی ہے اور یہ دونوں اس کی دوستیں ہیں. مایا کی امی ویسے ہی شام کو تین گھنٹے ریسٹ کرتی تھیں. انہوں نے کام آسان کر للدیا تھا. گروپ سٹڈی کے دوران بالکل ان کو ڈسٹرب نہ کیا جائے مایا اپنی والدہ کو بتا چکی تھی.”امی آپ جا کر سو جائیں. سیٹھی بھائی کو چائے میں بنا کر دے دوں گی. ویسے بھی فرینڈز کے لیے اچھے سے انتظام کروں گی تو”مایا نے امی کو اعتماد میں لیتے ریسٹ کے لیے کمرے میں بھیج دیا.آئی ڈی اپنا کام شروع کر چکی تھی ان نے مایا کے کمرے میں سب سے پہلے پردے لگانا شروع کیے جو بے حد میلے اور گرد آلود تھے. پھر ایک کونے کو مکمل خالی کر کے نیچے بیگ میں لائی ہوئی گرد آلود دری بچا دی. دیوار پر جگہ جگہ ایسے اسٹیکر لگا دیے جس سے محسوس ہوتا تھا دیوار خستہ حال اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے اور پھر ییلو کلر کی لائیٹ کو پردے کے ایک کونے پر لٹکا دیا. کچھ ہی دیر میں سارا انتظام مکمل کر لیا تھا. ان پردوں کے درمیان کم جگہ میں اندھیرا اور ییلو رنگ کا امتزاج اس جگہ کو بہت ڈراؤنا بنا رہا تھا.

نمرہ اور ثمن بھی پہنچ چکی تھی. اس نے لکڑی کے ایک ڈنڈے کو آگے سے موٹے سے کپڑے سے اچھے سے کور کیا.ثمن نے بھائی کا اچھا والا کیمرا اٹھا کر لایا تھا جو اندھیرے میں بھی ویڈیو اچھے سے کور کر سکتا تھا. چوں کہ بھائی یہ کام کرتا تھا تو اس کو سیٹ کرنا چلانا اس کے لئے مشکل نہیں تھا. سیٹھی معمول کے مطابق اپنے دوستوں کے ساتھ تشریف لا چکا تھا.”مایا چائے بنا دو میری گڑیا. پھر جا کر پڑھتی رہنا”.مایا نے کچن سے آواز لگائی.”سیٹھی میں ڈال رہی ہوں آ کر لے جاؤ.”نمرہ کمرے میں سوچ رہی تھی “کاش باقی لڑکیاں بھی ان کے لیے گڑیا ہوتی ان کی بہنوں کی طرح. تو آج یہ کرنے کی نوبت نہ آتی.مایا نے آدھی آدھی گولی چائے میں اچھے سے ملا دی تھی.یہ ایک نشے آور گولی تھی. جس کی تھوڑی مقدار سے بندے کو پہلے سر بھاری محسوس ہوتا ہے اور پھر وہ بے ہوش ہو جاتا ہے. آدھے گھنٹے میں ہوش میں آنے کے بعد انسان غنودگی کا شکار ہوتا ہے. وہ بات تو کرتا ہے مگر مکمل ہوش میں آنے تک وہ اس دوران ہونے والے تمام سلسلے کو مکمل طور پر بھول چکا ہوتا ہے. سیٹھی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہا تھا. اچانک ہی سب کی آنکھیں دھندلانے لگی. نمرہ اپنا حلیہ تبدیل کر کے اندر آ چکی تھی اس نے تینوں کے سر پر موٹے کپڑے سے بنائے ہوئے ڈنڈے سے ہلکا ہلکا سا وار کیا. سر تو پہلے سے بوجھل تھا اس ٹکر سے ان کو محسوس ہوا جیسے کسی نے پوری قوت سے ان کے سر پر وزنی چیز دے ماری ہو..

اگلے ہی لمحے تینوں بے ہوش تھے. آدھے گھنٹے بعد غنودگی میں آ جاتے.اس آدھے گھنٹے میں ان کو گھسیٹ کر مایا کے کمرے میں تیار کردہ جگہ پر پہنچانا تھا.اب وہ پانچ مل کر ان کو گھسیٹ کر کمرے میں پہنچا رہی تھیں. مایا باقی چیزوں پر دھیان رکھے ہوئے تھی.آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ ہلکی ہلکی آنکھیں کھول رہے تھے. لیکن غنودگی کے عالم میں تھے.نمرہ ساتھیوں کے ساتھ حلیہ بدل کر ان کے ساتھ موجود تھی. مردانہ اسٹائل میں تیار آنکھوں میں گہرا کالا آئی شیڈ لگا کر ، بازو میں بڑی بڑی زنجیریں باندھے، ہاتھوں پر موٹے دستانے چڑھائے، الگ الگ رنگ کے کوٹ پہنے ان کو لڑکیاں سمجھنا بے حد مشکل تھا.ثمن کیمرا آن کر چکی تھی.ہوش میں آتے ہی نمرہ اور آئی ڈی ٹیم کی دو لڑکیوں نے ان کو کک رسید کی.”ارے شہزادوں. …. کیا ہے نا. تم بڑے لڑکیوں کو چھیڑتے ہو نا ٹو ہم بڑا تنگ ہیں. تو ہم چاہٹے ٹم اپنے کاڑنامے بکو. ٹاکہ ہماڑی بہنوں کو نہ چھیر سکو. جب ہماڑی بہنوں کو تنگ کرو تو تمہیں بلیک میل کرنے کے لیے کچھ ہو میڑے پاس”.الگ اسٹائل میں بولتے نمرہ نے اپنی بات مکمل کرتے ولید کو بالوں سے پکڑ لیا. باقی دونوں کے بال بھی لڑکیوں کے ہاتھ میں تھے.ان کو شدت سے درد محسوس ہو رہا تھا ان کو کچھ سمجھ آ رہا تھا اور کچھ نہیں. یہ سب اثر صرف گولی کی وجہ سے تھا.

لیکن وہ ابھی تک خاموش تھے.نمرہ نے آنکھ سے باقی دو لڑکیوں کو اشارہ کیا. تو ان نے سیفٹی پن ان کی کمرے میں چبھوئی. ان کو لگا کسی نے خنجر کمر میں اتار دیا ہو.نمرہ واپس بول رہی تھی”اڑے بابا بولنا شڑوع کرو نا. نہیں ٹو جان ٹو پیاڑی ہو گی نا بابا”.اس کے ساتھ ہی پن کو تھوڑا اندر اتار دیا.وہ چیخے مگر آواز بہت دھیمی تھی.آواز بلند نہیں نکل سکتی تھی. اس دوا نے آواز پر بھی گہرا اثر کیا تھا. اس کی وجہ سے ووکل کارڈ متاثر ہوتے ہیں آواز زیادہ مقدار میں دوا لینے سے بند ہو جاتی ہے.وہ تینوں آہستہ آہستہ ساری کہانی سنا رہے تھے کیسے لڑکیوں کو چھیڑتے. شکایات کرنے پر ان کے خاندان والوں کا کیا حال کیا جاتا ہے. ولید کا باپ کیسے اثر و رسوخ استعمال کر کے پولیس کو انگلیوں پر نچاتا ہے. “سب ریکارڈ ہو چکا تھا.اب نمرہ نے ثمن کو اشارہ کیا تو وہ تین انجکشن لے کر آ چکی تھی.ان تینوں کو وہ انجکشن لگائے وہ اپنی طرف سے منع کرنے کی مکمل کوشش کر رہے تھے لیکن ان کے منہ میں کپڑا ٹھونسا جا چکا تھا.انجکشن کے زیر اثر وہ لوگ دوبارہ بے ہوش ہو گئے. مایا نے اتنی دیر میں ان کے کپ سے چائے گرا کر دوبارہ سے آدھا آدھا کپ بھر کر رکھ دیا. تاکہ کوئی ثبوت نہ ملے. وہ اپنے بھائی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی مگر بہت سہمی ہوئی تھی. کچھ دن پہلے ہونے والے واقعہ نے سب ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا تھا.ان لوگوں کے ہاتھ کھول کر ان کو واپس کمرے تک پہنچایا تھا.

اب نمرہ اور ثمن جیسے آئی تھی. ویسے لوٹ گئیں.وہ تینوں اپنے سامان کو سمیٹ کر بیگ میں ڈال کر واپس سے بیٹھ کر نمرہ کے ساتھ پڑھنے لگی.اچھا آنٹی ہم چلتے ہیں کافی وقت ہو گیا. گھر والے پریشان ہو جائیں گے.تینوں نے مغرب کی اذان کے وقت اجازت چاہی.”کھانا کھا کر جاتی تو زیادہ اچھا لگتا.”مایا کی امی نرم مزاج اور مہربان خاتون تھیں انہعں نے روکنا چاہا.”پھر کبھی ان شاء اللہ ضرور. اللہ حافظ”وہ جا چکی تھی.ولید، رانا اور سیٹھی ہوش میں آ چکے تھے لیکن مکمل ہوش میں آنے کے لئے تین دن درکار تھے. انجکشن میں دیا جانے والا نشہ انسان کو ہوش میں آنے کے بعد بھی ذہنی طور پر بے ہوش ہی رکھتا ہے.رانا اور ولید اپنے گھروں کو جا چکے تھے. لیکن ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی اس تھوڑے وقت میں اگر کچھ ہوا تو کیا ہوا تھا ان کے ساتھ.ان تینوں کو آہستہ آہستہ بخار چڑھ رہا تھا.اگلے دن یہی مشن گل بانو کے گھر انجام دیا گیا. کرشمہ کے ذمے گل بانو کی مدد کرنا لگایا گیا تا کہ وہ دونوں مل کر کام کر سکیں. گل بانو اور کرشمہ کزن تھیں. ان کے بھائی حسنین اور احمر عادل کے چیلے تھے اس کی سربراہی میں کام کرتے نشہ کرتے اور پیسے کی ریل پیل عادل کی طرف سے ان کے لیے تھی. عادل کا باپ چونکہ کاروباری آدمی تھا تو گھر میں وقتاً فوقتاً لوگوں کی آمد رہتی. تو وہ ولید کو گھر سے باہر سر گرمی جاری رکھنے کا کہتا تھا. عادل کی خوب سیوا کیا کرتے تھے.

عادل کی آمد پر گھر والوں سے طرح طرح کے لوازمات کرواتے تھے. جس دن گھر والے کسی تقریب میں جاتے تو ان کی موجیں ہوتی. کھل کر شراب نوشی کرتے.خوشی قسمتی سے کرشمہ اور گل بانو کے گھر والے دور کسی عزیز کی موت پر گئے ہوئے تھے. نہیں تو مشن ابھی مکمل. نہ ہو پاتا. کسی تقریب کا انتظار کرنا پڑتا.گل اور کرشمہ دونوں نے وہی گروپ سٹڈی کا بول کر سب گھر والوں سے ان کو متعارف کروایا.کام اسی طرح آسانی سے تکمیل کو پہنچا.
_____________
آج نمرہ پھر اسی روم میں سب کے ساتھ موجود تھی. ٹیم ایف ایم، ٹیم آئی ڈی، بینش مایا، گل بانو اور کرشمہ آپ کا کام ختم ہوا. آپ کے بھائیوں کو تین دن بخار رہے گا. آپ فکر نہ کریں. تین دن بعد 104 ڈگری کا بخار ختم شد۔ اور ہاں راز راز ہی رہے. راز کھولنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ آپ کی دوائیاں ملانے کی ویڈیو ہمارے پاس ہے اگر آپ کے غیرت مند باپوں کو مل گئی تو سولی پر لٹکا دیں گے. Secure اینڈ save ریسپکٹ فل فیوچر مبارک ہو. آپ کو بہت بڑی پارٹی ملے گی اور تحفے بھی لیکن مشن ختم ہونے پر.

ہمیں یہ سب کر کے بہت خوشی ہوئی بہت انجوائے کیا خود کو پاور فل جانا ایسے کسی بھی کام کے لیے ہم ساتھ ہیں۔اوکے گائز بیسٹ آف لک آپ اب جائیں. وقت کم ہے باقی کچھ معاملات ڈسکس کرنے ہیں.جن کا کام مکمل ہو چکا تھا وہ جا چکی تھیں.اب ٹیم ڈی بی اور ٹیم ایس ایم موجود تھی.اب اس ایس ایچ او کی باری ہے. اس سے بہت حساب چکتا کرنے ہیں. اس گھٹیا کو بتانا ہے صیح سلامت بندے کی سننی چاہیے. لٹی پٹی عزتوں کے ساتھ بیٹیاں تھانوں میں نہیں قبرستان جایا کرتی ہیں.نمرہ اپنے سے باتیں کرنے کے بعد اب ٹیمز سے مخاطب تھی.”ٹیم ڈی بی آپ لوگوں کا انتخاب کرنے کی خاص وجہ تھی. ارینا اور اقصی آپ کو میرے ساتھ جاتے ہوئے ان لڑکوں نے چھیڑا ہوا ہے تو اگر آپ تھانے رپورٹ کروانے کے لیے جائیں گی تو اگر رپورٹ درج بھی ہو گئی تو سچی بات ہی ہو گی. منیبہ اور مرینہ عادل، حسنین لوگ تو آپ کے پیچھے سیٹیاں بجاتے اور نمبر مانگتے آپ کے محلے تک گئے تھے. موٹر سائیکل پر آپ کا پیچھا کیا تھا ان کو آپ کے بھائیوں سے مار بھی پڑی ہے تو آپ کی رپورٹ جھوٹی نہیں ہے.مجھے یقین ہے کہ کانسٹیبل رپورٹ نہیں درج کرے گا. پھر آپ نے ایس ایچ او کے پاس جانا ہے وہ رپورٹ نہیں درج کرتا۔ اس کے بارے میں کافی جانکاری حاصل کرنے کے بعد مجھے ایسا لگتا ہے. لیکن اگر کر گیا تو آپ کی رپورٹ تو سچی ہو گی. لیکن پلان فلاپ ہو جائے گا.تو آپ نے رپورٹ درج کراتے ہوئے بہت ڈرے اور سہمے انداز میں رہنا ہے.

یوں لگنا چاہیے آپ گھر والوں سے چھپ کر گئی ہیں اور لڑکوں کو اندر کروانا چاہتی ہیں. اس حالت میں دیکھ کر ایس ایچ او آپ کو ڈرائے گا واپس جانے کا اور خاموش رہنے کا کہے گا.آپ نے اس سے ہلکی سی بحث کرنی ہے اور واپس آ جانا ہے.آپ کا یہی کام ہے.ان کو کام سمجھانے کے بعد نمرہ نے ان چاروں کو دو پین دیے. یہ رکھ لیں. ان کا کیا کرنا ہے…؟ کل جانے سے پہلے مجھ سے پوچھ لینا. ان کو حفاظت سے رکھیں کسی کی نظر نہ پڑ سکے.” ” آور ٹیم ایس ایم آپ کل شام مجھے میرے گھر پر مل رہی ہیں.”اب آپ سب لوگ جاؤ.کل ملتے ہیں.” دعا کرنا یہ بازی ہم ہی جیتیں اب کی بار مات نہیں لیں گے مات دیں گے.”

______________
نمرہ کو چاروں نے بتا دیا تھا آج وہ تھانے جا رہی ہیں.نمرہ نے ان کو میسج کیا ان پین کو ہاتھ میں پکڑے رکھنا. جب کانسٹیبل اور ایس ایچ او سے باتیں کریں گی باقی کیا کرنا ہے سب سمجھا دیا.السلام علیکم سر” ہم ولید اور عادل کے گروپ کے خلاف رپورٹ لکھوانے آئیں ہیں. ان نے ہمارے لیے بہت مشکل کھڑی کر دی ہے ہمارے گھر والے ہمیں کالج سے اٹھا لیں گے. تھانے میں بھی نہیں آنے دیتے ہیں آج بڑی مشکل سے چھٹی ہوتے فوراً ادھر آ گئی ہیں.”

منیبہ نے کہا کانسٹیبل پہلے ہی بڑا بے زار بیٹھا تھا. ارے بیبیوں معاف کرو روز رولے لے کر آ جاتی ہو. اتنا رولا ہے تو آرام سے گھر بیٹھ جاؤ.
جاؤ یہاں سے.مرینہ نے سنتے ہی کہا.ٹھیک ہے معاف کیا تمہیں خالی دماغ انسان. ہم ایس ایچ او کے پاس جا کر تمہاری شکایت کرتی ہیں. تم نہ سدھرے بچو تو میرا نام بدل کر رکھ لینا.آؤ یار چلیں. ان چھوٹے لوگوں کو منہ ہی نہیں لگاتے. سیٹی بجاتے مرینہ ایس ایچ او کے آفس کی طرف چل دی.باقی اپنے بیگ سنبھالے اس کے پیچھے چل دی.

ایس ایچ او کو وہی رٹی رٹائی کہانی سنائی.جیسا سوچا تھا بلکل ویسے ہی ایس ایچ او نے رویہ اختیار کر رکھا تھا.تھوڑا ڈانٹا، ڈرایا اور ایف آئی آر کے بجائے کالج چھوڑنے کے مشورے دیے. تین چار نغمے شرافت کی اور چار پانچ غزلیں ان کے خاندان والوں کے حسب و نسب اور نسل کی سنائی. چند اک ڈائیلاگ لابالی پن کے سنائے. کچھ رٹے رٹائے جملے ان لڑکوں کے شریر پن اور شوخی کے سنائے.اقصی لوگوں نے تھوڑی بحث کی اور پلٹ آئی.
گیٹ سے باہر نکلتے سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے آنکھ ماری. مٹھی میں قلم کو زور سے جھڑک کر چاروں نے ہاتھ ملائے.
وہ جا ہی رہی تھیں. پیچھے سے تھانہ سے ایس آئی حامد آتا نظر آیا.ان کو اشارے سے روکا.پاس پہنچ کر کہا.”بیٹیوں مجھے فخر ہے تم پر. میں اس وردی میں ہو کر جو نہیں کر سکا. وہ تم لوگ کرنے جا رہی ہو. مجھے کچھ مجبوریوں نے روکے رکھا ورنہ یہ نوکری چھوڑ چکا ہوتا. یہ spy pen camera بھی لے جاؤ. اس ایس ایچ او کے کچھ کالے کرتوتوں کی ریکارڈنگ اور اس کی رشوت کی کچھ ویڈیو میں نے بھی بنائی تھی کہ کبھی وقت آیا تو ضرور بے نقاب کروں گا. چونکہ میں استعمال کر رہا تھا اسپائے کیمرہ تو مجھے آپ کے قلم دیکھ کر پہلے شک ہوا مگر جب آپ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائی تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ وہ کرنے آئی ہیں جو آپ کے لیے درست ہے. یہ کیمرہ لے جائیں تاکہ آپ پر شک نہ جائے. اکیلی وہی ویڈیو آپ کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے.

بیٹی آپ کے کام کو سلیوٹ. مجھے نہیں معلوم آپ کی کیا پلاننگ ہے مگر آپ نے کچھ بہترین ہی سوچا ہو گا جو ایس ایچ او کو بے نقاب کرنا چاہ رہی ہیں.”بیسٹ آف لک اللہ حافظیہ کیمرہ رکھ لیں اور کام جاری رکھیں. اس بے وقوف اندھے ایس ایچ او کی آنکھوں پر خیانت کی پٹی تھی. سمجھ نہیں پایا سامنے ڈرنے والی نہیں اسے اڑانے والی آ چکی ہے. مجھے آپ کو سمجھانے بھیجا ہے تاکہ آپ ڈر کر اس کا راز کسی کو نہ بتائیں”.نم آنکھوں سے ان نے شکریہ ادا کیا.وہاں سے پلٹ آئی.اس مشن کا حصہ ہونا آج ان کے لئے باعث فخر تھا.ایس پی حامد نے جا کر کہا. سر میں ان کو سمجھا آیا. سمجھدار لگتی ہے اور ویسے بھی بتائیں گی کس کو گھر والوں سے چھپ کر آئی تھیں. الٹا میری منتیں کر کے گئی ہیں.ہاہاہاہاہاہا ایس ایچ او نے اپنے خبیث دانت نکالے.
______________
آج صبح ویسے ہی تھی نورالدین اس دن کے واقعہ کے بعد آج بھی نمرہ کو خود کالج چھوڑ گیا.تقریباً دس بجے کا وقت تھا کلاس ٹیچر کو دوسری ٹیچر نے پکارا. پاس آ کر کچھ کانوں میں کہا اور فون نکال کر کچھ دکھایا اور باہر چل دی.سب ٹیچرز فون پر کچھ دیکھ رہی تھی. کلاس میں کوئی نہیں تھا.
نمرہ لوگ بھی گراونڈ میں آ گئے.سب تجسس میں تھے آخر کیا ہو رہا ہے.

سوائے انیس لڑکیوں کے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی. آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کر کے ایک پر سکون سانس لے رہی تھیں.
ایس ایم ٹیم نے تمام اکاؤنٹس نمرہ کے گھر پر عدن بھائی کے حوالے کیے. عدن بھائی نے اپنے لیپ ٹاپ میں تمام سوشل ایپس انسٹال کر کے کوڈز ڈال کر اکاؤنٹ اوپن کیے اور پلان کے مطابق لڑکیوں کے کالج جانے کے بعد ان لڑکوں اور ایس ایچ او کی تمام ویڈیو جو باقاعدہ ایڈٹ کی جا چکی تھی.سب ایک ساتھ فیک اکاؤنٹس سے تمام ایپس میں جاری کر دی.ہر شخص کارنامے دیکھ رہا تھا. فیس بک پیجز سے لائیو جاری کیا تھا. تمام پیجزز، گروپ میں شامل کرنے کے بعد ٹویٹر، لائکی، ٹک ٹوک، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب،اور جتنی میسر ایپس تھیں سب پر جاری تھا سب کچھ بند کروانا آسان نہیں تھا. فوراً ڈاؤنلوڈ کر کے اب ہر اسٹیٹس پر جاری تھی.ویڈیوز مکمل ہونے کے بعد موٹے الفاظ میں ایک ہی جملے کی پٹی چل رہی تھی.

“now Game is over.”
تم اپنے عقیدوں کے نیزے
ہر دل میں اتارے جاتے ہو
ہم لوگ محبت والے ہیں
تم خنجر کیوں لہراتے ہو
اس شہر میں نغمے بہنے دو
بستی میں ہمیں بھی رہنے دو
ہم پالنہار ہیں پھولوں کے
ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو پینے آئے
ہم پیار سکھانے والے ہیں
اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے
جب حرف یہاں مر جائے گا
جب تیغ پہ لے کٹ جائے گی
جب شعر سفر کر جائے گا
جب قتل ہوا سر سازوں کا
جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا
پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں
جب دیکھو گے ڈر جاؤ گے
(احمد فراز)

اپنا تبصرہ بھیجیں