Site icon Nauk e Qalam

سیدہ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا

امی زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا قریش کے انتہائی اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں. ان کے والد کا نام خذیمہ بن حارث تھا. امی زینب کی تمام بہنیں قریش کے انتہائی اعلیٰ خاندانوں میں بیاہی گئی تھیں. ان کی بڑی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا حضرتِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ ام الفضل تھیں. ایک بہن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ لبابہ تھیں.

ایک بہن اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالٰی عنہا کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ذاد بھائی جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی، ان کی شہادت کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی. ان کی ایک بہن سلمی بنت عمیس حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زوجہ تھیں اور ان کی بہن میمونہ بنت حارثہ کو ام المؤمنین بننے کا شرف حاصل ہوا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امی زینب کے انتقال کے بعد امی میمونہ سے نکاح کیا. امی زینب بنت خزیمہ کی پہلی شادی سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پھپھی زاد بھائی اور ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی کے بھائی تھے. ایک اور بات جو شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، عبداللہ بن جحش، حضرت جعفر، سیدنا حمزہ اور ابو سلمہ پانچوں دودھ شریک بھائی تھے. ان سب نے حضرت ثویبہ کا دودھ پیا تھا. عبد اللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ سابقون واولون میں سے تھے. ہجرت کے حکم کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ تشریف لے آئے تھے. بدری تھے.

ان کی شہادت غزوہ احد میں بے جگری سے لڑتے ہوئے ہوئی. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کی اور حضرت حمزہ کی تدفین ایک ہی قبر میں کی. عبد اللہ بن جحش کے انتقال کے کچھ عرصے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امی زینب کو نکاح کا پیغام بھیجا. امی کی رضامندی کے بعد ان کا نکاح تین ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بعوض چار سو درہم ہوا. امی زینب بنت خزیمہ سرکار دو عالم کی پانچویں زوجہ بنیں. اس وقت امی خدیجہ کا انتقال ہوچکا تھا اور امی سودہ، امی عائشہ اور امی حفصہ سرکار دو عالم کے نکاح میں تھیں. امی زینب بنت خذیمہ اپنی غریب پروری کے لیے ام المساکین کہلاتی تھیں. پہلے مکے اور پھر مدینے میں وہ مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے معروف تھیں. امی کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے کیونکہ بعض روایات کے مطابق امی کا انتقال شادی کے تین ماہ بعد اور کچھ کے نزدیک آٹھ ماہ بعد ہوگیا تھا. اسی لیے امی جان سے کوئی حدیث بھی روایت نہیں ہے.حضرت زینب بنتِ خزیمہؓ ان صحابیات میں سے ہیں، جنہوں نے اپنی جانیں رسول کریمﷺ کے لئے وقف کردی تھیں اور اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی؛(الاحزاب: 51) رْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا51

ترجمہ: پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے- بخاری شریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں، کہ میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی، جو اپنی جانیں رسول کریمﷺ کو بخش دیتی تھیں۔ میں کہتی تھی: کیا عورت اپنی جان بخشتی ہے؟؟
پھر جب اللہ کریم نے یہ آیت اتاری، تو میں نے عرض کیا، کہ میں آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کو نہیں دیکھتی، مگر وہ آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔ (بخاری شریف، حدیث: 4788) جب اس آیت کی تفسیر پڑھ رہی تھی تو پتہ چلا کہ حضرت زینب بنت خزیمہ نے اپنی جان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس اس طرح ہبہ کی کہ نبی کریم کو اختیار دے دیا کہ وہ جس طرح چاہیں ان کے ساتھ معاملہ کریں یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عدل کرنے سے استثناء دے دیا لیکن سرکار دو عالم نے ہمیشہ اپنی ازواج کے ساتھ عدل کا معاملہ فرمایا.

امی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بعد صرف امی زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں وفات پائی. امہات المؤمنین میں یہ خوش نصیبی صرف امی زینب بنت خزیمہ کے حصے میں آئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا جنازہ پڑھایا. امی زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں.

Exit mobile version