راہ ہدایت – سیدہ شفاء نعیم




نصف رات بیت چکی تھی ۔ بارش کی رم جھم جاری تھی جو کہ باہر کے موسم کو تازگی بخش رہی تھی ۔ زمین بارش کے پانی کو اپنے اندر جذب کیے بھینی بھینی خوشبو ہر سو بکھیر رہی تھی ۔ لیکن اس کے دل کی زمین ناجانے کیوں بنجر اور ویران سی تھی۔ اس کی گھٹن تھی کہ بڑھتے ہی جارہی تھی۔ باہر کا موسم اندر کے موسم پر بالکل بھی اثر انداز نہیں ہو رہا تھا ۔ بظاہر تو وہ کسی محرومی کا شکار نہیں تھی ،اسے دنیا کی ہر نعمت حاصل تھی ۔

لیکن ایک چیز تھی جو وہ بہت کوشش کے باوجود بھی حاصل نہیں کر پا رہی تھی ۔ اطمینان اور سکون ۔ آخر اس کی زندگی کا مقصد کیا تھا ؟ کرن آفتاب کی زندگی بھی ایک صحرا کی مانند تھی جہاں اپنی پیاس بجھانے کو وہ بھٹکتی پھرتی تھی۔ کئی بار بظاہر دکھائی دیتے سمندر کے پیچھے دوڑی لیکن جب وہ وہاں پہنچتی تو سراب اور دھوکے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا ۔ آخر وہ کیا چیز ہے جو اس کے دل کی بنجر زمین کو آباد کر دے اور اسے سکون و اطمینان بخشے ۔ انہیں سوچوں میں گم ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ اگلی صبح اس کی زندگی میں کونسی بہار لانے والی تھی وہ نہیں جانتی تھی ۔
……………………………………………….
“رات کی بارش سے ماحول کتنا نکھر گیا ہے ناں! ” رافعہ نے خوشگوار موڈ میں کہا ۔” جب انسان کے اندر بے سکونی اور اداسی ڈیرے ڈال دے تو باہر کا موسم بھی اس پر بے اثر ہی رہتا ہے۔ ” وہ فقط سوچ کر رہ گئی اور جواباً اثبات میں سر ہلادیا ۔ پوری کلاس میں رافعہ وہ واحد لڑکی تھی جس کے ساتھ اس کی اچھی واقفیت تھی ۔ عمومی طور پر وہ اپنی ذات تک محدود رہنے والی خاموش طبع لڑکی تھی ۔ “میں آج تمہارے گھر آنا چاہ رہی تھی کمبائن اسٹڈی کیلیے۔ ” اس نے رافعہ سے کہا ۔”ہاں ضرور آنا لیکن پانچ بجے کے بعد ۔ مجھے چار سے پانچ بجے درس قرآن اٹینڈ کرنا ہے ۔ ” رافعہ نے خوش دلی سے کہا۔ دو ایک بار پہلے بھی وہ درس قرآن میں جانے کا ذکر کر چکی تھی۔ “میں بھی تمہارے ساتھ جانا چاہتی ہوں ۔” غیر ارادی طور پر اس نے بے ساختہ کہا۔”درس قرآن میں جانا چاہتی ہو ؟ ” رافعہ کے لہجے میں حیرت و استعجاب تھا۔ کرن نے کسی گہری سوچ کے اثر میں اثبات میں سر ہلا دیا ۔وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس نے ایسا کیوں کہا ہے۔ رافعہ کرن کے گھر کے ماحول سے بخوبی آگاہ تھی ۔ کرن ایک دنیادار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔ اس کے والدین دین سے کوسوں دور دنیاوی نمود و نمائش میں مگن رہتے جبکہ بہنیں نت نئے فیشن کی دلدادہ ۔ایسے میں کرن کی درخواست چونکانے کی حد تک حیران کن تھی ۔ رافعہ نے وقت ضائع کیے بغیر ہی فوراً کہا:” ضرور چلو ۔ وقت پر آجانا ۔ ساتھ چلیں گے ۔”
…………………………………………………………………..

اس نے ایک طائرانہ نظر کمرے میں ڈالی۔ وہ ایک بڑا لاؤنج نما کمرہ تھا ۔ کمرے کی دیواریں فریم میں لگی ہوئی خوبصورت خطاطی سے سجی ہوئی تھیں۔ کمرے کے وسط میں دری بچھی ہوئی تھی جس پر اٹھارہ سے بیس لڑکیاں گول دائرے کی صورت میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ ساری لڑکیاں کرن اور رافعہ کی تقریباً ہم عمر تھیں اور ان ہی کی طرح کالج یا یونیورسٹی کی طالبات تھیں۔ ان کے چہرے معصوم اور آنکھیں روشن تھیں ۔ کرن نے رشک بھری نظروں سے انہیں دیکھا ۔ ان سب کے انداز میں ایک ٹھہراؤ تھا جو ان کے دلی سکون و اطمینان کا پتہ دیتا تھا۔ کرن نے اپنی تمام تر توجہ اس لڑکی کی طرف مبذول کر لی جو درس قرآن دے رہی تھی۔ درس شروع کرنے سے قبل اس نے اپنے تعارف میں بتایا تھا کہ اس کا نام مہرین اقبال ہے اور وہ سافٹ ویئر انجینئرنگ تھرڈ ائیر کی طالبہ ہے۔ احتراماً اسے لڑکیاں “مہرین باجی” کہہ کر پکار رہی تھیں ۔ وہ سورۃ العصر کا درس دے رہی تھیں ۔ “قسم ہے زمانے کی! انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے ۔” مہرین باجی نے بہت تفصیل کے ساتھ ہر پہلو کو خوبصورت انداز میں سمجھایا تھا یوں کہ کرن کو محسوس ہورہا تھا کہ ان کا ہر ہرلفظ اس کے دل میں اتر رہا تھا ۔ “ایمان صرف کلمہ پڑھ لینے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک شخص تب تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللّٰہ کے احکامات کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا ۔

جب تک اس کا دل رضائے الہٰی کی خاطر نیکیاں کرنے کیلیے نہیں مچلتا اور جب تک چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی انسان کو اپنے اوپر بار محسوس نہیں ہوتا ۔” کرن اپنی زندگی کا جائزہ لینے لگی ۔ کیا کسی عمل کو کرتے ہوئے اس نے یہ سوچا تھا کہ اس کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو خوش کرے گا؟ کہیں اس کا عمل احکامات الٰہی کے منافی تو نہیں ہے؟ اس نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا ۔ اس نے تو فقط دنیاوی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی تھی ۔ اسے فقط اپنی دنیاوی کامیابی کی پرواہ تھی ۔ آخرت جو کہ ابدی ٹھکانہ ہے اس کی کامیابی کے بارے میں تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جس رب نے اسے بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے اس کی رضا کس چیز میں ہے ؟ جیسے جیسے مہرین باجی تفسیر بیان کرتی جا رہی تھیں ۔اس کا دل ندامت و شرمندگی کے دلدل میں ڈوبا جارہا تھا۔ تب ہی مہرین باجی نے وہ بات کہی جو اس کی زندگی کو نیا رخ دینے والی تھی ۔” امر بالمعروف و نہی عن المنکر وہ کام ہے جس کی ذمہ داری ہم سب مسلمانوں پر ہے ۔ آپ اللہ تعالیٰ کی وہ بندیاں ہیں جنہیں اللہ نے اپنے اس کام کے لیے چن لیا ہے۔ آپ پر ایک بڑی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔ ” مہرین باجی مزید وضاحت کر رہی تھیں لیکن اس کا ذہن تو جیسے ان چند بے مول الفاظ پر مرکوز ہو کر رہ گیا تھا ۔ کیا واقعی اسے اللّٰہ نے چن لیا تھا ۔

اس کا یہاں آنا فقط اتفاق نہیں تھا بلکہ وہ یہاں لائی گئی تھی ۔ اس کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ چکی تھیں ۔ درس کے اختتام کے بعد سب لڑکیاں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رخصت لے رہی تھیں ۔ ان کے ہر ہر انداز میں ایک دوسرے کے لیے محبت ہی محبت تھی ۔ وہ ایک دوسرے سے اللّٰہ کے لیے جڑی ہوئی تھیں ان سے زیادہ خالص اور گہری محبت کس کی ہو سکتی تھی ۔ اسی اثناء میں مہرین باجی کرن کی طرف آئیں تو اس نے پوچھا ۔ ” میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کی نیک بندی بننا چاہتی ہوں ۔ اس کو راضی کرنا چاہتی ہوں ۔ کیا اللّٰہ تعالیٰ میری خطائیں معاف کر دیں گے؟ مجھے اپنی محبوب بندیوں میں شامل کر لیں گے ؟ ” اس نے رشک بھری نظروں سے باقی لڑکیوں کی طرف نگاہ دوڑائی ۔ مہرین باجی نے مسکراتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا ۔ ان کے اس محبت بھرے انداز پر اس کا دل جیسے نکھر سا گیا۔ بغیر کسی رشتے کے اسے مہرین باجی سے انسیت محسوس ہونے لگی تھی۔ ” کرن آپ جانتی ہیں کہ آپ اللّٰہ تعالیٰ کی محبوب بندی ہیں ۔ جبھی آپ اپنے پرانے طرز عمل پر نادم ہیں ۔ وہ غفور و رحیم ہے بس دل کی گہرائیوں سے توبہ کرنے اور اپنا طرز عمل اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔” مہرین باجی کے الفاظ سن کر کرن کے دل سے منوں بوجھ دور ہوگیا ۔”میں بھی آپ کی طرح اس حلقے میں شامل ہونا چاہتی ہوں ۔” اب کی بار اس نے یہ فیصلہ اپنے پورے ارادے کے ساتھ مکمل دلی رضامندی کے ساتھ کیا تھا ۔
…………………………………………………………

کرن نے کبھی قرآن کے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ کبھی مہینوں میں قرآن مجید کی تلاوت کر لیا کرتی تھی۔ الفاظ کے معنی و مطلب اور غور و فکر کرنے کی جستجو کبھی نہ کی تھی۔ لیکن اب اس کا دل مزید حصول علم کے لیے بے قرار تھا ۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس سے کیا چاہتے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ اس کی کس بات سے خوش ہوں گے ۔ اس نے باقاعدگی کے ساتھ قرآن کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی اب وہ قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھتی تھی۔ بہت سے سوالوں کے جواب ملے تھے کئی شبہات دور ہوئے تھے۔ زندگی نے اپنے حقیقی مقصد کو پالیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دین کی دعوت کا کام بھی کر رہی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کے قریبی لوگ بھی جنت میں اس کے ساتھ ہوں ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کرتے ہوئے اسے دلی سکون و اطمینان حاصل ہوتا تھا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کا دل ایک ہی چیز سے سیراب ہو سکتا ہے اور وہ ہے رضائے الٰہی کا حصول۔ مایوسی کے بادل چھٹ چکے تھے ۔امید کی کرن ہر سو پھیلی ہوئی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں