قصوروار – نیرکاشف




میری پیاری! تم بے حد اداس ہو دل کی کرچیاں ہیں کہ سنبھالے نہیں سنبھلتیں، گھاؤ ہیں کہ ہر پل گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں ہر گزرتا لمحہ تمہیں پیچھے بہت دور دھکیل رہا ہے، روح چھلنی ہے ، پیروں میں آبلے ہیں ، دل میں درد سا دھڑکتا ہے۔۔۔۔۔ تم آئینہ دیکھتی ہو تو پر رونق ، چہکتی ، کھلاتی شخصیت کو ڈھونڈتی رہ جاتی ہو ، بات کرتی ہو تو سوچ میں پڑ جاتی ہو کہ یہ میں ہوں ؟؟

کوئی تمہیں جھڑکتا ہے تو اپنے امی ابو کا پیار دلار یاد آ جاتا ہے، کوئی کھانے میں نقص نکالتا ہے تو تمہاری ٹیڑھی میڑھی روٹیوں کو ہنس ہنس کے پیار سے کھانے والے بہن بھائی یاد آتے ہیں، کوئی ہر مسئلے کا تمہیں اور تمہاری ” بے وقوفی” کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے تو تمہارا دل کہتا ہے کہ انہیں ذرا اپنی ڈگریاں دکھاؤ اپنے تمغے دکھاؤ اور بتاؤ کہ کس اعتماد سے تم اپنی ورک پلیس پہ کام کیا کرتی تھی۔ تمہارے آئیڈیاز اپنی انفرادیت کی وجہ سے کیسے سب کو پسند آتے تھے، کیسے تم ہر محفل کی جان ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔ میری پیاری! میں جانتی ہوں ۔۔۔۔ تم آنکھیں موند کےسوچتی ہو کہ کاش میں جب آنکھ کھولوں تو سب کچھ پہلے جیسا ہو یہ چند ماہ یا چند سال میری زندگی میں آئے ہی نہ ہوں ۔۔۔۔ تم آنکھیں کھولو تو تم وہی ” شادی ” سے پہلے والی کھکھلاتی ہوئی ہنستی بولتی شخصیت کا روپ اختیار کر چکی ہو۔۔۔۔۔۔۔ اتنی تلخی اتنا درد اتنے زخم کہ تم شمار کرنا بھی چھوڑ بیٹھی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ خود کو حاصل ہونے والی نعمتوں کا شمار بھی کہیں چھوٹ گیا ہے۔۔۔۔اور تمہارا دل دہائیاں دیتا ہے۔۔۔۔۔ ایک خیال سا گزرتا ہے کہ happily divorced کا اسٹیٹس لگانے والی عورتیں “اب” کتنے سکون میں ہیں! خیالات ہمک ہمک کے اس آواز اٹھانے والی کے پیچھے ہو لیتے ہیں جو کہتی ہے ” شادی تو طوق ہے۔ شادی تو قید ہے۔ زندگی بھر کی غلامی ۔۔۔۔ایک پکار تمہارا دامن کھینچے لیتی ہے ” ہمارے بڑوں نے ہمیں بہت برا معاشرہ دیا ہے ” اپنے بڑوں سے دل برا ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔ان کی غلطیوں نے ہمارا سکون برباد کر دیا ہے۔۔

کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ، یہ دنیا یہ لوگ یہ معاشرہ یہ رشتے یہ تعلقات سب کچھ بوجھ ۔۔۔۔نرا بوجھاچھا ادھر آؤ میرے قریب بیٹھو ، مجھے اپنا ہاتھ تھماؤ، اپنے آنسو میرے کندھے پہ بخوشی بہا لو۔۔ ۔میری پیاری تمہارا قصور نہیں ہے ۔۔۔قصور وار ہم ہیں جو تمہیں وہ معاشرہ نہیں دے سکے جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوتا۔۔ہم اپنی اسلامی جمہوریہ میں ان قوانین کا نفاذ نہ کروا سکے جن سے تمہارا تحفظ ہوتا، ہم اپنے بیٹوں کی تربیت نہ کر سکے ،انہیں سکھا نہ سکے کہ نازک آبگینوں کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے ، ہم تمہیں بتا نہ سکے کہ گھر بسانے کا اصل مطلب کیا ہے۔۔۔۔ ہم ہی ہیں جنہوں تمہیں شادی کے حوالے سے ہمیشہ رنگین خواب دکھائے، تمہاری بہت سی پیاری پیاری خواہشات کو شادی سے مشروط کر دیا ، ہم نے اپنے ناول افسانوں اور ڈراموں کے ذریعے شوہر کہ جگہ ہیرو تراش کے تمہیں دیئے۔۔۔۔۔ ہم نے تمہیں یہ کب سکھایا کہ شادی کا اصل مقصد کیا ہے؟ ہم نے تمہیں یاد ہی کب دلایا پوری زندگی عبادت ہے اور شادی کر کے خاندان بنانا بھی نیابت الہٰی کا ایک جز ہے ہم نے تمہیں سمجھایا ہی نہیں کہ زندگی تو آزمائشوں سے ہی عبارت ہے ، کبھی لوگوں کے رویے ، کبھی رشتے داروں کی باتیں ، کبھی کوئی بیماری ،کبھی مالی مسائل ، کبھی نوکری کے معاملات، کبھی بچوں کی تعلیم ،کبھ ان کی شادیاں زندگی ایک کے ساتھ دوسرا امتحان صفحہ در صفحہ ہمارے سامنے کھولتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہر وقت کی ہر دور کی ہر لمحے کی اپنی ہی ایک آزمائش ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم نے تمہیں زندگی کا سوالنامہ سمجھایا ہی کب ۔۔۔

اور جب سوالوں میں الجھی ہوئی تم ہمارے پاس آئی تو بجائے اس کے کہ پیار سے گلے لگاتے ، پاس بٹھاتے تمہیں سنتے ، تمہیں اپنے ساتھ کا احساس دلاتے۔۔۔۔ ہم نے تمہیں چپ کروانا چاہا، اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے اور اپنی آنکھیں میچ لیں، معاشرے کی سلامتی کا پورا بار تمہارے کاندھوں پر ڈال کے ہم نے منہ موڑ لیا۔۔۔۔ تمہیں الزامات دیے ، تمہیں برا بھلا کہا ۔۔۔۔۔۔ ہم نے نے یہ اعتراف نہیں کیا۔ کہ ہم سے معاشرے کی تشکیل میں بڑی بنیادی غلطیاں ہو گئی ہیں آؤ ہم انہیں درست کر لیں۔۔۔۔ ہم نے تو ناسور کو تمغہ بنا کر سینے پہ سجا لیا۔۔۔۔ میری عزیز کیا ہمارے لیے لفظ ” معافی” کافی ہو گا؟؟؟؟ ہماری ” شرمندگی ” تمہارے زخموں کا مرہم بن جائے گی؟ ؟؟جب کہ ہماری بے بسی خود زخم سے بڑھ کر ناسور بن چکی ہے۔۔۔ ان سارے اعترافات کے ساتھ کیا مجھے اجازت دو گی کہ ہاتھ جوڑ کے تم سے التجا کروں ؟؟؟ میری پیاری ہو سکے تو ہماری غلطیوں کی سزا خود کو اور آنے والی نسلوں کو نہ دینا۔۔۔۔۔
آزمائش اور عذاب کا فرق کرنا میری عزیز۔۔۔۔ ہر مسئلے کا حل فرار نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ہر زخم کا علاج عضو کو کاٹ کے الگ کر دینا نہیں ہے۔۔۔ ہماری زندگی کا اصل مقصد تو اللہ کی رضا ہے نا ۔۔۔۔۔ وہ جب ہم سے جو کام لینا چاہے ہمیں کرنا ہے …. آزمائش کی بھٹی میں تپ کر کندن بننا ہے۔۔۔۔تم سے بس یہی التجا ہے میری پیاری تمہاری راہ سے جو کانٹے ہم نہ چن سکے ۔۔۔۔۔۔ان سے گھبرا کر کسی دوسرے جال میں نہ جا گرنا۔۔۔۔۔۔

کبھی کوئی ناطہ توڑنا بھی پڑ جائے تو جابجا بکھرے جالوں سے خود کو محفوظ رکھنا۔ یقین جانو غریبوں کے اپنے دکھ ہیں اور امیروں کے اپنے مسائل
House wife کے الگ امتحان ہیں ۔ Working women کی علیحدہ آزمائشیں۔ Happily divorced کی بھی زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ۔ Single forever کی آزمائشیں تم سے بھی شدید ہیں۔۔۔ Happily married بھی زندگی کے ہر لمحے سے بس خوشیاں ہی کشید نہیں کرتے ۔ بس یہی التجا ہے ہمیں معافی بے شک نہ دو ۔۔۔۔ خود کو سزا مت دینا۔۔۔۔ کنویں سے نکل کر کھائی میں چھلانگ نہ لگانا۔۔۔بس یہی التجا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں