نیک بیوی – رمشاءسلیم فاروقی




گورنر نجم الدین ایوبی کافی عمر ہونے تک شادی سے انکار کرتا رہا،ایک دن ان کے بھائی اسد الدین نے ان سے کہا:بھائی تم شادی کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟؟نجم الدین نے جواب دیا:میں کسی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا.اسدالدین نے کہا:میں آپ کیلے رشتہ مانگوں؟؟نجم الدین نے کہا:کس کا؟؟اسدالدین نے کہا:ملک شاہ بنت سلمان بن مالک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر الملک کی بیٹی کا۔۔۔؟؟؟نجم الدین:وہ میرے لائق نہیں،اسدالدین حیرانگی سے:پھر کون تیرے لائق ہوگی؟؟؟

نجم الدین نے جواب دیا:”مجھے ایسی نیک بیوی چاہئے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اسی سے میرا ایک ایسا بیٹا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔۔۔”اسدالدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا:ایسی تجھے کہا ملے گی؟نجم الدین کہا:نیت میں خلوص ہو تو اللّٰہ نصیب کرے گا۔۔۔۔۔ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے ایک شیخ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ہی شیخ کو آواز دی، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلے نجم الدین سے معذرت کی۔۔۔۔۔نجم الدین سنتا رہا شیخ لڑکی سے کیا کہ رہا ہے۔شیخ نے لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کردیاجس کو میں نے بھیجا تھا؟؟لڑکی: اے میرے شیخ اور مفتی وہ لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر میرےلائق نہیں تھا۔شیخ:تم کیا چاہتی ہو۔۔۔؟؟؟لڑکی: “شیخ مجھے ایک ایسے شخص کا ساتھ چاہیے جومیرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللّٰہ اک ایسا بیٹا دے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔۔۔”نجم الدین حیران رہ گیا جو وہ سوچتا تھا وہی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی۔۔۔نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میری شادی کروادیں۔۔۔

شیخ:یہ محلے کی سب سے غریب گھرانے کی لڑکی ہے۔۔۔نجم الدین:میں یہی چاہتا ہوں۔نجم الدین نے اس غریب متقی لڑکی سے شادی کرلی اور اس سے وہ شہسوار پیدا ہوا جسے دنیا”صلاح الدین ایوبی” کے نام سے جانتی ہے۔۔۔ جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول” بیت المقدس ” کو آزاد کروایا۔۔۔امت کی درد اور فکر رکھنا پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت ہیں۔ہمارے اسلاف کی یہی سوچ اور فکر ہم نوجوانوں کے اندرپیدا ہوتو آج بھی صلاح الدین ایوبی رح جیسے فرزند پیدا ہو سکتے ہیں۔”ایک حدیث کا مفہوم ہےکہ: “مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں، اگر دنیا کےکسی حصے میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچے تو ہمیں یوں محسوس ہوکہ ہمارے جسم میں تکلیف ہورہی ہو۔”ایک طرف تو وطن عزیز کا ایک حصہ کشمیر بدقسمتی سے اب تک 73سال سے انڈیا کی ستم ظریفی کا شکار ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کا قبلہ اول “بیت المقدس ” یہودونصاریٰ کے شکنجےمیں مسلسل ظلم وستم کا شکار ہے۔فلسطینی مسلمان اپنے ہی وطن میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں محسور ہوکر رہ گئیں ۔یہودونصاریٰ نے فلسطین میں ناجائز قبضہ کرکے “اسرائیل”کےنام سے ایک ریاست کی بنیاد ڈالی جہاں پوری دنیاسے یہودیوں کولاکر بسایا۔اسرائیلیوں نے فلسطینیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جوکہ آج تک جاری ہے۔

آج ہمیں خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ،محمد بن قاسم رح اورسلطان صلاح الدین ایوبی جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہیں جومسلمانوں کو شام، کشمیر ، ارکان، فلسطین سمیت دیگر مقبوضہ علاقوں کو کفار و مشرکین اور یہودوہنود کے ظلم وستم سے نجات دلاسکیں ۔افسوس آج ہماری نوجوان نسل فضولیات میں اپنا قیمتی وقت برباد کررہی ہیں ۔ہمیں اپنے اسلاف کے شاندار ماضی سے سبق حاصل کرنی چاہئے جنہوں نے اپنےوقت کو قیمتی بناکر امت مسلمہ کی رہنمائی اور فلاح وبہبود کےلیے اپنی زندگیوں کو قربان کردیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں