بچوں کو ڈیل کیسے کریں؟؟ محمد اسعد الدین




یہ راکٹ سائنس نہیں آسان طریقہ ہے بس تھوڑی توجہ اور اس خیال سے کہ آج ہم بچے کے ساتھ جیسا کررہے ہیں ویسا ہی رزلٹ ساتھ ساتھ تیار ہورہا جو کسی بھی وقت سامنے آجائے گا۔۔۔۔۔۔۔کیا کریں؟؟؟غور سے دیکھیں توجہ سے سنیںبچے کے لیول پر آکر سمجھیں ،جتنی ضرورت ہو اتنا سمجھائیں

ہم سب نارمل کے بجائے فل اسپیڈ سے بھاگتی دنیا میں رہ رہے ہیں اسی لئے جب سارے کام نمٹا کر، ٹائم، انرجی خرچ کرنے کے بعد گھر آتے ہیں تو بس وقت کا کھرچن ہی بچتا ہے اس حالت میں سارے دن کی اپ ڈیٹ لیتے ہیں تو نہ دلچسپی اور نہ ہی دھیان’ بچوں کے حصے میں کچھ بھی نہیں آتا بس رسم پوری ہورہی ہوتی ہے، اس لیئے بچے کی والدہ ہوں یا والد پہلے خود کو یہ سمجھا کر کہ” یہ بہت اہم کام ہے” ڈائریکٹ بچے سے اسٹارٹ لینے کے بجائے پہلے اس کے” فیس ایکسپریشن” غور دیکھیں کہ وہ کس کیفیت میں ہے، نارمل؟ خوش؟ خاموش؟ افسردہ یا کسی بے نام سوچ میں گم؟؟ پھر دیکھیں کہ بچہ یا بچی خود کچھ کہنا چاہ رہا ہے یا نہیں بچے جو دیکھتے ہیں اس کے بعد ان کے ذہنوں میں یا تو سوال پیدا ہوتا ہے یا feelings اسے سلیقے سے سوال کرنے اور feelings شئیر کرنے پر آمادہ کریں اور وہ جو کہہ رہا ہے اسے”ایویں” کا لیبل لگانے کے بجائے دماغ کی ساری کھڑکیاں کھول کر خاموشی سے جواب دینے کے ارادہ کے بجائے” سمجھنے” کی نیت سے سمجھیں کہ وہ کہہ کیا رہا ہے؟ اور کہنا کیا چاہ رہا یے؟ یہ سارا کام بہت وقت طلب اور برداشت طلب ہے اگر بچے کی کیفیت یا سوال سمجھ میں آگیا ہے تو دھڑا دھڑ اپنی انفارمیشن انڈیلنے کی کوشش مت کریں، ایک ہی جھٹکے میں سب سکھانے بتانے سے پرہیز کریں” جیسا موقع، ویسی ٹون اور اتنی بات” ….

تسلی رکھیں کہنے سننے کے موقع آتے رہیں گے۔۔۔۔ بچوں کو ڈیل کرنا آسان ہے لیکن۔۔۔۔۔۔اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں