جمیعت میری راہبر – ماجدہ سیف الدین




“نصب العین ” “اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضاۓ الہی کا حصول” ۔۔جمیعت کا لفظ جماعت سے نکلا ہے جس کے معنی ہے گروہ / مجمع ۔یعنی جمیعت کی تعریف کے لیۓ اتنا ہی کافی اور شافی ہےکہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جو لوگوں ، بلکہ بالخصوص نوجوانوں کو صراط مستقیم کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔۔

جمیعت وہ پھول ہے جو ہر پیڑ پر ہی نہیں اگ جاتا بلکہ صرف خاردار پیڑ پر ہی پھلتا پھولتا ہے کیونکہ راہ حق میں روڑے ضرور اٹکاۓ جاتے ہیں مگر پھر جمیعت بھی جمیعت ہے جو انہی کانٹوں پر سے گزار کر ایسے گلاب تیار کرواتی ہے جو اپنے علم و عمل اور خوشبو سے معاشرے کو مسحور کردیتی ہے۔۔جمیعت بغیر تحقیق کے آپ تک کوئ بات نہیں پہنچا تی بلکہ کھڑے کھوٹے کی بھی قرآن مجید سے تصدیق کرتی ہے ۔جمیعت عدل کرتی ہے صدا میزان جیسی ہے ۔۔یہ آپ کی صلاحیتوں اور سوچوں کی تعمیر کرتی ہے۔جمیعت ایک باعمل ، با علم ، ہنر مند نوجوان کو تیار کرتی ہے اور نوجوانوں کو اسلامی اقدار پر مبنی پاکیزہ تعلیمی ماحول فراہم کرتی ہے۔۔یہ ہمارے لئے ایسی مشعل ہے جیسی کہ یہ دعا : “فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ” “Success in this world and here after ..”جمیعت اختلافی مسائل میں نوجوانوں کے اندر اعتدال پیدا کرنا اور انہیں فرقہ واریت ، شخصیت پرستی، سیاسی اور علاقائی تعصبات سے بالا تر رکھتے ہوۓ انما المومنون اخوۃ کا مصداق بناتی ہے ۔۔جمیعت نوجوانوں کو صرف نیک ہی نہیں بناتی بلکہ دوسروں کو نیکی پھیلانے کا درس بھی دیتی ہے۔۔۔جمیعت میں کام کرنے والے لوگ اصل میں خدا کی راہ میں کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔۔

ان لوگوں کو عالی ضرف اور فراخ حوصلہ ہونا چاہیے وہ ایسے لوگ ہونے چاہۓ جن سے کسی کو شر کا اندیشہ نہ ہو ۔۔وہ ہر تعریف سے بے نیاز اور ہر مذمت سے بے پروا ہوکر اپنا فرض انجام دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی کے اجر پر نگاہ نہیں رکھتے ۔۔اور ایسے لوگوں کا اخلاق دل کو موہ لیتا ہے ۔ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”مومن اپنا پیٹ بھلی باتوں سے بھرتا ہے حتیٰ کہ وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔۔” آخر میں میری جمیعت کے لیے دعا ہے کہ : “اللہ جمیعت کو پھلتا پھولتا اور شادو آباد رکھے اور اسے دن دگنی اور رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔۔”آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں