یوم دفاع کے اس دن – زبیر منصوری




میرا سلام اپنے اس محافظ کوجس کے ساتھ میں نے دور برف پوش پہاڑوں میں اس سرد شام کو نماز پڑھی تھی جب اس نے اپنے مورچہ کی منڈیرپر کھڑا ہو کر اللہ اکبر اللہ اکبر کی آزان دی اور پھر ہم سب نماز پڑھ کر بیٹھ گئے تھے یہ سپاہی وہاں مورچوں میں اپنی ریاست کی حفاظت میں تب جاگ رہا ہوتا ہے جب پوری قوم سکون سے سو رہی ہو تی ہے

میرا سلام ننگرپارکر کی آخری سرحدی چوکی پر تعینات سپاہی کو جس نے اس ویرانے میں ہمیں دیکھ کر گرمجوشی سے گلے لگا لیا تھا یوں لگا کافی عرصے بعد اس کی ترستی آنکھوں نے کوئی دور سے آیا مہمان دیکھا تھا اس کے سامنے دووور تک بھارتی فوج کی کوئی چوکی ہی نہیں رن کچھ کا دلدلی علاقہ تھامگر یہ رینجر جوان روز صبح پہلی کرن کے ساتھ دائمہ ساھرہ ( ہر دم بیدار) کا نعرہ بلند کرتا اور اونٹوں پر اپنی سرحد کے ایک ایک انچ پر نظر ڈال آتا ہے یہ جوان جون جولائی کی تپتی دوپہر وں میں صحرا کی ریت کو روندتا ہے اور لمبے سفر کرتا ہے میرا سلام میرے اس سپاہی کو جس سے میں نے دالبندین میں ہاتھ ملایا تھا اور اسے ایرانی بارڈر پر چوکس پایا تھا میرا سلام سمآہنی سیکٹر اور دور چکوٹھی کے اس سپاہی کو کہ جس سے جب میں ملا تو مجھے لگا تھا کہ یہ جوان کشمیر کا ایک زرہ بھی چھوڑنے کو تیار نہ ہو گا میرا سلام اس جوان کو جس نے کراچی کے کرفیو کے دنوں میں چھپ کر اسکول جاتے ہوئے مجھے روک لیا تھا پیار سے کان کی لو پکڑی اور کہا بچے گھر جاو حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔۔میرا سلام نیوی کے اس جوان کو جس نے ایک لڑاکا بحری جہاز پر کھڑے ہو کر بریفنگ دیتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ زیادہ تو ہمیں پتہ نہیں مگر با ں یہ جانتے ہیں کہ دشمن نے کوئی حرکت کی تو پھر یا وہ نہیں یا ہم نہیں ، بیچ میں کچھ نہیں

میرا سلام فضائی فوج کے اس سپاہی کو جو راشد منہاس کا وارث ہے اور اس روز کارساز پر کھڑے جہازوں کی بریفنگ ہی نہیں دے رہا تھا بلکہ جذبہ اور جوش بھی ٹرانسفر کر رہا تھا میرا سلام واہگہ بارڈر پر کھڑے اس لمبے تڑنگے تگڑےجوان کو جس سے جب میں نے پوچھا تو اسے بس یہ معلوم تھاکہ اس کی للکار اس کی ٹانگ اس کا پرچم دشمن سے نیچے نہیں رہناچاہئیےمیرا سلام ملک کے کونے کونے میں موجود ہر اس جوان کے لئے جو ہر دم جان ہتھیلی پر رکھتا ہے اور مادر وطن کے لئے گھر بچے سہولت آسانی سب چھوڑ کر کچھ کہے مانگے بغیر ڈٹا رہتا ہے۔۔تم سب جیو ہزاروں سال۔۔( آپ بھی ان جوانوں کو سلام پیش کر دیں جو کسی صحیح یا غلط فیصلے کے ذمہ دار نہیں مگر زمین کے قابل فخر بیٹے ہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں