شکر گزار لڑکی – حافظہ کشف الدجیٰ




چلو اس شہر چلتے ہیں
تقدیر کو پھر آزماتے ہیں

لیانا بیگم نے قدم جس وقت کمرے میں رکھے تو حمزہ صاحب کو گہری سوچ میں گم پایا ۔”کیا سوچ رہے ہیں آپ ؟” لیانا بیگم نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔وہ جو بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے لیانا کو دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئے۔”کچھ نہیں !” لیا نہ میرا وہ جو دوست ہے خالد اس نے اپنے بیٹے کا رشتہ ڈھونڈنے کا کہا ہے حمزہ صاحب نے اپنی بیوی لیا نا سے کہا ۔لیا نہ تھوڑی دیر بعد سوچ کر بولی “کیوں نہ ہم اپنی بیٹی کے بارے میں بات کریں ہماری بیٹی بھی تو جوان ہے لڑکا اچھا اور شریف ہے ۔””دیکھ لو ویسے میں بھی تم سے یہی کہنے لگا تھا” حمزہ صاحب نے کہا.”ٹھیک ہے تو پھر ہم ابھی چلتے ہیں” لیانا نے کہا۔”ٹھیک ہے ” حمزہ صاحب نے حامی بھر لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ نے جس وقت گاڑی گھر کے پورچ میں کھڑی کی۔ شام خاصی گہری ہو چکی تھی۔ لیانہ بیگم اور حمزہ صاحب گھر پر نہیں تھے۔ وہ اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔رات کے دس بجے تھے جب لیانہ بیگم اور حمزہ صاحب گھر تشریف لائے گھر پر کھڑی گاڑی اس بات کا ثبوت تھی کہ فاطمہ گھر آ چکی ہے دونوں میاں بیوی تھکن سے چور جب اندر قدم بڑھانے لگے تو فاطمہ کی آواز پر رک گئے۔”بہت خوبصورت لگ رہے ہیں آپ دونوں ماشاءاللہ ۔” فاطمہ نے اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتے ہوئے تعریف کی.”تمہارا رشتہ دیکھ کر آئے ہیں فاطمہ ۔”لیانا بیگم نے فاطمہ سے کہا.”اچھا جی۔” فاطمہ بہت خوش ہوئی.”ویسے وہ ہے کون؟” فاطمہ نے پوچھا.”تمہارے پاپا کے دوست کا بیٹا ہے ویسے ۔”لیانا بیگم نے بتایا۔”دوست ۔۔۔کون سے دوست کا بیٹا۔۔۔ اور اس کی عمر کتنی ہے۔۔۔ کیا کرتا ہے ۔۔۔اور کون ہے؟؟؟” فاطمہ نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ریحانہ بیگم اس کے بیجا سوالوں پر مسکرائی اور اسے کہا رات کافی ہو گئی ہے سو جاؤ۔ بقیہ باتیں کل۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمین نہایت امیر گھرانے کا چشم و چراغ تھا کپڑوں کا بزنس کرتا تھا جو اس کے باپ کا تھا اب وہ سنبھال رہا تھا اس کے پاس پیسوں کی کمی نہیں تھی وہ خوبصورت تھا اپنے والدین کا فرمانبردار تھا وہ اپنے والدین کی ہر خواہش پوری کرنا اپنا اولین فرض سمجھتا تھا۔آنسہ بیگم اپنے بیٹے کے انتظار میں تھی کہ کب وہ آئے اور وہ اس سے رشتے کی بات کرے۔مگر رات کافی ہوچکی تھی اور انہوں نے صبح بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس روز جب وہ صبح کام پر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا آنسہ بیگم نے اس کے لئے دودھ کا گلاس تیار کیا اور اس کے کمرے میں دینے چلی گئی۔آنسہ بیگم نے رشتے کے بارے میں بات کی اور لڑکی کے بارے میں بتایا۔نہیں امی جان! میں اس سے کیسے شادی کر سکتا ہوں وہ اتنی چھوٹی اور میں اتنا بڑا حمین نے اپنی ماں کو انکار کردیا۔کافی دیر کمرے میں خاموشی رہی جس کو حمین نے توڑا ۔ آپ خود جاکر اس لڑکی سے بات کریں میری عمر بتائی اور پوچھیں کہ وہ اس رشتے سے راضی ہے ۔یہ کہتا ہوا وہ کمرے سے نکل کر ناشتے کے لیے میز کی جانب بڑھا۔خالد صاحب چائے پی کر فارغ ہوگئے تھے جبکہ مایا سسرال جانے کے لیے تیار بیٹھی تھی ۔اس نے سرسری ایک نظر اپنی بہن مایا کی جانب ڈا لی اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ناشتہ کرنے کے بعد اس نے عادت کے مطابق گھر والوں کو سلام کیا۔ ماں سے پیار لیا اور چلا گیا۔ ماں نے ایک پیار بھری نگاہ اپنے بیٹے پر ڈالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ صبح پڑھائی میں مصروف تھی جب لیا نہ بیگم کمرے میں آئی۔فاطمہ نے اپنی ماں کو مسکراتے ہوئے دیکھا اور کتابیں بند کر کے ایک سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیں۔ لیا نا بیگم نے بات کا آغاز کیا۔ بیٹا تم خالد صاحب کو جانتی ہوگی ایک دو بار وہ ہمارے گھر بھی آئے ہیں میں اس کے بیٹے کے ساتھ تمہارا ہاتھ جوڑنا چاہتی ہوں لڑکا محنتی اور شریف ہے اس کے پاس دولت کی بھی کمی نہیں ایک ہی بہن ہے جو شادی شدہ ہے تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی پھر لیانا بیگم نے موبائل میں تصویر نکالی۔ اور اس کو دکھاتے ہوئے گویا ہوئی۔” دیکھو بیٹا ! یہ ہے وہ لڑکا اب غور سے دیکھ لو۔”فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ لڑکا بہت خوبصورت تھا لیکن فاطمہ اتنی خوبصورت نہیں تھی اب اس کے دل میں ایک ہی بات بیٹھ گئی کہ وہ انہیں پسند آئے گی کہ نہیں۔
فاطمہ کو روتے ہوئے دیکھ کر لیانا بیگم نے پوچھا “کیا ہوا میری بچی !کیوں رو رہی ہو؟”فاطمہ بات کو چھپا گئی کچھ نہیں مما! میں اتنی بڑی ہو گئی ہوں اتنی جلدی. لیانا بیگم بھی اس بات پر تھوڑا جذباتی ہو گئیں اور ان کی آنکھوں میں بھی پانی آگیا۔فاطمہ انتہائی اچھی لڑکی تھی عمر صرف 20 سال تھی حمین اس سے سات سال بڑا تھا فاطمہ ہر کسی کا خیال رکھنے والی مہذب اور شائستہ لڑکی تھی ہر مسئلے کا حل اس کے پاس موجود ہوتا تھا۔ فاطمہ نے اپنی روتی ہوئی ماں کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھا اور کہا مما مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہے آپ میرے والدین ہیں آپ کی پسند سے بڑھ کر میرے لئے کوئی پسند نہیں اور مجھے اس کی عمر سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے مجھے لڑکا پسند ہے۔لیانہ بیگم نے اپنی بیٹی پر فخر کیا وہ ہمیشہ سے ہی اپنے ماں باپ کی لاڈلی اور فرماں بردار تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد کا فون آیا تھا وہ آج ہمارے گھر آرہے ہیں فاطمہ کو دیکھنے۔ حمزہ صاحب نے لیانا بیگم سے کہا۔ جب کہ کچن میں کھڑی فاطمہ نے بھی سن لیا تھا۔
اس کا جسم کانپنے لگا تھا اور اس نے اللہ کی طرف رجوع ہونے کا سوچا۔وہ کمرے میں گئی ،وضو کیا، جائے نماز بچھائی اور دو نفل استخارہ کی نیت سے ادا کیے اور اپنے اللہ کی طرف ہاتھ پھیلا کر بیٹھ گئی۔خوبصورت آواز کمرے میں گونجنے لگی۔الحمدللہ رب العالمین°”تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔”الرحمٰن الرحیم°”وہ رحمان اور رحیم ہے”۔مالک یوم الدین°”وہ روز جزا کا مالک ہے۔”ایاک نعبد و ایاک نستعین°”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔”اس آیت پر پہنچ کر وہ رونے لگی اللہ تو نے قرآن پاک میں خود کہا ہے کہ ہم صرف تجھ سے ہی مدد مانگیں۔ اللہ اگر وہ میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے عطا کر دے ۔اس نے اس آیت کو تین بار دہرایا۔اھدنا الصراط المستقیم°”مجھے سیدھے راستے پر چلا۔”اللھم اھدنا الصراط المستقیم°”اے اللہ! مجھے سیدھے راستے پر چلا۔”یاھادی : اھدنا الصراط المستقیم°”اے ہدایت دینے والے! مجھے سیدھے راستے پر چلا۔”وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی کمرے میں ایک سحر سا بند گیا تھا۔”وہ عالمہ بن رہی تھی پانچواں سال ختم ہو گیا تھا وہ باپردہ اور باحیا تھی. اپنے اللہ سے سچا عشق کرتی تھی کسی غیر محرم کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتی تھی.

مکمل حجاب میں وہ ڈرائیونگ کرتی تھی نہایت سمجھداری اور سلیقہ مند لڑکی تھی۔”آنسو قطار در قطار نکل رہے تھے۔صراط الذین انعمت علیہم؛”ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا۔”غیر المغضوب علیہم والضالین °”نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو غضب ہوا اور نہ گمراہوں کے راستے پر۔”(آمین)اے اللہ! مجھے ہر فتنے سے بچانا۔اے اللہ! مجھے پورے پورے پردے کی توفیق عطا فرما۔اے اللہ! آپ جانتے ہیں میں نے ہمیشہ آپ کی رضا کے لئے پردہ کیا اور میں ہمیشہ کرنا چاہتی ہوں میری مدد فرمانا۔اے اللہ! مجھے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر قائم رکھنا۔
اے اللہ! مجھے ہمیشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلانا۔یا اللہ! اس لڑکے کے والدین کو میں پسند آ جاؤں آپ جانتے ہیں اللہ تعالی جی! میرے والدین کو لڑکا پسند ہیں تو آپ اسے میرے حق میں بہتر کر دیں۔(آمین)دعا کو ختم کرکے وہ جاۓنماز سے اٹھی ، جائے نماز کو تہ کیا اور اسے ایک طرف پڑی چھوٹی میز پر رکھ دیا اب اسے آنے والے مہمانوں کے لیے تیار ہونا تھا۔اب اس کے دل میں بس ایک ہی خوف تھا جو اکثر ہر لڑکی میں ہوتا ہے کہ وہ انہیں پسند آئے گی کہ نہیں۔فاطمہ سانولے رنگ کی تھی۔ نقش اس کے تیکھے تھے ۔آنکھیں بڑی بڑی گرے رنگ کی تھیں اور چہرہ تھوڑا لمبا تھا ۔ بال لمبے اور کالے رنگ کے تھے اور قد لمبا تھا۔جبکہ حمین کا رنگ گورا تھا۔ آنکھیں چھوٹی اور کالے رنگ کی تھیں اور چہرہ چوڑا اور بال کالے تھے۔ ہینڈسم اور اسمارٹ تھا فاطمہ سے زیادہ خوبصورت تھا۔اسی طرح اس کی بہن مایا بھی بہت خوبصورت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں سرمہ لگا رہی تھی کہ مہمانوں کی آمد کی خبر ہوئی اس کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ساتھ میں دل بھی زور زور سے دھڑکنے لگا۔اسے ایک بات بار بار پریشان کر رہی تھی کہ وہ اسے پسند آئے گی کہ نہیں اس نے پھر اپنے اللہ سے دعا مانگی۔ آنکھوں سے پھر آنسو جاری ہوگئے۔اس نے اپنے آپ کو ایک بار پھر شیشے میں دیکھا۔”فاطمہ بیٹا! نیچے آ جاؤ۔ مہمان آگئے ہیں” لیانا بیگم نے آواز دی۔اس نے اس بار پردہ نہیں کیا کیونکہ لیانہ بیگم نے منع کردیا تھا لیکن اس نے دوپٹہ اچھی طرح سے لپیٹ لیا تھا تاکہ چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہ آئے اور وہ درود شریف پڑھتے ہوۓ نیچے اترنے لگی۔دوسری طرف نہ مانا اس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے مہمانوں کی نظر جیسے ہی سیڑھیاں اترتی فاطمہ پر پڑی تو سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔پیلی قمیض پورے بازو کے ساتھ جو گھٹنوں تک آتی تھی اور اس کے بازو پر ڈیزائننگ ہوئی تھی اور سفید رنگ کا دوپٹہ اور شلوار پہنی ہوئی تھی دوپٹہ اس نے چہرے کے گرد گول لپیٹا ہوا تھا ہونٹوں پر گلابی لپسٹک اور آنکھوں میں سرما۔ آج وہ واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی چہرہ پر ایک نور سا تھا جو سب کی آنکھیں چندھیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“السلام علیکم!” فاطمہ نے سلام کیا۔”وعلیکم السلام!” سب نے مل کر سلام کا جواب دیا۔آنسہ بیگم نے اپنی ہونے والی بہو کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھا جبکہ مایا کو وہ بالکل پسند نہیں آئی۔خالد صاحب نے فاطمہ سے کچھ سوالات کیے جس میں وہ کامیاب ہو گئی۔”فاطمہ بیٹا!” آنسہ بیگم نے پیار بھرے لہجے میں پکارا۔”جی!” فاطمہ نے ہولے سے کہا۔”کیا آپ کو میرا بیٹا پسند آگیا ہے؟” آنسہ بیگم نے پوچھا۔”جی!” فاطمہ بس اتنا ہی کہہ سکی وہ اور کچھ کہتی بھی کیا والدین کی پسند میں اس نے سر جھکا دیا تھا۔ہمیں آپ کی بیٹی پسند ہے آنسہ بیگم نے کہا جبکہ مایا کو وہ بالکل پسند نہیں آئی مایا تھوڑی سی فیشن ایبل تھی اور فاطمہ بالکل سادہ لڑکی۔فاطمہ نے حیرت سے آنسہ بیگم کی طرف دیکھا کہ میں واقع ہی پسند آگئی اسے یقین نہیں آرہا تھا اسے یہ سب ایک خواب سا لگ رہا تھا کہ اللہ نے اس کی پکار سن لی تھی۔اللہ تو وہ ذات ہے جو پرندوں کو بن مانگے دیتی ہے تو پھر وہ اپنے بندے کی پکار کیوں نہ سنے بندہ تو اس سے مانگتا ہے۔ فاطمہ نے نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔” الحمد للہ “کہا۔خالد صاحب نے جیب سے دس ہزار روپے نکال کر آنسہ بیگم کو دیے جو انہوں نے فاطمہ کے ہاتھ پر رکھ دیے۔”ہم چاہتے ہیں کہ منگنی بھی ایک مہینے تک ہو جائے” خالد صاحب نے کہا۔” جی ! جیسے آپ کو بہتر لگے” حمزہ صاحب نے حامی بھر لی۔”اب آپ ہمیں جانے کی اجازت دیں” خالد صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا ۔پھر سلام کرتے ہوئے وہ گھر سے باہر نکل گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر جاکر مایا چیخ پڑی “وہ مجھے ذرا پسند نہیں آئی. بھائی! وہ بالکل سادہ ہے سانولا رنگ ہے فیشن کا تو اسے جیسے پتا ہی نہیں۔””چپ کر جاؤ مایا۔”حمین نے کہا. “اگر امی ابو کو وہ پسند ہے تو وہ مجھے بھی پسند ہے” امی نے دو ٹوک انداز میں کہا.”میں تو سسرال جا رہی ہوں” مایا غصے سے کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روز سارے ہال میں جمع تھے۔حمین نے خاکی رنگ کی پینٹ اور جامنی رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی چہرے پر ہلکی شیو اور بال جیل سے جمائے ہوئے تھے وہ واقعی مسکراتا ہوا خوبصورت لگ رہا تھا۔جبکہ اس کے سامنے کھڑی فاطمہ نے فینسی سوٹ پہن رکھا تھا جس میں کافی رنگ تھے ہونٹوں پر سرخ اور آنکھوں پر لائنر لگا رکھا تھا چہرے پر بیس لگایا ہوا تھا آج وہ سب کی نظروں کا محور بنی ہوئی تھی آج بھی اسے پردہ کرنے سے منع کیا تھا حمین کے علاوہ وہاں کوئی غیر محرم نہیں تھا سوائے ایک کے اور وہ تھا حمین کا باپ تیسرا کوئی نہیں۔ اس نے سر پر دوپٹا لے رکھا تھا بالوں کو آگے کی طرف گرا رکھا تھا حمین اس کے بھورے بالوں کو دیکھ رہا تھا جو اسے بہت پسند آئے تھے۔منگنی کی رسم شروع کی گئی پہلے فاطمہ نے انگوٹھی پہنائی اور بعد میں حمین نے۔یوں فاطمہ کے ہاتھ میں حمین کے نام کی انگوٹھی آ گئی جس پر اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔منگنی کی رسم ختم ہونے کے بعد سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کو ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کسی اور کے ہونے جارہی ہے اسے یہ سب جادو لگ رہا تھا۔
پھر اس نے دوبارہ اللہ کا شکر ادا کیا وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والی لڑکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وقت بھی جلدی آ گیا جب اس کی رخصتی ہونی تھی۔ وہ حواس کھو بیٹھی تھی کہ وہ سات دن بعد کسی اور کی ہونے جا رہی ہے۔ اس گھر سے وہ ہمیشہ کے لئے چلی جائے گی اس کی پلکیں بھیگ گئیں اور وہ زار و قطار رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس کی مہندی تھی گھر پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔ اس کی سہیلیوں نے اسے تیار کیا اس نے سرخ رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا جس پر سفید موتی جڑے ہوئے تھے اور اس کے اوپر پورے بازو والی مالٹے رنگ کی چھوٹی سی قمیض پہنی ہوئی تھی اور قمیض پر کڑھائی ہوئی تھی اور سبز رنگ کا سادہ دوپٹہ ایک طرف کندھے پر ڈالا ہوا تھا اور ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی لمبے بال آگے کی طرف ڈالے ہوئے تھے ۔ہاتھوں میں گجرا پہنا ہوا تھا۔ آج بھی اس کے چہرے پر بہت نور تھا آج بھی سب کی نظریں اس پر تھی۔فنکشن فاطمہ کے کہنے پر سادہ رکھا گیا تھا کسی غیر محرم کو حال میں آنے کی اجازت نہیں تھی سب نے باری باری آ کر اسے پیار کیا اور اس کے ہاتھ پر حمین کے نام کی مہندی لگائی آج وہ بہت خوش تھی اس نے پھر مسکراتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے یاد آتا ہے کہ مدرسے میں باجی جان نے ایک بار یہ کہا تھا کہ ۔۔۔”مرد کی خوبصورتی جوانی میں سجدہ کرنے میں ہے اور عورت کی خوبصورتی جوانی میں پردہ کرنے میں ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سیاہ رات کو اجالا بنا دیتا ہے
وہ کن کہتا ہے اور ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کافی گہری ہو چکی تھی وہ بہت تھکی ہوئی تھی کل اس کی رخصتی تھی ۔ وہ ہمیشہ کے لئے اس گھر سے جانے والی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا اس نے اپنا بچپن یاد کیا اس گھر سے اس کی یادیں جڑی تھیں۔ ناجانے سوچتے سوچتے اس کی کب آنکھ لگ گئی ۔ جو فجر کی اذانوں سے کھلی۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی دھوئی اور وضو کرکے فجر کی نماز ادا کی اور اپنے اللہ سے دعا مانگنے لگی۔اے پیارے اللہ! میں آپ سے آپ کی محبت کا سوال کرتی ہوں… ایسی محبت جو پیاسے کو ٹھنڈے میٹھے پانی سے ہوتی ہے… آپ کی محبت تو سب محبتوں کا حسن اور سب محبتوں کی سردار ہے… آپ کی محبت نہ ملی تو سب رشتے بیکار ہیں… بد مزا ہیں۔۔۔ کیونکہ آپ تو خالق لذت ہے۔۔۔ میری جان سے زیادہ عزیز۔۔۔ میرے اللہ! میرے ودود! بہت پیار کرنے والے! آپ کے علاوہ کوئی نہیں… نہ تھا نہ ہے نہ ہوگا… میں جب آپ کو یاد کرتی ہوں تب آپ مجھے یاد کرتے ہیں۔۔۔ انہیں میرے سارے معاملات کو سمجھنے والے۔۔۔ میرے ہر درد کو محسوس کرنے والے۔۔۔ میرے پیارے رب! میری ٹوٹی پھوٹی محبت کو قبول کر… میرے ٹوٹے دل کو… آپ کو ٹوٹی ہوئی چیزیں پسند ہیں نا۔۔۔ میں آپ کے مبارک ساتھ سے اپنی ذات کی تکمیل چاہتی ہوں… تیرے ہاتھ سے زیر تعمیر ہو میں۔۔۔ مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں۔۔۔اے اللہ! میں سسرال جا رہی ہوں میری وجہ سے کبھی میرے والدین کا سر نہ جھکے… یا اللہ! میں اپنے ہمسفر کا دل جیت لوں۔۔۔ اپنے سسرال کو خوش کر سکوں۔۔۔ مجھے ایسا بنا دے۔(آمین)پھر اس نے صبح کے اذکار پڑھے اور نماز سے اٹھ گئی اب اسے اگلے گھر جانے کے لئے تیار ہونا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کو دلہن بننے کے لیے پارلر بھیج دیا گیا مکمل سفید لہنگا اور سفید چولی میں وہ نہایت خوبصورت لگ رہی تھی ۔پالر والی نے اس کا دوپٹہ سیٹ کیا۔اب صرف اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں نظر آ رہی تھیں جو بہت خوبصورت تیار کی گئی تھیں کیونکہ اس نے اسکارف سے نقاب کر لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ ہے اسلامی ماڈرن شہزادیاں کیسی ہوتی ہیں؟1 والا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی زمانہ جاہلیت کی طرح بے پردہ نہیں ہوتیں۔2 وتمشی علی الاستحیاء با حیا ہو کر چلتی ہیں۔یہ ہوتی ہیں اسلام کی شہزادیاں!!!بند سیپ میں موتی کی طرح،یاد رکھیں!!! وہی ذرہ موتی بنتا ہے جو غرق ہوتا ہے ۔ ساحل کا ہر ذرہ کو موتی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ جو ذرہ غرق نہیں ہوتا وہ کہاں موتی بنے گا۔!!!………یہ ہوتی ہیں اسلامی ماڈرن شہزادیاں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمین نے شلوار کرتہ اور اس کے اوپر پیلے رنگ کی کڑھائی دار شیروانی پہنی ہوئی تھی اور مہرون رنگ کی خوبصورت پگڑی پہنی ہوئی تھی اور وہ بھی نہایت خوبصورت لگ رہا تھا۔برات آ چکی تھی فاطمہ کو پارلر سے لایا گیا دونوں کو سٹیج پر بٹھایا گیا مولوی صاحب نے ان کا نکاح پڑھا۔حمین بن محمد خالد کیا آپ کو فاطمہ بنت محمد حمزہ اپنے نکاح میں قبول ہے۔قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔۔فاطمہ بنت محمد حمزہ کیا آپ کو حمین بن محمد خالد اپنے نکاح میں قبول ہیں۔فاطمہ جو سوچوں میں گم تھی مولوی کی آواز پر چونکی۔قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔۔اب حمین نے فاطمہ کے کان میں سرگوشی کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوروں کو میرے بعد رکھیے گا
آپ میری ہیں۔۔۔ یاد رکھیے گا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ اس شعر پر مسکرا دی اور دل میں اللہ سے گویا ہوئی کہ اللہ تعالی جی جب سےمیں نے اپنا سب کچھ آپ پر چھوڑا ہے کبھی آپ نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دین کا راستہ قابلیت کا نہیں۔۔۔ قبولیت کا راستہ ہے۔۔۔ یہاں صرف پڑھے لکھے لوگوں کی طلب نہیں ہوتی۔۔۔ یہاں تڑپ والے قبول ہوتے ہیں۔۔۔ یہاں درد بھرا دل چاہیے ہوتا ہے۔۔۔ جو گناہوں کے چھوڑنے سے حاصل ہوتا ہے۔۔۔ جس دل پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں اور فاطمہ کا دل بھی ایسا ہی تھا درد سے بھرا ہوا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کو رخصت کیا گیا سب کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل رہے تھے لہذا بیگم نے فاطمہ کی رخصتی کے فورا بعد شکرانے کے نوافل ادا کئے اور فاطمہ کو ڈھیروں دعائیں دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی سسرال میں رکی۔ فاطمہ کو گاڑی سے باہر نکالا گیا اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دایاں پاؤں گھر کی دہلیز پر رکھا اور گھر کی دعا پڑھی ہوئی اندر داخل ہوئی اب جہاں اس نے ہمیشہ رہنا تھا۔ان دونوں کو صوفے پر بٹھایا گیا فاطمہ کے پردے کو مایا نے اتار دیا جبکہ سامنے کافی مرد کھڑے تھے فاطمہ کے دل کو چوٹ پہنچی کہ اس کا پردہ ضائع ہوگیا وہ دل ہی دل میں اللہ سے گویا ہوئی اے میرے اللہ! میں نے جان بوجھ کر نہیں اتارا میں اپنے سسرال والوں سے کچھ نہیں کہہ سکتی۔انہیں ہدایت عطا فرما.(آمین)دونوں کی جوڑی نہایت خوبصورت لگ رہی تھی۔رسم شروع کی گئی۔ان کے سامنے ایک برتن لاکر رکھا گیا جس میں دودھ تھا اور دودھ کے اندر انگوٹھی تھی اب ان دونوں میں سے کسی ایک نے جیتنا تھا۔آدھے لوگ فاطمہ کی طرف ہو گئے اور آدھے لوگ حمین کی طرف۔دونوں ڈھونڈنے لگ گئے انگوٹھی فاطمہ کے ہاتھ میں آ گئی اور فاطمہ جیت گئی سب بہت خوش ہوئے۔اب اگلی رسم شروع کی گئی۔ایک پھٹی لا کر رکھی اور اب ان دونوں نے ایک دوسرے کو پیر مارنا تھا سب سے پہلے فاطمہ کو کہا گیا پہلی بار فاطمہ ہار گئی پھر دوسری بار بھی ہار گئی لیکن تیسری بار اس نے دعا مانگی اور وہ جیت گئی حمین اس رسم میں بھی ہار گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب کہتا ہے۔۔۔
“میری طرف آکر تو دیکھو
متوجہ نہ ہوں تو کہنا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی لئے فاطمہ نے بھی اللہ کی طرف رجوع کیا اسے پکارا اور وہ جیت گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کو بہت مزہ آ رہا تھا۔اب دیور والی رسم شروع ہوئی چونکہ فاطمہ کا کوئی دیور نہیں تھا اس لئے مایا کے بیٹے ذکوان کو فاطمہ کی گود میں بٹھایا گیا یوں یہ رسم بھی ختم ہوئی۔اب آنسہ بیگم نے دلہن کو وہاں سے اٹھایا اور کمرے میں لے گئی جو فاطمہ اور حمین کے نام کردیا گیا تھا۔فاطمہ نے دیکھا کہ کمرہ بہت خوبصورت تھا اور انتہائی محنت سے سجایا گیا تھا۔ سامنے دیوار کے ساتھ بیڈ لگا ہوا تھا جو مکمل پھولوں سے سجا ہوا تھا اس نے دیکھا کہ چھت بھی پھولوں سے سجی تھی ۔ بیٹھک کے ساتھ چھوٹی میز پر پڑی ہوئی تھی جس پر انتہائی خوبصورت لیمپ رکھا ہوا تھا اور ساتھ میں ایک پھولوں کا گلدان۔ بیڈ کے دائیں طرف ایک کھڑکی تھی ۔ جو لان کی طرف کھلتی تھی۔ ان پر پردہ گرا ہوا تھا اسے اپنا کمرہ بہت پسند آیا اس نے ایک بار پھر اللہ کا شکر ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تیری قسمت کا لکھا تجھ سے کوئی لے نہیں سکتا
اگر بھروسہ ہے خدا پر تو تجھے وہ بھی مل جائے گا جو تیرا ہو نہیں سکتا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیٹھی سوچوں میں گم مسکرا رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی وہ سیدھی ہو کر بیٹھی حمین کمرے میں داخل ہوا اور فاطمہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا ۔ پھر اپنی شیروانی اتاری اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔کافی دیر کمرے میں خاموشی رہی جو فاطمہ کو کھائے جا رہی تھی آخر کار فاطمہ کا صبر جواب دے گیا اور اس نے سلام کیا حمین جو فاطمہ کو غور سے دیکھ رہا تھا فاطمہ کی آواز پر چونک گیا سلام کا جواب دیا۔اس نے جیب سے ڈبی نکالی اور فاطمہ کے سامنے کھول کر رکھ دی ۔ فاطمہ نے اپنے تحفے کو دیکھا جس میں ہیروں سے جڑا ہار تھا۔ سونے کی چین میں دل کی شکل میں ایک خوبصورت ہیرا جگمگا رہا تھا حمین نے اسے ڈبی سے نکالا اور فاطمہ کو اپنے ہاتھ سے پہنا دیا۔ فاطمہ اپنے شوہر کی اس ادا پر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگی۔پھر دوبارہ کمرے میں خاموشی چھا گئی جس کو پھر ایک بار فاطمہ نے توڑا “میں چاہتی ہوں ہم پہلے شکرانے کے نوافل ادا کرلیں” فاطمہ نے کہا۔”جی بالکل! اور ادا کرنے بھی چاہیے کیونکہ مجھے رب نے اتنی نیک اور پرہیزگار بیوی جو دی ہے” حمین نے مسکراتے ہوئے کہا. فاطمہ نے اپنا زیور اتارا اور لہنگے میں ہی نماز ادا کی۔پھر فاطمہ نماز ادا کرنے کے بعد نائٹ سوٹ تبدیل کرنے کے لیے بیت الخلاء میں چلی گئی وہ ایک فراک تھا جو پیروں تک آتا تھا اور اس کے بازو آدھے تھے۔پھر دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی اور یوں رات کا اندھیرا ختم ہوا اور دن کا اجالا چھاگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس کا ولیمہ تھا۔حمین اسے بیوٹی پالر چھوڑ کر آیا۔ ولیمے کا سوٹ بھی سفید رنگ کا ہی تھا جس پر گولڈن کڑھائی ہوئی تھی اور جامنی موتی جڑے تھے فاطمہ نے دوپٹہ سر پر سیٹ کیا لیکن وہ چاہنے کے باوجود پردہ نہ کرسکیں گولڈن رنگ کا زیور تھا جو فاطمہ پر بہت جچ رہا تھا۔ بال آگے کی طرف کندھے پر گرا رکھے تھے۔ ہونٹوں پر لپسٹک اور آنکھوں میں کاجل لگایا تھا وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کی وجہ سے قیامت لگ رہی تھی ۔حمین اسے پالر سے لینے آ گیا اور اب وہ کچھ دنوں کے لیے اسی گھر جا رہی تھی جہاں اس کی بہت سی یادیں جڑی تھی لیکن جانے سے پہلے حمین نے اسے عبایا پہننے کا کہا جس پر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور اس نے پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جیسا شوہر چاہتی تھی اسے ویسا مل گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین!پردہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے یہ ہماری حفاظت کرتا ہے اسے اپنائیں اور میں آپ کو یہ بتاتی چلوں کہ ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔اگر ہم میں سے کوئی۔۔۔ اچھی صفات والا ہے۔۔۔ تو یہ صفات اس کو کس نے دی ہیں۔۔۔ اگر کوئی اچھی عادات والا ہے۔۔۔ تو یہ نعمت اس کو کس نے دی ہے۔۔۔ بے شک اللہ تعالی نے۔۔۔ تو پھر واجب ہوا نا کہ اپنی اچھی صفات اپنی اچھی عادات و نظریات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے۔۔۔ ہم شکر ادا کریں گے تو فخر سے بچ جائیں گے اور فخر بہت بری چیز ہے۔۔۔اور ہمیں ہر چھوٹی بڑی خواہش اللہ سے مانگنی چاہیے کیونکہ صرف وہی دیتا ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں