جوانی کی محبت – عائشہ فہیم




تم میری دورِ جوانی کی محبت ہو! وہ محبت جو تکمیلِ مدت کے بعد بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دل میں زندہ رہتی ہے۔۔جس کی مہک پورے وجود کو معطر رکھتی ہے, جس کی یاد سرور دیتی ہے, جس سے کشید کیا ہوا عرق زندگی میں مٹھاس بھردیتا ہے, جو زندگی میں کسی بہار کی سی مانند رہی اور آج بھی یاد آئے تو اردگرد بہاریں محسوس ہوتی ہیں۔۔ جس کے دامن میں موجود لوگ انمول ہیں, خوبصورت دل رکھتے ہیں, محبت کی چاشنی بکھیرتے ہیں۔ زندگی کا حسن ایسے ہی لوگوں سے تو قائم ہے!

تمہیں پتہ ہے میری الماری میں, میری کتابوں کے اوراق میں, میرے بیگ میں, کسی دراز میں پرانے رکھے کسی صفحے میں, میری ڈائریوں میں جگہ جگہ تمہارے رنگ بکھرے ہیں۔۔ تم زندگی کے کینوس پہ رنگ بکھیرنے ہی تو آئی تھی۔۔۔اور تم نے کتنے ہی لوگوں کی زندگیوں میں خوبصورت رنگ بکھیرے ہیں۔۔ اللہ کا رنگ, اس کی مخلوق سے محبت کا رنگ, بامقصد زندگی کے کئی رنگ۔۔ اور یقین کرو! نفسا نفسی کے اس دور میں یہ رنگ دنیا کی تصویر کو خوبصورت بناتے ہیں, رہنے کے قابل, محبت کرنے کے قابل۔۔! زندگی کے کتنے ہی کٹھن مراحل اللہ کے اذن سے تمہاری رفاقت میں سہل ہوگئے تھے۔۔ تم نے جوانی کی ڈور تھامے رکھی, تمہارے دم سے کتنی حسین محفلوں کا حصہ بننا نصیب ہوا، جن کی “اصل” بہت پاکیزہ بھی تھی, اور وژنری بھی! کتنے ہی رت جگے تم نے بامقصد کردئیے۔۔۔تم نے ہی تو بڑے خواب بُننا سکھائے تھے۔اور پھر ان خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کا حوصلہ دیا تھا۔۔اور تمہارے لوگ کیسے خواب دیکھتے تھے بھلا! جو کسی کی آنکھوں میں “اپنے لئے” نہیں ہوتے تھے۔۔ ہر آنکھ بڑے خواب دیکھتی تھی, لیکن دوسروں کے لئے! اُمّت کے لئے, وطنِ عزیز کے لئے, اپنی جیسی اور لڑکیوں کے لئے..! تمہارے ساتھ رہ کر ہم نے آہستہ آہستہ چلنا اور پھر دوڑنا سیکھا۔۔

پہلے جو وقت manage نہیں ہوتا تھا, وہ اتنا کمال سے ہونے لگا کہ ہم خود حیران ہوتے تھے۔۔ تم نے اپنے دامن میں کتنے ہیرے جواہرات سمیٹے تھے۔۔ تم نے ہمیں زندگی کو برتنا بھی سکھایا,زندگی کے کتنے ہی نشیب و فراز ہم نے تمہارے سنگ سمجھے اور پرکھے تھے۔۔ کتنی ہی لڑکیوں نے اپنی جانوں کو دین کی راہ میں گھلانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔۔ اور تمہارے زیرِ سایہ رہنے کے بعد کتنی ہی ایسی تھیں جو نسلوں کی بہترین تربیت کی امین رہیں, جن کے نقوش دیرپا رہیں گے! کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ تم نے ہمیں ایک بوجھ دے کر کئی “بوجھوں” سے آزاد کردیا تھا؟! ایک غم “غمِ آخرت” دے کر کتنے ہی غموں سے ہلکا کردیا تھا۔۔تمہاری آنکھیں ٹھنڈی تو ہوتی ہوں گی؟ کہ خوبصورت جوانی کے یہ ایام کتنی لڑکیاں یہاں گزارتی ہیں, اور معاشرے کو کچھ دے کر جاتی ہیں۔۔ تم اس حوالے سے خوش قسمت ہو کہ ایسی کوئی نظیر شاید ہی کوئی ملے جہاں اوپر سے نیچے تک صرف طالبات ہی اتنے بڑے مشن کو لے کر چل رہی ہوں۔۔ جن کی قیادت بھی طالبات کے ہاتھ میں ہو, فیصلے بھی وہی کریں, اور میدان میں بھی وہی ہوں۔۔ کیا کوئی اتنے بڑے بڑے ایونٹس, فیسٹیولز, کانفرنسز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگاسکتا ہے کہ اس سب کا بوجھ کتنے معصوم کاندھوں نے اٹھایا ہوگا؟! کتنی ہی لڑکیوں کی محنتیں, شب و روز, ریاضتیں اس میں لگی ہوں گی۔۔ ان سب کو دیکھ کر حضرت ام عمارہ رض, حضرت خولہ رض کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔۔

تم مجھے چلتی ٹرین کی مانند لگتی ہو۔۔ جس کے اندر بیٹھنے اترنے والے مسافر تو تبدیل ہوتے رہتے ہیں, لیکن وہ اپنی سمت رواں دواں رہتی ہے۔۔ اس کا کام ہی چلتے رہنا ہے! مسافر آتے ہیں, اپنا وقت گزارتے ہیں, جس کا اسٹیشن آجاتا ہے وہ اترتا ہے اور بیٹھے مسافر ایک وقت تک اسے ہاتھ ہلاتے رہتے ہیں, یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔۔ اور تم۔۔۔ تم نئے مسافروں کے ہمراہ سفر جاری رکھتی ہو! لیکن جانتی ہو اس سفر میں کیا خاص ہے؟ تم اپنے مسافروں کو اس قلیل وقت میں مسلسل learning process سے گزارتی ہو, انہیں اعتماد دیتی ہو, ان کمزور کاندھوں کو مضبوط کرتی ہو, انہیں جری بناتی ہو, تم انہیں منزل پہ پہنچنے سے قبل نشانِ منزل دیتی ہو! تمہاری یادوں کے سنہری اوراق میں کتنے ہی لوگ محفوظ ہوں گے۔۔ وہ جو اب بچھڑ گئے, وہ جنہوں نے اپنا سب کچھ گھلادیا ہوگا پھر بھی گمنام سپاہی رہے, وہ جو آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں تمہارا عکس ہیں, جو روشنیاں بکھیر رہے ہیں, جو مسیحا کی مانند ہیں۔۔ سُنو! 50 سال کی طویل عمر گزارنے کے بعد بھی تمہاری اصل ویسے ہی جوان ہے جیسے اول روز سے تھی۔۔ بدلتے حالات و وقائع نے بہت سی چیزیں, انداز و اطوار ضرور بدلے ہیں, لیکن تیزی سے پھیلتے شر کے آگے تم ننھا سا سہی لیکن مضبوط بند ہو۔۔ تم زمین کا نمک اور پہاڑی کا چراغ ہو! تم نے کتنے دئیوں سے دئیے جلائے ہیں۔۔ تمہارے چراغ میں ٹمٹماتا شعلہ تمہارے ساتھ چلنے والے راہیوں کے لئے امید ہے, ایقان ہے, حوصلہ ہے!

قبر کی تنہائیوں اور وحشتوں میں جب تمہارے ان راہیوں سے ان کی جوانی کی بابت سوال ہوگا, تو کچھ تو توشہ ہوگا ان کے پاس, جو وہ پیش کرسکیں گے, ایامِ جوانی کی ٹوٹی پھوٹی کوششیں! اس امید کے ساتھ کہ انہیں قبولیت کا شرف حاصل ہو, وہ منظورِ نظر ٹھہریں۔۔۔تم سے اول تا آخر سب رودادیں سننے کا دل ہے۔۔ سوچا ہے کہ اللہ میاں سے جنت میں فرمائش کرنی ہے ان شاء اللہ, کہ تمہیں بلائیں, ہمارے ساتھ گزارنے کا وقت دیں۔۔ ہم تمہیں تخت پہ بٹھائیں گے, تمہارے سامنے بیٹھیں گے, اور تم سے سب قصے سنیں گے, تم پہ کیا کچھ بیتی, کب تم خوش ہوتی تھیں, کون سے حالات تمہیں غمگین کردیتے تھے, تم نے اپنے اندر کیسے کیسے جواہرات سمیٹے تھے, ان سب لوگوں کو سنیں گے۔۔۔! کسی باغ میں, کسی پیڑ کی ٹھنڈی چھاؤں میں, میٹھا ذائقہ دار مشروب ہاتھ میں لئیے, ساتھ بہتی نہر کے کنارے۔۔۔سناؤ گی ناں ہمیں؟ خدا ہمیں اچھے حال میں ملوائے۔۔کامیابی کی نصف صدی تمہیں مبارک ہو!

اپنا تبصرہ بھیجیں