Site icon Nauk e Qalam

الہیٰ میرا وطن سدا سلامت رہے – افروز عنایت

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورا ملک سبز جھنڈیوں سے سج جاتا ہے۔ سبز ہلالی پرچم عمارتوں پر لہراتا ہے تو دل میں طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ ہم آزاد ملک کے باسی ہیں، ہمارا ایک وطن ہے۔ جی ہاں “وطن۔۔۔ ہمارا وطن” ایک “احساس” ہے۔

میں جب پاکستان سے باہر کسی ملک میں ہوتی ہوں اور کوئی پوچھتا ہے کہ آپ کا تعلق کس ملک سے ہے تو میں فخر سے کہتی ہوں “پاکستان سے”۔ الحمدللہ پاکستان دنیا میں ہماری “پہچان” ہے۔

یہ پاک دھرتی جو اسلام کے نام پر قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آئی ہے، یہ ہماری عظمت و وقار کی علامت ہے۔ یہ اسلام کا عظیم قلعہ ہے جو کہ نہ صرف پاک دھرتی کے مکینوں کے لئے، بلکہ تمام دنیا کے اسلامی ممالک کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی لیے دشمنان اسلام کی نظروں میں کھٹک رہا ہے۔ دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ و کفار کی تو ازل سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو نیچا دکھائیں، انہیں کمزور کریں، ان کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے انہیں ایک دوسرے سے بھی دور کردیں اور ہم یہ سب کچھ آج اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ نہ صرف بیرونی طور پر بلکہ اندرونی طور پر بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے انتشار پھیلایا جارہا ہے۔ خصوصاً اندرونی طور پر سیاسی میدان میں تعصب پھیلایا جارہا ہے جس کا اثر براہ راست عوام پر بھی پڑ رہا ہے۔ یہ صورت حال ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور یہی بیرونی مفاد پرست قومیں چاہتی ہیں کہ کسی طریقے سے اس وطن عزیز کو کمزور کردیا جائے۔ یہ جو ایٹمی طاقت ہے، اس کی افواج کو رب العزت نے ذہنی اور جسمانی و روحانی طاقت سے مضبوط بنایا ہے۔ جس سے یہود و نصاریٰ خوفزدہ ہیں، اس عظیم مملکت کو اور اس جیسی چند اور مملکتیں ہیں جو ان کافروں کی راہ میں رکاوٹ ہیں… اللہ رب العزت عوام الناس اور سیاسی پارٹیوں کو بھی ملک کی فلاح کے لئے ایک مرکز پر اکھٹے ہونے اور سب کو ایمانداری اور خلوص دل کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی توفیق عطا کرے۔

ایک ہی بات کو ذہن میں رکھیں کہ کہیں یہ چیز یا یہ میرا طریقہ عمل میرے ملک کے لئے نقصان دہ تو نہیں؟ یا اس سے میرے ملک کی بدنامی تو نہیں ہوگی؟ تو یقین کریں سب معاملات درست ہوسکتے ہیں۔ ہمارے سامنے تو صحابہ کرام اجمعین کی مثالیں روشن مثالیں ہیں۔ یہ صحابہ کرامؓ اپنی ذات کو تکلیف میں رکھ کر عوام کی بھلائی کے خواہ و مطمئن رہتے کسی نااہل اہلکار کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ ویسے تو خلیفہء وقت کی کارکردگی اس نوعیت کی ہوتی تھی کہ کوئی عہدیدار غفلت برتنے سے پرہیز کرتا کیونکہ ان کے اوپر ایماندار حکمران و ایماندار افسران ہوتے اور سب سے بڑی اہم بات کہ سب اسلامی تعلیمات کے ڈھانچے میں اس طرح ڈھل چکے تھے کہ ان سے خیانت کی توقع ہی نہ تھی۔ لیکن جہاں بھی ایسی کوتاہی کا امکان ہوتا فوراً اس کا سدباب کیا جاتا ہے مثلاً حضرت عمر بن عبدالعزیز (جنہیں “عمرثانی” بھی کہا جاتا ہے) کو جب ایک اعلیٰ عہدے دار (عملدار) کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ حجاج بن یوسف کے ساتھ کام کرچکا ہے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے فوراً معطل کردیا (عہدے سے برطرف کردیا) کہ اس کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ حجاج کے ساتھ کام کرچکا ہے۔ یہی سوچ و عمل و طریقہ کار ملک و وطن کی سلامتی و وقار کے لئے لازمی ہے۔

آج ہم اپنے چاروں طرف نظر دوڑائیں تو ہر محکمے میں کرپشن عام ہے اوپر سے نیچے تک رشوت، دھوکا بازی، لوٹ مار مچی ہوئی ہے، بڑے بڑے عہدوں پر سفارش کے ذریعے نااہل عہدے دار اور عملداران بیٹھے ہوئے ہیں۔ سفارش اور رشوت کا یہ حال ہے کہ اس کے بغیر آدمی کا کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ ان خرافات کی وجہ سے ملک کو نقصان ہی نہیں پہنچ رہا بلکہ بدنامی بھی ہورہی ہے۔ حد یہ ہے کہ کچھ لوگ بیرون ممالک جاکر بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ایک مرتبہ صفا مروہ پر ہم چکر مکمل کرنے کے بعد نوافل پڑھ رہے تھے (بہن) سائرہ نے اپنا بیگ (پرس) اپنے پاس رکھ دیا ہم دعاؤں اور گریہ زاری میں مگن تھے کہ اچانک سائرہ (بہن) کی نظر اپنے برابر بیٹھی خاتون پر پڑی جس کے ہاتھ میں سائرہ کا پرس تھا۔ ابھی وہ اپنی جگہ سے اٹھنے والی ہی تھی کہ سائرہ نے اسے پکڑا تو وہ پرس پھینک کر چلی گئی۔ یہ کہتی ہوئی کہ میں تو پرس کا ڈیزائن دیکھ رہی تھی۔ سائرہ کی آواز پر آس پاس بیٹھی چند غیر ملکی خواتین اپنی اپنی زبان میں کہنے لگیں یہ پاکستانی ہی ہوگی جو اس مقام پر بھی گناہ سے باز نہیں آئی۔ یقین کریں اس بات سے شرمندگی کے مارے ہماری نگاہیں جھک گئیں۔ اپنے وطن سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر گھڑی اور ہر مقام پر کوئی ایسا قدم اٹھانے سے باز رہنا ضروری ہے جس سے وطن عزیز کی بدنامی ہو، اور الحمدللہ ہم تو مسلمان ہیں کوئی بھی کوتاہی ہمیں اپنے رب العالمین کی رضا سے دور لے جاسکتی ہے۔

یہ ماہ اگست ہماری آزادی کا ماہ ہے، شہر کو، گلیوں کو، گھروں کو قمقموں اور جھنڈیوں سے سنوارنے اور سجانے سے بہتر ہے دل کو ایسی خوبیوں، ایسی عادات اور طریقہ کار سے سجائیں جس سے ہمارے وطن عزیز کو فائدہ پہنچے۔ اس سرزمین کا وقار بلند ہو کیونکہ اس سرزمین کی سربلندی وقار ہی ہماری شان و عظمت ہے۔ رب الکریم کی طرف سے یہ سرزمین ایک عظیم تحفہ، ایک انعام اور ایک نعمت ہے جس کی دل و جان سے نہ صرف قدر کریں بلکہ اپنی اولاد کے دل میں بھی اس سرزمین کے لئے وفاداری اور محبت کے جذبات اور احساسات اجاگر کریں کہ آگے جاکر وہ بھی اس مادر وطن کی عزت و وقار و سلامتی کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے میں کوتاہی نہ برتیں۔ رب الکریم ہمیں دجالی فتنوں اور ان کی سازشوں سے بچنے اور اپنے ملک کی دفاع و سلامتی کے لیے ایک مرکز پر متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ نہ کوئی سندھی ہے، نہ کوئی مہاجر، نہ بلوچی، پٹھان اور نہ کوئی پنجابی ہے۔ ہم تو سب پاکستان ہیں! اس ریاست اسلامی کو اسلامی طرز عمل سے مضبوط و مستحکم کرکے ہی دنیا میں اپنا پرچم بلند کرسکتے ہیں۔
~ الٰہی یہ سبز ہلالی پرچم سدا لہراتا ہے
میرا یہ وطن سدا سلامت رہے
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Exit mobile version