ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا




امی جان میرے پسندیدہ ترین صحابی سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صاحبزادی ہیں. والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا. آپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سگی بہن تھیں. ان کا تعلق قریش کی شاخ بنو عدی سے تھا. امی جان قریش کے ان خوش نصیب ترین لوگوں میں سے ہیں جن کو ایمان کی دولت بچپن ہی سے مل گئی تھی. امی جان نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا تھا.

امی حفصہ کی پہلی شادی خنیس بن حزافہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی جو نہ صرف سابقون واولون میں سے تھے بلکہ بدری بھی تھے. جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا تو وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئیں. خنیس بن حذافہ بہادر اور شجاع تھے. بدر میں بے جگری سے لڑے اور شدید زخمی ہوئے اور کچھ عرصے بعد انہی زخموں کی وجہ سے انتقال فرما گئے.جیسا کہ اس زمانے کا دستور تھا بلکہ جو اسلام کا حکم ہے. حضرت عمر نے اپنی بیٹی کی بیوگی کے فوراً بعد اس کی دوسری شادی کرنے کا سوچا. اس زمانے میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا انتقال فرما گئی تھیں. سیدنا عمر کی خواہش تھی کہ حضرت حفصہ کی دوسری شادی سیدنا عثمان سے ہوجائے. اس سلسلے میں انہوں نے سیدنا عثمان سے بات کی لیکن زوالنورین اس وقت دوسری شادی کے لیے تیار نہ تھے اس لیے انکار کردیا. ان کے انکار کے بعد سیدنا عمر نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ حفصہ سے شادی کرلیں. ابوبکر خاموش ہوگئے. سیدنا عمر کو بہت دکھ ہوا. انہوں نے اس دکھ کا اظہار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور کہا کہ مجھے عثمان کے انکار سے زیادہ دکھ ابوبکر کی خاموشی کا ہوا ہے.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ کی شادی اس سے ہوگی جو ابوبکر اور عثمان سے افضل ہے. اور پھر سیدہ حفصہ کا ہاتھ اپنے لیے مانگ لیا.یہ سن کر سیدنا عمر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا.میرے رب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں کی دل جوئی کس کس طرح کی ہے کہ ان کی بیٹیوں کو دنیا کی عظیم ترین ہستی کی شریک حیات بنا دیا. سیدنا عمر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت لے کر نکلے تو لبوں پہ مسکراہٹ اور چہرے سے خوشی چھلکی پڑ رہی تھی. راستے میں سیدنا ابوبکر ملے تو اس خوشی کا سبب پوچھا تو فرمایا کہ اللہ نے حفصہ کو ام المؤمنین بننے کا شرف بخشا ہے. اس پہ ابوبکر بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ان کا ارادہ سیدہ حفصہ سے نکاح کرنے کا ہے. اس لیے جب آپ نے مجھ سے حفصہ سے نکاح کرنے کا کہا تو میں خاموش ہوگیا. ورنہ مجھے حفصہ سے شادی کرنے میں کوئی اعتراض نہ تھا. بس اسرار نبوت سے قبل از وقت پردہ کشائی مناسب نہ تھی. سیدہ حفصہ کا نکاح تین ہجری میں ہوا. اس وقت سیدہ حفصہ کی عمر بائیس سال تھی. آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھی زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا. امی خدیجہ انتقال فرما چکی تھیں. امی سودہ اور امی عائشہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں.

جس طرح شیخین ( ابوبکر و عمر) بہترین دوست تھے. اسی طرح امی عائشہ اور امی حفصہ بیسٹ فرینڈز تھیں. بلکہ ازواج المطہرات میں ان دونوں کی دوستی مثالی تھی.امی حفصہ ایسی ہی تھیں جیسی سیدنا عمر کی صاحبزادی کو ہونا چاہیے تھا. سیدنا عمر کا گھرانہ قریش کے ان چند گھرانوں میں سے تھا جو تعلیم یافتہ تھا. فصاحت، بلاغت، معاملہ فہمی، حق گوئی، قوت فیصلہ، مضبوط قوتِ ارادی، باریک بینی، معاملات کی تہہ میں پہنچنے کی صلاحیت، امی حفصہ کو باپ سے ورثے میں ملی تھیں. امی عائشہ فرماتی ہیں کہ “حفصہ بلند فضیلت باپ کی بلند فضیلت صاحبزادی ہیں.”امی حفصہ قرآن کی حافظہ تھیں. لکھنا پڑھنا بھی جانتی تھیں. بہترین تلاوت کرتی تھیں. قرآنی آیات پہ کمال کا فہم رکھتی تھیں. قرآن کی آیات کی وہ توجیہات بیان فرماتیں کہ جید صحابہ انگشت بدنداں رہ جاتے. جتنا امہات المؤمنین کے بارے میں پڑھ رہی ہوں اتنا ہی اس رب کی رحمت کے صدقے جا رہی ہوں کہ میرے رب نے اپنے محبوب کے خانوادے میں کیسے انمول ہیرے اکھٹے کیے تھے کہ جن کی روشنی ہر طرف صرف خیر پھیلاتی تھی. امہات المؤمنین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دریا رحمت اور چشمہ علم و حکمت سے فیض پایا اور پھر امت کو اس سے سیراب کیا. امت کی ماؤں کو فہم تھا کہ اللہ نے انہیں کس منصب سے نوازا ہے اور انہوں نے خود کو اپنے اعمال و کردار سے اس منصب اس درجے اور اس اعزاز کا اہل ثابت کیا.

قرآن پاک کے نزول کے دوران ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا اہتمام فرما دیا تھا کہ جونہی آیاتِ مبارکہ نازل ہوتیں انہیں متعلقہ سورت میں شامل کر کے احاطہ تحریر میں لے آیا جائے. کاتبین وحی کے علاوہ امی حفصہ چونکہ لکھنا پڑھنا جانتی تھیں اس لیے امی جان کو یہ زمہ داری دی گئی کہ وہ آیات کو اپنے پاس موجود قرآنی نسخے میں درج کرلیں. سیرت نگاروں کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حفصہ کے پاس قرآن مجید کے تمام کتابت شدہ اجزاء یکجا کر کے رکھوا دییے تھے. سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں جب اسلام عرب سے نکل کر عجم تک پھیلا تو ایک کمیٹی تشکیل دی گئی. جس کا کام امت کو قرآن کے ایک ہی تلفظ اور طرز ادائیگی پہ اکھٹا کرنا تھا. اس کام کے لیے وہی نسخہ بنیاد بنا جو امی حفصہ کے پاس تھا. اسی نسخے کو بنیاد بنا کر مختلف حصے سرکاری تصدیقی مہر کے ساتھ ساری مفتوحہ علاقوں میں پہنچا دییے گئے اور قیامت تک اس فتنے کا سدباب کر دیا گیا. میرے رب نے امی جان کو یہ اعزاز بخشا کہ حفاظت قرآن میں ایک بہت ہی بڑا کردار ان کا بھی تھا.اللہ نے امی حفصہ کو بے پناہ عزت سے نوازا. اللہ نے جبریل امین کے زریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ” حفصہ قائمۃ الیل اور صائمۃ الدہر یعنی رات بھر عبادت کرنے والی اور بہت روزہ رکھنے والی ہیں اور جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں.”

امی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کا شرف حاصل ہوا. اس دوران بھی انہوں نے اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتی. عورتوں کو حج کے احکامات کی تعلیم دیتی رہیں. امی جان عالمہ، حافظہ اور فقیہہ تھیں. حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے دور خلافت میں ان سے دینی اور شرعی احکامات میں مدد لیتے تھے بلکہ اکثر ان کے مشورے پر عمل کرتے تھے.امی جان زوجہ سرکار دو عالم تھیں اور دختر عمر تھیں. کیسے ہو سکتا ہے کہ سخی نہ ہوتیں. مرنے سے پہلے اپنے بھائی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو وصیت کر گئیں کہ میرا ترکہ جو مجھے میرے والد سے ملا ہے اسے صدقہ کردینا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو رخصت ہونے سے پہلے امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ارشاد فرمایا تھا کہ گھر میں جو بھی ہے صدقہ کردو تو امی حفصہ بھی تو انہی کی تربیت یافتہ تھیں. کیسے یہ وصیت نہ کرتیں.امی جان کا انتقال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا. مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے سیدہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ان کے جنازے کو کندھا دیا. ان کو قبر میں ان کے بھائی عبداللہ بن عمر اور دوسرے محرموں نے اتارا. امی جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں