دلیل حجاب – قاری راشد




دیکھیں حجاب کی سب سے بڑی دلیل تو یہ ہے کہ:
جنت کی عورتوں کی سردار جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری زوجہ محترمہ حضرت امی عائشہ صدیقہ نے حجاب پہن کر تمام امت مسلمہ کی عورتوں کو پیغام دے دیا کے حجاب ضروری ہے۔ حضرت فاطمتہ الزہرا جیسی پاک دامن خاتوں نے حجاب پہن کر ثابت کیا ہے کہ حجاب ضروری ہے۔

آگے کچھ نوجوان لڑکیاں کہتی ہیں کہ آنکھ کے اندر اور اور دل میں حیا ہونی چاہیے۔ میرا ان کو یہ جواب ہے کہ آپ میں اتنی پاک دامنی نہیں جیسا کہ میں اوپر امی عائشہ صدیقہ اور حضرت فاطمتہ الزہرا ذکر کر چکا ہوں۔ یہاں ایک مثال لے لیں۔ آپ اپنے مٹھی میں چند کنکریاں لیں اور آپ کسی اجنبی سے پوچھ لیں کے میری مٹھی بند ہے آپ بتائیں اس کے اندر کیا ہے تو مختلف چیزوں کا آپ کو کہیں گے کہ آپ کی مٹھی میں سونا ہے یا چاندی ہے اور ہیرا ہے۔ یا فلاں یا فلاں۔ حالانکہ جب آپ نے مٹھی کھول کر دکھائی تو اس کی عقل اس وقت دنگ رہ جاۓ گی جب اس نے آپ کے ہاتھ میں کنکریاں دیکھ لیں۔

یہی ایک مثال باپردہ خاتون کی ہے۔ کیونکہ پردہ بھی کنکریوں کی مانند ہے۔ جب آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈاھنپا ہوا ہے، آپ پر اسی طرح کا اندازہ لگایا جائے گا۔۔۔ سونے کا، چاندی کا، ہیرے کا! تو آپ کو اسی طرح سے دیکھا جاۓ گا، سونا، چاندی یا ہیرے کی طرح! یوں آپ کا پتہ چل جاۓ گا کہ آپ ہاتھ میں تو کنکریوں کا ڈھیر ہیں، تو آپ کی عزت پار پار ہو جاۓ گی۔

بہرکیف بھت دل کر رھا لکھنے کو۔ مگر وقت کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی کافی ہے۔ بس اللہ پاک ہماری خواتین کو صحیح معنوں میں حضرت امی عائشہ صدیقہ جیسا اور فاطمتہ الزہرا جیسی حیاء اور غیرت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں