فاطمہ جناح… خاتون پاکستان – غزالہ عزیز




آپ میں سے کسی نے فاطمہ جناح کے بارے میں کوئی پروگرام، کوئی ٹاک شو یا دستاویزی فلم کسی چینل پر دیکھی؟ جی ہاں میں نے بھی نہیں دیکھی، وہ چینل جو تیس چالیس سال قبل گزر جانے والے اداکار اور گلوکار کو یاد رکھتے ہیں وہ خاتون پاکستان کو بھول جاتے ہیں۔ دیکھیے کہ اس دفعہ بھی ان پر کوئی پروگرام ہوتا۔ میڈیا اپنے قائد کی بہن کو بھول جاتا ہے جو ملت کے پاسبان کی بہن تھیں، جنہوں نے ساری عمر اس پاسبان کی پاسبانی کا فریضہ ادا کرتے گزار دی، ابھی مہینہ شروع ہوا ہے شاید انہیں بھولی بسری یاد آجائے۔

مجھے اب بھی امید ہے۔ جولائی کا مہینہ تو ہے ہی خاتون پاکستان کا مہینہ کہ ان کی موت اور پیدائش دونوں ہی اس مہینے میں ہوئیں۔ 31 جولائی 1893ء میں وہ کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اور 9 جولائی 1967ء میں وفات پائی۔ پیدائش کے 2 سال بعد ہی اُن کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی کیوں کہ اس زمانے میں لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔ 1901ء میں جب اُن کے والد محترم جناح بھائی کا انتقال ہوا تو خاندان کی دیکھ بھال اور خاص طور سے فاطمہ جناح کی تعلیم و تربیت کی ذمے داری اُن کے بھائی محمد علی جناح پر آگئی کہ وہ سب بہن بھائیوں میں بڑے تھے۔ انہوں نے فاطمہ جناح کو اسکول میں داخل کرانے کا ارادہ کیا تو خاندان والوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ خاندان والوں کا کہنا تھا کہ وہ تعلیم کے خلاف نہیں ہیں دراصل معاشرے میں ہونے والی تنقید سے گھبراتے ہیں۔ محمد علی جناح نے بہن کو ترغیب دلانے کے لیے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا کہ انہیں بگھی میں بیٹھا کر اسکول کی سیر کرائی، ایسا کئی دفعہ کیا، دراصل وہ بہن پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اسے ازخود ترغیب کے ذریعے فیصلہ کرنے کی آزادی دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کئی دن بہن کو اسکول کی سیر کرائی اور واپس گھر لے آئے۔ فاطمہ بچیوں کو اسکول میں پڑھتے لکھتے دیکھتی، آخر کار اُن کی جھجھک ختم ہوگئی اور انہوں نے خود ہی بھائی سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان بچیوں کے ساتھ مل کر پڑھنا چاہتی ہیں۔

فاطمہ جناح کی تعلیم میٹرک کے ساتھ ساتھ سینئر کیمبرج بھی تھی جس کی انہوں نے تیاری نجی طور پر کی اور نمایاں کامیابی حاصل کی۔ میٹرک کے بعد فاطمہ جناح اپنے بھائی محمد علی جناح پاس آگئیں تھیں اور وہیں سے انہوں نے کیمبرج کا امتحان دیا تھا، بعد میں انہوں نے دندان سازی کے کالج میں داخلہ لیا اور 1923ء میں تعلیم مکمل کرکے واپس بمبئی آگئیں۔ محمد علی جناح کی اہلیہ کا انتقال 1929ء میں ہوا تو وہ انتہائی دلگرفتہ اور تنہا ہوگئے۔ ان دل شکستہ لمحات میں فاطمہ نے بڑھ کر اپنے بھائی کی دلجوئی کی، انہوں نے اپنا مطب بند کردیا اور بھائی کے پاس آگئیں، ایسے مشکل وقت میں انہوں نے محمد علی جناح کو ماں کی محبت بھی دی اور باپ کی شفقت کے ساتھ پاسبانی کا فریضہ بھی انجام دیا۔ ایسی مثالی رفاقت اور ایسی محبت کہ اپنی ساری زندگی بھائی کے نام کردی، قدم قدم پر معاونت کی اور ہر میدان میں کی۔ گھر سنبھالا سیاست میں ساتھ دیا وکالت میں حوصلہ بڑھایا مشاورت کا حق نبھایا انہوں نے ساری زندگی شادی نہ کی صرف اس لیے کہ ان کا بھائی ان کے شادی کرلینے سے تنہا رہ جائے گا۔ اور خوبی کی بات یہ ہے کہ اس بات کو کبھی جتایا بھی نہیں بلکہ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟ تو ان کا جواب یہ تھا کہ ’’انہیں زندگی میں کوئی مناسب ساتھی نہیں مل سکا‘‘۔ حالاں کہ فاطمہ جناح عزت شہرت دولت شرافت خوب صورتی اور خوب سیرتی سب ہی سے مالا مال تھیں۔ لیکن ان کے دل میں بس ایک خواہش تھی کہ میرا بھائی مکمل یکسوئی سے اپنے عظیم مقصد کو حاصل کرلے۔

وہ ایک ماں کی طرح اپنے عظیم بھائی کا خیال رکھتیں، ان کے معمولات کے اوقات متعین کرتیں ان پر پابندی سے عمل کراتیں۔ جب قائد اعظم نے انگلستان میں پریکٹس کا ارادہ کیا تو فاطمہ جناح وہاں اُن کے ساتھ گئیں جہاں انہیں اس بات کا خیال رہتا تھا کہ بھائی کے آرام میں کوئی خلل نہ ہو، انہوں نے خود بھی اس دوران آزادی کے نعمت کے حصول کے لیے کئی منصوبوں پر غور وفکر کیا۔ لہٰذا جب مسلمانانِ ہند کے اصرار پر 1935ء میں قائد اعظم ہندوستان آئے اور انہیں آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر منتخب کرلیا گیا تو فاطمہ جناح بھی اپنے منصوبوں پر عمل کرنے میں مصروف ہوگئیں۔ انہوں نے اس وقت مسلمان خواتین کی فلاح اور بہبود کے لیے فوری منصوبے بنائے، انہیں سیاسی شعور دینے کے لیے میدان میں اتریں۔ دہلی کے تنگ و تاریک محلوں اور گلیوں میں جلسوں کی صدارت کرتیں، خواتین کا حوصلہ بڑھاتیں، قیام پاکستان کی جدوجہد میں وہ قدم بہ قدم اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ تھیں۔خواتین کے ساتھ ساتھ انہوں نے طالبات کی انجمنیں قائم کیں، وہ تعلیم نسواں کی بہت حامی تھیں، قیام پاکستان کے بعد ان کی کوششوں سے لڑکیوں کے کئی اسکول کھلے۔ خاص طور سے کراچی میں ان کے لقب ’’خاتون پاکستان‘‘ کی مناسبت سے اسکول کھولا گیا جو بعد میں کالج کے درجے پر پہنچا۔ افسوس یہ ہے کہ فاطمہ جناح کی اس قدر قربانیوں کا صلہ انہیں وہ نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایوب خان کے مقابلے میں وہ بلامقابلہ کامیاب ہوتیں، وہ غیر متنازع تھیں، پاکستان میں ان پر تنقید ہونا ممکن ہی نہ تھا۔ لیکن ایوب خان نے اس نا ممکن کو ممکن کردکھایا اور مادرِ وطن کو ہرا دیا۔ اُن کی ہار پاکستان میں جمہوریت کی ہار تھی۔ جس کا بھگتان عشروں قوم بھگتی رہی۔ 9 جولائی 1967ء میں عظیم بھائی کی یہ عظیم بہن پاکستان کے دولخت ہونے سے قبل وفات پاگئیں، ورنہ یہ سانحہ انہیں جیتے جی خون کے آنسو رولا دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں