سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری – محمد آصف شفیق




جب سے سمارٹ فون آیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال شروع ہوا ہے تب سے اسے استعمال کرنے والوں پر یہ فرض ہے کہ اسکا مثبت استعمال کریں اور یہ بالکل نہ بھولیں کہ جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں شیئر کر رہے ہیں، اس سب کی ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے۔

قرآن کریم میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں:
وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10۝ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11۝ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 12؀
ترجمہ:
حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں، ایسے مُعَزَّز کاتب (لکھنے والے فرشتے)، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔ (سورۃ الانفطار10،11،12)

ایسے حاضر باش فرشتے جو آپ کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں۔ آپ کا نامہ اعمال ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس دن سے ڈریں جب صورتحال ایسی ہوگی کہ:
وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀
تجمہ:
اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ۔ اُن سے کہا جائے گا ، ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ (28سورۃ الجاثیہ )

اور اس دن کا احوال کچھ ایسا ہوگا:
وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49؀ۧ
ترجمہ:
اور نامہ ٔ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو۔‘‘ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔(49سورۃ الکھف )

ہم سب کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو بھی تحریر کریں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم نے اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے۔ ہمیشہ حق بات کہیں حق بات کا ساتھ دیں تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی اپنی بات رکھیں۔ اختلاف رائے کریں، مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیں۔ گالم گلوچ اور بہتانوں سے پرہیز کریں۔

ہر مکتبہ فکر کا احترام کیا جائے، گروہ بندی کرکے ٹرولنگ کرنا، بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے لٹھ لے کے کسی کے بھی پیچھے پڑجانا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے اچھے انداز میں قائل کیا جاسکتا ہے۔ ہر ایک کے بارے میں اچھا گمان کیا جائے ، لوگوں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، ہمیں کوشش کرنی چائیے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہیں اور اس کریم رب سے اپنی مغفرت کیلئے دعا کرتے رہیں جس کا ہم سے وعدہ ہے کہ:
اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀
ترجمہ:
اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ (سورۃ النساء31)

اے رب کریم ہمیں سیدھے راستے پر رکھیے. برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیے اور ہر صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں