ا م المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا




سترہ رمضان المبارک کو امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا یوم وصال ہوتا ہے. مجھے نہیں معلوم کہ کب میں اماں کے عشق میں گرفتار ہوئی. مجھے بس یہ یاد ہے کہ بچپن ہی سے اماں سے منسوب ہر واقعہ ہر حدیث غور سے سنتی تھی. زرا بڑی ہوئی تو واقعہ افک کا پتا چلا. سورہ نور کی تفسیر پڑھ ڈالی. جب اس سے متعلق احادیث پڑھا کرتی تھی تو مجھے لگتا ہے کہ جب اللہ نے اماں کی پاکدامنی کی گواہی دی تو جیسے میرے سامنے ہی اماں کی والدہ ام رومان کہتی ہیں اماں کو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو.

اللہ نے تمہاری بے گناہی رہتی دنیا تک ثابت کردی ہے. اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی بیگم ادا سے کہتی ہیں کہ ان کا کیوں کروں میں تو اللہ کا شکر ادا کروں گی. مجھے اماں کے ہر ناز ہر ادا پہ صدقے واری ہونے کو دل کرتا ہے. اماں کیسی نصیبوں والی تھیں کہ میرے آقا ان سے دوڑ میں ہار جاتے تھے. بھلا سرکارِ دو عالم کو کون ہرا سکتا ہے لیکن آقا نے اپنی محبوب بیوی پہ شفقت فرمائی.مجھے لگتا ہے کہ اماں نے میرے سامنے ثرید کی پلیٹ توڑ دی کہ سوکن کی ہمت کیسے ہوئی جو میری باری پہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بھیجے. سرکار اس وقت بھی خفا نہیں ہوتے بلکہ روٹھی بیوی کو مناتے ہیں. فرماتے ہیں کہ عائشہ کو دنیا کی عورتوں پہ وہی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو سارے کھانوں پر. مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اماں کی نوک جھونک سے زیادہ کچھ رومینٹک نہیں لگتا. سرکار کا اماں کو چھیڑنا اور پھر اماں کا تنک کر جواب دینا. ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ کو ایک جواب سکھا دیا کہ اگر اب عائشہ یہ کہیں تو یہ جواب دے دینا. جب اماں نے کہا کہ تمام امہات المومنین میں سے صرف میرے ہی والدین مسلمان ہیں تو حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جو ایک یہودی گھرانے سے تھیں فرمایا کہ میرے تو والد ( ہارون ) بھی نبی اور چچا ( موسی) بھی نبی. اماں فوراً چونکیں کہ یہ آپ کو کس نے سکھایا.

یہ آپ کا جواب نہیں لگ رہا. تو صفیہ بولیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے. اماں نے فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہماری آپس کی بحث میں آپ کمک فراہم نہ کریں. ہائے میری اماں کی صاف گوئی اور شوہر پہ مان اور استحقاق. اماں کی وجہ سے امت کو تیمم ملا. اماں پہ دشمنوں کی رکیک کردارکشی پہ بہتان کی سزا اور قانون آیا. جب سورہ احزاب میں اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے پوچھا کہ کیا فیصلہ کرتی ہو. چاہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کرلو یا پھر اسی تنگی ترشی میں گزارا کرو تو سرکار نے سب سے پہلے اماں سے ان کا فیصلہ پوچھا بلکہ یہ بھی کہا کہ ابھی جواب مت دو. اپنے والدین سے مشورہ کرلو تو اماں نے کہا مجھے کسی سے کوئی مشورہ نہیں کرنا. مجھے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے.جب اسلامی مملکت خوب وسیع ہوگئی اور اماں کے پاس مختلف بادشاہوں کی طرف سے درہم و دینار آتے تو ایک دن میں سب بانٹ دیتیں. بریرہ کہتیں بھی کہ روزے سے ہیں. چند درہم رکھ لیتیں تو گوشت سے افطار کرلیتیں. تو میری بے نیاز اماں فرماتی ہیں کہ پہلے یاد دلانا تھا نا اب تو سب کچھ بانٹ دیا.اماں حسین تھیں. ذہین تھیں. گفتگو کے آداب سے واقف تھیں. حاضر جواب تھیں. قابلِ رشک حافظے کی مالک تھیں اور سب سے بڑی بات وہ اللہ کے محبوب کی محبوب تھیں.

اماں سے اسی عشق پہ اس گناہگار، سیاہ کار کو ایک آس ہے کہ اماں مجھے اپنے قدم چومنے دیں گی. مجھ پہ ایک نظر التفات کی ڈال لیں گی. آپ سب سے اس بابرکت مہینے میں درخواست ہے کہ اللہ میری یہ خواہش پوری فرمائے آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں