بیچارہ بکرا – مدیحہ صدیقی




بقرعید کا موسم آیا
عادل اپنا بکرا لایا
اسُ کے نخرے روز اٹھاتا
چارا اسُ کو خوب کھلاتا

ہرے بھرے وہ پتے کھاکر
خوش ہوتا وہ دمُ کو ہلا کر
ایک دن,دو دن, تین دن, چار دن
کھاتا تھا وہ چارا ہر دن
عادل نے جب حال یہ دیکھا
دل میں اپنے اسُ نے سوچا
کھاتا ہوں میں چاول بوٹی

کھاتا ہوں میں دال اور روٹی
تکےّ کھاکر,برگر کھاکر
خوش ہوتا ہوں پزّا کھاکر
اور یہ کھاکر اپنا چارا
چپُ ہوجاتا ہے بے چارا
بھوک نہ ہوتی ہوگی دور
ہوجاتا ہوگا یہ بور

اس کا دل بھی چاہتا ہوگا
چارا بھوسا کَھلتا ہوگا
دیکھ کر یہ سب اسُ نے سوچا
کھانا دوں گا اِس کو اچھا
یہ جو سب کچھ کھائے گا
موٹا تگڑا ہو جائے گا
بھاگ کر لایا سجیّ روسٹ

نمکو,جوس اور فرنچ ٹوسٹ
بکرے کے آگے پھر رکھا
بکرے نے پر کچھ نہ چکھا
بھوک کے مارے شور مچایا
سارے گھر کو سر پر اٹھایا
میں میں, میں میں کرتا رہتا
کوئی چیز نہ منہ میں رکھتا
بابا دوڑے,بھیّا دوڑے

دیکھ کر یہ سب سر کو پیٹے
بکرا کھانا کب کھاتا ہے
یہ تو بس چارا کھاتا ہے
اس کو ملے پتوں میں لذت
بھوسی سے ملتی ہے طاقت
چارا کھا کر خوش ہوتا ہے
تم سے وہ کب کچھ کہتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں