جمیعت میری – مشکوۃ عبدالوحید




ہے قلب و جاں سی میراث میری
ہے پاکباز پیاری جمیعت میری

میرے گفتار و کردار کو سنوارے رکھے
ہے راہ تربیت جمیعت میری
مجھے تھام کہ جو حق پر رکھے
ہے ایسی دوست جمیعت میری

مجھے بھٹکنے دے نہ تنہا کرے
اندھیرے میں جگنو جمیعت میری
سمندر سا جس میں ٹہراؤ ہے
دریا سی رواں ہے جمیعت میری

کیا ہر موڑ جس نے ہے مقابلہ
باطل کو پہاڑ ہے جمعیت میری
تاروں کی جھرمٹ میں قمر کی مانند
بہارِ گلستان ہے جمیعت میری

ہر جانثار جمیعت کی ہے یہ دعا
سدا شادماں رہے جمیعت میری

اپنا تبصرہ بھیجیں