شہیدانِ وطن – سیدہ رومیصا رضوان




شہیدان وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل، وہاں پر شکر کیا کرتے جہاں صبر تھا مشکل” وطن کی محبت جزؤ ایمان ہے اور قوم اور وطن کا رشتہ اٹوٹ اور دائمی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک و وطن کی خدمت کرنے والے ہمیشہ ہی تاریخ میں عزت و احترام سے یاد کیے جاتے ہیں وطن عزیز کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی دلانے کےلئے تن، من، دھن کی بازی لگا دینے والے وطن کے خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دینے والے شہیدان وطن کا رتبہ پاتے ہیں

وطن کی آزادی کےلئے ہزاروں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ان خون بہانے والے اور پھانسی کے پھندوں پر جھولنے والے مایہ ناز سپوتوں میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے
“جو وطن کے واسطے کٹوا کے اپنے سر گئے،
خون سے اپنے رنگ تصویر وفا بھر گئے”

شہیدان وطن نے اپنے لہو سے اس چمن کو سینچا اور خونجگر سے اس گلشن کی آبیاری کی جوانیوں نے اپنی جوانیاں لوٹائی، ماں نے اپنے جگر گوشے قربان کئے، کتنے ہی معصوم پھول مرجھائے بے شمار عفت و عزت کرخی ہوئے گھر بار قربان ہوئے مال و دولت ہاتھوں سے دھونے پڑے ہجرت کی صعوبتیں سہنا پڑی ہر دکھ درد کے راستے سے گزر کر یہ ملک پاکستان وجود میں آیا
“محبت ہے انھیں کچھ فکر نہیں جاں کی،
جئے تو گازی ہوتے ہیں مرے تو گود میں ماں کی”

اللہ تعالیٰ کا کیسی انسان کو محبت کے مرتبے پر منتخب کر لینا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انسان سے راضی ہے اللہ تعالیٰ خود قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ “اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا کیا” شہید اللہ کے خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتاہے آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی خواہشات اور دین اسلام کے خاطر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے
“ہر کیسی کو میسر نہیں شہادت کا رتبہ،
یہ عزم ہے مٹی کے لیے قربان ہونے والے کا”

آج سے ترپن سال قبل پاک فوج نے دشمن فوج کے بڑدلانہ حملے کو شجاعت اور جوان مردی سے ناکام بناتے ہوئے اپنی جانیں اپنی مادر وطن پر قربان کی ان شہیدا کی قربانی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے 1965 اور دیگر جنگوں میں آزادی کے خیال رکھتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے جب رات کے اندھیروں میں طاقت کے اندھیروں چور مقدس سر زمین پر حملے آور ہوا اور شیر دل جوانوں نے ان کے ناکام ارادوں کو خاک میں ملا دیا

“رگوں میں ہے جنوں میں ہے،
وطن کا عشق خون میں ہے،
جو بیٹے ہیں وطن تیرے،
وطن ان کے لہو میں ہے”

1965 اور 1971 کی جنگ کے جنگ کے مقام پر دشمن کی حار جیت کا مکمل جوش و جذبے سے جواب دینے کے کے خاطر ہزاروں فوجیوں نے شہادت کا رتبہ پایا قدم کو ان شہیدانِ وطن پر فخر ہے ان سر فروشوں کو ایک ہی لگن تھی کہ وہ ملک اور قوم کی خاطر اپنی جانے قربان کردیں اور شہید کا سر پر تاج سجایں
“اے راہ حق کے شہیدوں وفا کے تصویروں,
تمہیں وطن کئ صدایں سلام کہتی ہیں”

اپنا تبصرہ بھیجیں