خودداری – عالم خان




خود ایسی حالت میں پڑھا ہے کہ میرے پاس فیس کے پیسے تھے نہ کتابوں اور کھانے کے، پوری ڈگری میں ایک دن کے لیے بھی ہاسٹل اپنے نام نہ کرواسکا کبھی دوستوں کے پاس تو کبھی مسجد میں سوتا تھا کپڑے ایک کمرے میں ہوتے تو کتابیں دوسرے میں کیوں کہ قانونی طور یونیورسٹی کے اندر ہاسٹل نہ ملتا تھا اور نہ میرے پاس ہاسٹل فیس تھی اس وقت حالات ایسے تھے کہ ناشتہ کرنے کا خیال تو کب سے دل سے نکال دیا تھا پر ہر روز یہ فکر رہتی تھی کہ آج دوپہر کو کھاؤں تو شام کو کھانے کا کیا بندوبست ہوگا جب دو وقت کھاتا تو یہ فکر رہتی کہ چالیس دن بعد گھر جاؤں گا تو کرایے کا کیا کروں گا۔

حالات کبھی اس نہج پہ پہنچتے کہ حوصلہ صفر ہوجاتا یونیورسٹی گیٹ سے اپنا بیگ ہاتھوں میں لیے باہر جانے اور یونیورسٹی کو الوداع کہنے کا منظر آنکھوں کے سامنے دکھائی دے رہا تھا کہ اب مزید پڑھنا دشوار ہے اس وقت کوئی راہنمائی یا حوصلہ افزائی کرنے والا نہ تھا کہ اس غربت کا مقابلہ فاقوں کے علاوہ کیا جاسکتا۔ یہ تو اللہ کا کرم تھا کہ اس نے جسم سے لاغر لیکن حوصلے سے مضبوط بنایا تھا حالات کے طوفان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا کیا اور میرے خوابوں کو تعبیر دی۔ الحمد للّٰہ

جب سے ترکی آیا ہوں اور دونوں ممالک کے نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں کا قریب سے مشاہدہ اور موازنہ کیا تو سمجھ گیا کہ ہمارے غریب بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھینے میں جہاں مہنگے نظام تعلیم کا ہاتھ ہے وہاں سماج کے رویوں کا بھی ہے ہمارے غریب سے غریب تر بچے جب کالج اور یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں تو ان میں اکثریت پڑھائی کے ساتھ پارٹ ٹائم جاب کے خواہاں نہیں ہوتے جو ہوتے ہیں تو ان کو ایسی نوکری چاہیے ہوتی ہے جو اچھی ہو وہ یہ توہین سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود میں ایک ریسٹورنٹ میں ویٹر یا ڈِش واشر کا کام کروں گا مائنس ایک پرسنٹ ایسے ہوں گے جو اس کام کے لیے بھی راضی ہوں لیکن پہلے کاروباری طبقہ ان کو نوکری نہیں دیتا اور جن کو ملتی ہے تو سماج، کلاس فیلوز اور احباب مذاق اڑاتے ہیں حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

ترکی اور یورپ میں لڑکے اور لڑکیاں خوشی اور فخر کے ساتھ دکانوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹوں اور قہوہ خانوں میں پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں نہ دوستوں کی طرف سے ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے نہ وہ خود اس احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ سماج ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاجر برادری بھی انہی کو خوشی سے جاب دیتی ہے مستقل نا ہو تو وقتی طور پر اپنے پاس کام پر رکھتے ہیں تاکہ دونوں کی ضروریات پوری ہوجائیں۔

اس رواداری، اخوت، تعاون اور حوصلہ افزائی کا کئی بار نظارہ کیا ہے۔ ایک کیفےٹیریا میں بیٹھا تھا کہ میرے ایک سٹوڈنٹ “فرقان” کو مالک سے حساب کتاب کرتے ہوے دیکھا ان کا لین دین جب ختم ہوا تو میرے پاس آیا میرے دریافت کرنے پہ کہا کہ سر پچھلے ہفتے ساتھ والی بک شاپ سے میں نے “فقہ السنہ” خریدنے کا ارادہ کیا پیسے نہیں تھے اس سے بات کی کہ آپ اگر وہ پیسے دیں تو اس کے بدلے میں آپ کے ہاں برتن دھونے یا ویٹر کا کام کروں گا اس نے رضامندی ظاہر کی میں نے کتاب اٹھائی اس کے عوض دس دن یہاں کام کرنے کا ایگریمنٹ ہوا آج پورا ہوا شکریہ ادا کیا اور ہاسٹل جا رہا ہوں وہ فخر سے بولتا رہا میں سنتا رہا اور اس کے آنکھوں میں خودی کی روشنی کا نظارہ کرتے ہوے سوچتا رہا کاش میرے دیس کے بچے، سماج اور کاروباری طبقہ بھی ایسا ہوتا تو کوئی بھی عالم خان غربت کی وجہ سے تعلیم ادھورا رہنے کے خوف سے روز روز نہیں مرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں