میاں بیوی کا مقدس رشتہ اور لطیفے – عفاف یوسف




پوسٹ کا آغاز کرتے ہیں موسی علیہ السلام کے اس جواب سے جب قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر کہا کہ کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں۔۔۔موسی علیہ نے فورا کہا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں جاہلوں میں شمار کیا جاوں۔۔۔یعنی مذاق کرنا جہالت ہے اور مذاق اڑانا تواس سے بھی آگے کا درجہ ہے۔أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡجَـٰهِلِینَ اب مذاق کس کا بنایا جا رہا ہے “بیوی” کا۔بیوی کی قمیت لگ رہی کہ اتنے میں تو دوسری آ جاتی ہے۔(تعدد ازواج الگ موضوع ہے)

کیا بہن،ماں جیسے رشتوں پر ایسے مذاق بنتے ہیں؟بنیں تو کیا برداشت ہو جاتے ہیں؟ویسے تو ہمارا اخلاقی معیار اتنا گرا ہوا ہے کہ ان کے بارے میں مذاق کی بجائے گالیاں ازبر ہیں۔۔۔بحرحال آج بیوی کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن میں جا بجا “ومن آیاته” کہہ کر بہت سی چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔مثلا۔ وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ والارض — وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّیۡلِ وَٱلنَّهَارِ— وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِۦۤ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَاۤءُ وَٱلۡأَرۡضُ —(وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِۦۤ أَن یُرۡسِلَ ٱلرِّیَاحَ —وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِ ٱلۡجَوَارِ فِی ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَـٰمِ —وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِ ٱلَّیۡلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَر —اللہ کی نشانیوں میں سے ہے زمین و آسمان،سورج اور چاند،رات اور دن ۔۔۔جن دو دو کو جمع کیا گیا ہے وہ اپنے اپنے مدار میں کام بھی کر رہے ہیں اور دونوں کا کام باہم مربوط بھی ہے۔-یہ سب آیات دیکھیں اور پھر ایک اور آیت جو ان سب سے منفرد ہے اور ” و من آیته ” سے ہی شروع ہو رہی ہے۔ وَمِنۡ ءَایَـٰتِهِۦۤ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَ ٰ⁠جࣰا لِّتَسۡكُنُوۤا۟ إِلَیۡهَا وَجَعَلَ بَیۡنَكُم مَّوَدَّةࣰ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِی ذَ ٰ⁠لِكَ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّقَوۡمࣲ یَتَفَكَّرُونَSurah Ar-Rum 21اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے اپنے نفسوں میں سے زوج پیدا کیے تا کہ تم سکون حاصل کرو—اور پھر اس نے تمھارے درمیان مودت اور رحمت ڈال دی۔—اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ —تو چلیں ہم غور و فکر کرنے والے لوگوں میں شامل ہو جائیں۔

1-سب سے پہلے آتے ہیں ” من انفسکم ” تمھارے نفسوں میں سے جوڑا بنایا۔بقائے انسانی کا سب سے پہلے وجود میں آنے والا رشتہ میاں بیوی کا رشتہ۔اماں حوا کا آدم کی پشت سے تخلیق کیا جانا۔ -دوسری بات اللہ نے پورے قرآن میں اگر کسی رشتے کو اپنی نشانی کہا ہے تو وہ میاں بیوی کا رشتہ ہے۔باقی سب نشانیاں آفاقی ہیں۔اور باقی کسی اور رشتے کو اپنی نشانی نہیں کہا اور حکمت یہی ہے کہ یہی رشتہ تو بنیاد ہے انسانیت کی بھی اور پھر ہر خاندان کی بھی۔(اور یہ وہ نشانی ہے جس کا ہم جہالت میں مذاق بناتے ہیں)2۔اللہ تعالی نے مرد کی طرف بلخصوص اشارہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کے ذریعے سکون حاصل کرتا ہے۔۔سکون کا مادہ ہے س ک ن۔سکن یعنی ٹھہر جانا اسی سے لفظ ہے ساکنا، یعنی رک جانا۔۔۔مسکن یعنی گھر اور گھر میں بھی انسان تھک ہار کر سکون پاتا ہے اور اس کی رہائش کی بنیاد گھر۔۔۔۔اسی سے ہے مسکین یعنی مالی تنگی اتنی ہے کہ زندگی ٹھہر چکی ہے اور اسی سے لفظ ہے سکون کہ انسان کی راحت کا انتظام ہو۔اسے ایک سے دوسری دفعہ سوچنا بھی نا پڑے کہ اسے کام سے واپسی پر اب کہاں جانا ہے۔۔جس طرح وہ تھک ہار کر گھر جا کر آرام کرتا ہے اسی طرح اس کے لیے اللہ نے اس کا جوڑا بنایا جس کی موجودگی اس کی بہت سی ضرورتوں کو پورا کرنے کا موجب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ جب وحی کے لیے کھولا گیا تو وہ گھبراہٹ و پریشانی کے عالم میں کس کے پاس گئے؟؟؟

وہ جان نثار صحابہ جو رسول اللہ کے ایک اشارے کے منتظر رہتے تھے،رسول اللہ وضو کرتے تو پانی ضائع کرنا تو دور کی بات بچے ہوئے پانی پر جگھڑتے تھے مگر صلح حدیبیہ کے موقع پر ان صحابہ کی یہ حالت کہ رسول اللہ کہہ رہے ہیں احرام کھول دو،بال منڈوا دو،قربانی کے جانور ذبح کرو مگر ابو بکر و عمر جیسے اکابر صحابہ بھی اپنی جگہ ساکن ہیں ۔۔۔۔پھر رسول اللہ کس کے پاس گئے ؟کس کے مشورے پر عمل کیا؟؟؟انہی جان نثار صحابہ کی موجودگی میں رسول اللہ ہر غزوہ میں اپنی کسی نا کسی زوجہ کو کیوں ساتھ رکھتے؟؟زندگی کی آخری سانسیں کس کی گود میں گزاریں ؟؟؟مسجد نبوی کے ساتھ ہی تھے نا ہجرے؟؟؟پیارے نبی چاہتے تو مسجد میں اپنا بستر بچھا لیتے اور صحابہ خوب خوب آپ کی خدمت کرتے مگر سکون کس کی گود میں؟؟اور کیا سکون صرف عورت ہی اپنے شوہر کو دیتی ہے۔یا مرد کا بھی کوئ حق ہے۔۔۔۔کیونکہ مرد و عورت کی ضروریات میں بھی فرق ہے۔عورت محبت،توجہ اور اظہار زیادہ چاہتی ہے- اس میں کچھ واقعات پر نظر ڈالتے ہیں کہ رسول اللہ اپنی ازواج کو کیسے مطمئن رکھتے ۔۔۔اس میں سب سے اہم حضرت عائشہ کا رسول اللہ کو 11 عورتوں کی لمبی کہانی سنانا اور رسول اللہ کا خوبصورت جواب ۔۔۔۔حضرت عائشہ سے اظہار کے تو واقعات بھرے ہوئے ہیں۔مگر آج ہم ایک دوسرے کو کتنا وقت دیتے ہیں۔

حضرت خدیجہ کو تمام عمر یاد رکھا اور ان کی یاد ان کی سہیلیوں اور رشتہ داروں کو تحائف دے کر یاد رکھتے کہ یہ وہ رشتہ تھا جس نے رسول اللہ کو ہر طرح سے مستحکم کیا۔اب آتے ہیں صحابہ اور بعد کے لوگوں کی طرف روایت حدیث میں جب حضرت عائشہ راویہ ہوتیں تو پتہ ہے صحابہ کیا کہہ کر روایت کیا کرتے !!”الصِّدِّيقةُ بنت الصِّدِّيق,, حبيبةُ رسول اللہ”آخری الفاظ پر غور کریں صحابہ خود کہہ رہے ہیں حبيبةُ رسول اللہ۔کتنا پیارا اظہار۔۔۔مقدس رشتے کا تقدس بھرا احترام حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس ایک شخص آیا کہ میں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کی ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ میں اس کے پاس جاوں تو مجھے اپنا دشمن خیال کرنے لگے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے یہ نہیں کہا کہ اب تو نکاح ہو چکا ہے تمھارا حق ہے بلکہ کہا کہ “تم اس کی ہر جگہ خوب تعریفیں کرو یہاں تک وہ خود تم سے مانوس ہو جائے”مقصد یہ کہ بیوی کی تعریف کرنا ان کے ہاں ہماری طرح ” معیوب ” نہیں تھا۔کہاں کہ اخلاقیات کی اتاہ گہرائیوں میں گر کر مذاق اڑانا۔اسی طرح قاضی شریح کا طویل واقعہ اپنی بیوی کی تعریف میں پڑھنے کو ملتا ہے۔(کسی کو پڑھنا ہو تو کمنٹس میں لکھ دے)

3-اب آتے ہیں مودت اور رحمت کی طرف –مودت ایک بہت ہی بلیغ لفظ ہے۔اس میں ظاہری محبت بھی داخل ہے اور دل کے اندر کی محبت بھی۔وہ محبت جو ہم بول کر بیان کرتے ہیں اسے ” حٌب” کہتے ہیں جیسے رسول اللہ۔ نے حضرت فاطمہ کو کہا تھا کہ اے فاطمہ مجھے عائشہ سے محبت ہے تو کیا تم اس سے محبت نہیں کرو گی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟(اظہار دیکھیے رسول اللہ کا)”حُب” کا لفظ محبت کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے ضروری نہیں کہ مخالف بھی محبت کرے مثلا حضرت یوسف کے قصے میں ( وَقَالَ نِسۡوَةࣱ فِی ٱلۡمَدِینَةِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِیزِ تُرَ ٰ⁠وِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفۡسِهِۦۖ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِی ضَلَـٰلࣲ مُّبِینࣲ) [Surah Yusuf 30] قد شغفھا حُبَّااب امرأة عزیز تو محبت میں گرفتار تھی مگر یوسف علیہ السلام اس سے بری تھے۔ یعنی محبت سے بھی آگے کا درجہ ہے مودت کا اور یہ شوہر اور بیوی دونوں میں ڈالا گیا ہے۔یہی وہ مودت ہے جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے عیوب ڈھانپتے ہیں۔۔۔ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ایک اگر غصہ کا تیز ہے تو ہو سکتا ہے دوسرا دھیمے مزاج کا ہو۔ایک میں اگر بچپنا ہے تو دوسرا پختہ سوچ رکھتا ہو۔ایک اگر جلد باز ہے تو دوسرا دور اندیش ہو۔ایک اگر علم میں زیادہ تو دوسرا حکمت میں زیادہ ہو ،ایک اگر صبح جلدی اٹھنے کا عادی ہے تو دوسرے کی نیند ہی اس کی مجبوری ہو۔

یہ سب اس لیے کہ دو افراد مل کر نا صرف ایک دوسرے کو مکمل کریں بلکہ صبر کے ساتھ ایک گھر اور ایک محبت کرنے والی نسل پروان چڑھائیں۔
یہی وہ مودت ہے کہ وہی لڑکا جو ماں کے گھٹنے لگ کر بیٹھتا ہو مگر ماں بیوی پر چڑھائی کرے تو چیخ اٹھتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ ” رن مرید ” کہہ کر آہستہ آہستہ اس کی غیرت ختم کرتا ہے،مذاق کے نشتر اتارتا ہے اب بے شک وہ حلال بیوی ہونے کے باوجود “سکون کی حس” کہیں اور سے پوری کرنے کی کوشش کرے۔۔۔۔یہ بات صحیح ہے کہ کچھ لطیفے واقعی بہت مزے کے ہوتے ہیں۔آدمی بے ساختہ مسکرا دیتا ہے مگر جس طرح رشتے کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے جیسے بیوی عزت کے قابل ہی نہیں۔یہی وجہ ہے ہماری دلہنیں ہی رخصتی کے وقت کیوں روتی ہیں؟ان کو پتہ ہے کہ ان کو کس کس زاویے سے جانچا جائے گا۔اب آتے ہیں رحمت کی طرف کہ جب یہی جوڑا کمزور ہونے لگے،یا دونوں میں سے کوئی ایک، خوبصورتی مانند پڑنے لگے،جذبات بھی ویسے نا رہیں تو پھر بھی اپنی پچھلی بہترین زندگی کی بنیاد پر رحمت کا معاملہ کریں۔اللہ تعالی نے گھر بچانے،الفت و محبت قائم کرنے کے کیا کیا انتظامات کیے،اپنے رسول کی زندگی کیا صرف نماز روزے جہاد کی حد تک ہے؟کیا یہ اسوہ حسنہ میں شامل نہیں۔

اللہ تعالی ہمیں رسول اللہ اور صحابہ کی ان سنتوں پر بھی عمل پیرا کرے۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اس رشتہ کو بھی اس کے اصل مقام پر رکھیں
اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی حلال محبت پر خوش ہوں اور سب سے بڑھ کر جہاں جہاں ان لطیفوں کے ذریعے values کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو تو اسے discourage کیا جائے۔لکھنے کو اور بھی بہت کچھ ہے مگر توجہ اس طرف دلانا مقصود ہے کہ یہ رشتہ لطیفوں کے لیے نہیں ہے اپنی حس لطافت کہیں اور سے پوری کریں۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں