ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا




میں نے اسلامک اسٹیڈیز میں ماسٹرز دو ہزار بارہ میں کیا تھا. اس میں ایک پیپر سیرت النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھی تھا. اس پیپر میں، میں نے بے تحاشہ ایکسٹرا کاپیز لی تھیں. تین گھنٹے تک مسلسل لکھتی رہی. کمرہ امتحان کا نگران ایکسٹرا کاپیز کا بنڈل لیے میری کرسی کے پاس ہی کھڑا ہوگیا. کہنے لگا؛ ” بی بی لکھتی جاؤ. میں سپلائی جاری رکھتا ہوں تاکہ آپ کا ایک منٹ بھی ضائع نہ ہو.” جب پیپر سبمٹ کروا کر نکلی تو مجھے کہتا ہے کہ انشاء اللہ اس پیپر میں آپ کی ڈسٹنکشن آئے گی اور الحمد للہ ایسا ہی ہوا

اپنی وال پہ کسی بھی موضوع پہ لکھنا میرے لیے دشوار نہیں ہے سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خانوادے اور ان کے صحابہ کرام اجمعین کے. مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ غلطی نہ ہوجائے. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ میرا پسندیدہ ترین موضوع ہے. اگر اس پہ نہیں لکھتی تو تشنگی رہتی ہے.
اکثر سوچتی ہوں کہ میرے اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بہترین خواتین جمع کی تھیں. ہم کیوں نہیں ان پہ لکھتے. وہ تو ہماری رول ماڈل ہیں. اللہ نے خود انہیں عام مسلمان عورتوں کے لیے رول ماڈل چنا ہے. امی خدیجہ رضی اللہ عنہا اور امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پہ تو بہت لکھا گیا لیکن دیگر امہات المومنین پہ خال خال ہی کچھ پڑھنے کو ملتا ہے. اس لیے مجھ گناہگار اور سیاہ کار نے سوچا ہے کہ امہات المومنین پہ ایک سیریز شروع کروں. شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پہ مجھ پہ رحمت کی نظر فرما دیں اور اس سیاہ رو کو شفاعت نصیب ہوجائے. اس سلسلے کی پہلی کوشش حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بابرکت ذات سے شروع کرنے کی جسارت کر رہی ہوں. میرے حق میں دعا کردیجیے گا.

ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ،امی ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نام ہند بنت ابی امیہ بن مغیرہ تھا. ان کا تعلق بنو مخزوم سے تھا. والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر تھا جو رشتے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دور کی پھوپھی لگتی تھیں. امی جان اپنے بیٹے سلمہ کی وجہ سے ام سلمہ کہلاتی ہیں.امی کے پہلے شوہر عبداللہ بن عبدالاسد ان کے چچازاد تھے جو ابوسلمہ کہلاتے تھے. ابو سلمہ سابقون والاولون میں سے تھے. امی جان نے اپنے شوہر کے ساتھ پہلی ہجرت حبشہ کی طرف کی تھی. کچھ عرصے بعد اس امید پہ کہ مکے کے حالات کچھ بہتر ہوچکے ہوں گے، مکہ واپس تشریف لائیں. آ کر پتا چلا کہ حالات جوں کے توں ہیں. امی جان اور ابو سلمہ دونوں کے گھر والے کفار کے حامی اور اسلام کے دشمن تھے. اسی وقت مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا. ابو سلمہ نے اپنا اونٹ تیار کیا. اپنی بیوی اور ننھے سلمہ کو اونٹ پہ بٹھایا اور مدینہ کی طرف چلنے لگے. لیکن اسی وقت ام سلمہ کے گھر والے آگئے. انہوں نے کہا کہ تم ہماری بیٹی کو نہیں لے جا سکتے. مجبوراً ابو سلمہ اپنی محبوب بیوی اور بیٹے کو مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرگئے. امی پہ صرف یہی ظلم نہیں کیا گیا بلکہ ابو سلمہ کے گھر والوں نے ننھا سلمہ بھی چھین لیا کہ یہ تو ہمارا خون ہے. چند منٹوں میں ہنستا بستا گھر اجڑ گیا.

شوہر مدینہ، بیوی والدین کے گھر اور بچہ ددھیال میں. امی کو پتا چلتا کہ ننھا سلمہ ان کے لیے بلکتا ہے لیکن سسرال والے ملنے نہیں دیتے تھے. امی روز اسی جگہ تپتی دھوپ میں پہنچ جاتیں جہاں ان سے ان کا خوشیوں کا گہوارہ چھینا گیا تھا اور جی بھر کر روتیں. آخرکار دیکھنے والوں کو ان پہ ترس آنے لگا اور ان کے گھر والوں کو مجبور کیا کہ اس ماں بیٹے کو ابو سلمہ کے پاس بھیج دیا جائے. جیسے ہی ام سلمہ کو بیٹا واپس ملا انہوں نے اسی وقت رختِ سفر باندھا اور اونٹ تیار کر کے اکیلی مدینہ روانہ ہوئیں. راستے میں انہیں عثمان بن طلحہ ملے جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے. انہوں نے کہا کہ آپ اکیلی کس طرح سفر کریں گی. میں پیدل چلتا ہوں آپ اپنے بیٹے کے ساتھ اونٹ پہ تشریف رکھیں. امی فرماتی ہیں کہ میں نے عثمان بن طلحہ جیسا وضع دار اور شریف آدمی نہیں دیکھا. عثمان بن طلحہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خانہ کعبہ کی کنجیاں سونپیں.ام سلمہ مدینے پہنچ کر اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگیں. پھر بدر کا معرکہ ہوا. ابو سلمہ بے جگری سے لڑے. پھر عزوہ احد ہوا اور ابو سلمہ بری طرح زخمی ہوئے. ایسے کاری زخم تھے جو بھرتے ہی نہ تھے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ابو سلمہ کی طبیعت پوچھنے آتے اور ان کے لیے دعا فرماتے. ابو سلمہ کا انتقال چار ہجری میں ہوا.

اسی عالمِ حزن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو یہ دعا سکھائی؛ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِيْ فِيْ مُصِيْبَتِيْ وَ اخْلُفْ لِيْ خَيْرًا مِّنْهَا. ترجمہ: اے اللہ مجھے اجر دے میری مصیبت میں اور میرے لیے اس سے بہتر قائم مقام بنا. امی ارشاد فرماتی ہیں کہ میں یہ دعا پڑھتی جاتی اور سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوگا. عدت کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا لیکن ام سلمہ خود کو شادی کے لیے راضی نہ کرسکیں. اور پھر اللہ نے انہیں وہ اعزاز بخشا جس نے انہیں دین و دنیا میں مثل آفتاب روشن کردیا. اللہ نے انہیں مومنین کی ماں کے طور پر چن لیا. چار ہجری میں ان کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعوض دس درہم مہر ہوا.امی فرماتی ہیں کہ نکاح کے بعد مجھے پتا چلا کہ اس دعا کا کیا مطلب تھا اور اللہ نے میرے لیے کیا چن رکھا تھا. ام سلمہ انتہائی خوبرو، معاملہ فہم اور ذہین تھیں. صلح حدیبیہ کے بعد جب تمام صحابہ کرام شکستہ دل تھے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اس سال عمرہ نہ کرسکیں گے. جانور ذبح کر کے سر منڈوا لیں تو پہلی بار صحابہ کرام خاموش کھڑے رہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو ٹھیس پہنچی. حجرہ میں جا کر اپنی زہین اور صائب رائے بیوی سے شکوہ کیا کہ صحابہ نے پہلی بار میری بات پہ عمل کرنے پہ ایک دوسرے سبقت لے جانے کی کوشش نہیں کی.

ہماری سمجھدار امی نے فوراً کہا. آپ سر منڈوا کر احرام بدلییے، پھر دیکھیں کہ اصحاب پیروی کیسے نہیں کرتے. اور پھر ایسا ہی ہوا. صحابہ نے آقا کی پیروی میں دوڑیں لگا دیں.یہاں امیوں سے لاڈ کرتے وقت کہنا چاہوں گی کہ امہات المومنین کے دو گروپس تھے. ایک کی لیڈر امی عائشہ تھیں اور دوسرے گروپ کی لیڈر امی ام سلمہ. امی عائشہ کی بہترین اور رازدار سہیلی امی حفصہ تھیں اور امی ام سلمہ کی بیسٹ فرینڈ امی زینب بنت جحش تھیں. صدقے میرے رب کی رحمت کے کہ اس نے کیسے انمول ہیرے خانوادہ رسول میں اکھٹے کئے کہتے ہیں کہ امی ام سلمہ کی تلاوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ملتی جلتی تھی. سننے والیاں کہتی تھیں کہ جب تلاوت کرتی تھیں تو دل کرتا تھا بس سنتے رہو. امی عائشہ کے بعد سب سے زیادہ احادیث بھی امی ام سلمہ سے ہی مروی ہیں.حضرت ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی رشتہ دار تھیں۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہوئی تو حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اسلام دشمنی میں کمی آئی جس کے بعد بالآخر آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ یعنی حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے میں اس مقدس نکاح کا بہت ہاتھ ہے. امہات المومنین میں سب سے زیادہ طویل عمر ام سلمہ ہی نے پائی. ان کا انتقال سب سے آخر میں چوراسی سال کی عمر میں ہوا. آپ جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں. اللہ ہم سب مسلمانوں کو آخرت میں امی کی قدم بوسی کا شرف عطا فرمائے آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں