عید الاضحی ” قربانی ہے شو نہیں “- لطیف النساء




سال میں دو ہی عیدیں ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی۔ جن پر تمام مسلمان اللہ کے احکامات اور سنت ابراہیمی کے نیک اعمال کو اللہ کی توفیق سے منانے پر خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ملتے ملاتے ہیں اور سب کو خوشیوں میں شریک کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ غریب بھی ایک خوشی کا احساس اور محبت کے سلوک پر شاداں ہوتے ہیں۔ رمضان کی عید ہو یا عید قرباں دونوں عیدوں پر میں نے جو عمومی کمی کوتاہی اپنے عوام میں دیکھی ہے وہ قابلِ افسوس ہے اور ہم ہر دم اس کی اصلاح چاہتے ہیں۔

رمضان کی عید سے پہلے چاند رات میں گہما گہمی، مہندی، بیوٹی پارلرز سیلون پر غیر متوقع رش اور طوفان بدتمیزی۔ بازاروں میں رش نہ جانے کیا ہوجاتا ہے۔ عجیب ناقابل بیان صورتِ حال ہوتی ہے۔ اوپر سے ٹی۔وی والے بے تکے اور فالتو پروگرامز، اشتہارات دے کر مزید لوگوں کو بھڑکاتے ہیں جبکہ رات تو سب سے افضل شکر گزاری اور عاجزی دکھانے کی ہوتی ہے مزید ندامت اور خوشی کے ساتھ اپنی بخشش کروانے کی ہوتی ہے۔ دوسروں کو خوشیاں بانٹنے یعنی دعائیں دینے اور لینے کی ہوتی ہے۔ صبح جب لوگ اٹھیں تہجد بھی پڑھیں نمازِ فجر بھی ادا کریں اور پھر عید کی نماز پڑھنے جائیں تو باقاعدہ تکبیریں بلند آواز میں پڑھتے جائیں کہ ایمان تازہ ہوجائے ایک سماں بند جائے بندگی رب کی اطاعت کا۔ اسی طرح بقر عید سے پہلے کتنی گہما گہمی ہوتی ہے یہ دس دن کتنے اہم ہوتے ہیں عبادات کے حوالے سے۔ لوگوں کو شعور آنا چاہئے کہ جن کی قربانی ہونے والی ہے وہ خاص اہتمام کریں دس دن پہلے ہی صفائی ستھرائی کا انتظام کریں۔ جانوروں کا خاص خیال رکھیں۔ روزے حسبِ استطاعت رکھیں اور قربانی کے جانوروں کو تکلیف نہ دیں بلکہ ایک دوسرے سے تعاون کریں، اپنی خدمات پیش کریں، ان جانوروں کی حفاظت کریں، ابھی میں نے ایک میسج پڑھا کہ لیاقت آباد میں گائے کے رکھنے کے معاملے میں دو گھروالوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا اور کسی نے بیچاری گائے پر تیزاب ڈال دیا وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔

یہ رویہ کسی مسلمان کا کیسے ہوسکتا ہے؟ جب صبر ہی نہ ہو، احکام الٰہی کا پاس ہی نہ ہو تو کیسی قربانی؟ سوچیں یہ کیسا شرم ناک عمل ہے؟ بے زبان جانور کے ساتھ یہ سلوک! پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ جانوروں کی سینگیں کٹواتے ہیں گویا انہیں تکلیف دیتے ہیں۔ چار دانت کے بکرے کو دو دانت کا بنادیتے ہیں جو بہت بُرا عمل ہے۔ چند پیسوں کی خاطر جانور کو تکلیف دیکر گاہک کو دھوکا دینا بڑی ہی بری بات ہے۔ اسی طرح جب جانور گھر لائیں تو بھی انہیں احتیاط سے گاڑی سے اتروائیں اور مناسب جگہ رکھیں تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو۔ بیٹھنے کا انتظام ہو،ہموار زمین ہو، اوپر شیڈ ہو، پانی ہوا کا کھلا انتظام ہو، تاکہ وہ نئی جگہ پر بھی سکون سے رہ سکے۔ اسکے بعد نمازو قربانی کا مرحلہ آتا ہے تو لوگوں کواتنی جلدی لگی ہوتی ہے کہ کس کی گائے پہلے کٹتی ہے کون جلدی نمٹا تا ہے۔ یہاں تک کے گھر کے مرد حضرات جب نماز پڑھنے جاتے ہیں تو بھی تکبیریں پڑھتے ہوئے نہیں جاتے جلدی جلدی بھاگم بھاگ کام ہوتا ہے۔ ہزاروں قصائی حضرات بھی نہ جانے کہاں سے آجاتے ہیں جو نماز پڑھنے بھی نہیں جاتے۔ میں نے ایک مرتبہ باہر آسٹریلیا میں رمضان کی عید گزاری تھی تمام مسلمان خواتین مرد حضرات بچے سب تیار ہو کر پاکستانی شلوار قمیض کُرتے پہن کر ٹوپیاں پہن کر سڑک کے کنارے کنارے گاڑیاں پارک کرکے جب مسجد جارہے ہوتے ہیں تو بلند آواز میں گھر سے ہی تکبیریں پڑھتے جاتے ہیں۔ بڑی خوشی ہوتی ہے ساتھ ساتھ پڑھتے مسجد جانے تک کا سماں بالکل حج کا سماں پیش کر رہا ہوتا ہے۔

غیر مسلم رُک رُک کر دیکھتے اور محظوظ ہوتے ہیں پھر مسجد میں بھی تکبیریں پڑھتے ہیں پھر عید کی نماز اور دعائیں واپسی پر اسٹالز لگے ہوتے ہیں، تھوڑی سی رقم چیرٹی باکس میں ڈال دیں اور من پسند چیز کیک، پیزا، مٹھائی وغیرہ لے لیں۔ تھوڑی تھوڑی بچوں کے لئے باہر الگ غبارے اور تفریحی اسٹالز لگے ہوتے ہیں۔ جب کہ ہمارے اسلامی ملک میں اللہ کرے یہ سب کام حکومتی سطح پر ہونے لگے۔ سب لوگوں کو شعور آجائے۔ وہاں عید کی چھٹی نہیں ہوتی مگر مسلمان چند گھنٹوں کی چھٹی لیتے ہیں اور بعض پوری چھٹی لیتے ہیں تا کہ یہ تہوار عقیدت اور احترام کے ساتھ ملکر بنا سکیں، نماز عید ادا کرسکیں۔ ہمارے گھر کے سامنے سڑک پر جابجا دو دو گھروں یا بلڈنگوں کے آمنے سامنے آگے پیچھے بکرے کٹے ہوتے ہیں اور کٹتے ہی چلے جاتے ہیں جبکہ دوسرے بکرے سامنے سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے بکرے یعنی زندہ بکروں کو الگ رکھنا چاہئے کوئی احاطہ بنا کر اس میں قربانی کرنی چاہئے اور پھر اس وقت بھی تکبیریں پڑھیں، دعائیں مانگیں خاموشی سے شکر اداکریں اور غریبوں کو کھلے دل سے ملا جلا گوشت دیں تو اور ہی خوشی ہوگی، بچے بڑے سب ملکر اتنا شور کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! پھر عید کے تیسرے دن ہمارے گھر کے سامنے نحر (اونٹ کی قربانی) کوئی ڈھائی تین بجے ہوتی ہے ایک گھنٹہ پہلے سے لوگ جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ اس مکان میں عورتیں تک آجاتی ہیں۔

ڈھولچی بھی ہوتے ہیں۔ بندوقوں سے فائرنگ کی آوازیں بھی کرتے ہیں۔ اونٹ کو گھما گھما کر جگہ مختصر ترین بنائی جاتی ہے۔ ٹانگ باندھنے کا مرحلہ بھی کافی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ رش بہت ہوتا ہے ہر وقت حادثات کا خطرہ ہوتا ہے۔ چھتوں سے بالکنیوں سے لوگ جھانک رہے ہوتے ہیں۔ پھر اتنا شور شرابہ ہوتا ہے کوئی بھی تکبیریں یا کلمہ نہیں پڑھتا بلکہ شور و غل میں اونٹ کو نحر کرتے ہیں خون رِ ستہ ہے جب جانور گرجاتا ہے تو کچھ لوگ انکا تازہ خون جمع کرنے آجاتے ہیں اور تھیلیوں میں لے جاتے ہیں پھر جب تک کھال اتار کر گوشت بنایا جاتا ہے۔ مانگنے والے چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ وہ جلدی جلدی تھیلیاں بنا کر دیتے بھی جاتے ہیں اور باقی تھال میں اندر لے جاتے ہیں۔ جہاں مزید تھیلیاں بنا کر گاڑی میں ڈال کر لے جاتے ہیں نہ جانے بانٹتے ہیں یا گھر لے جا کر رشتہ داروں کو اور خود رکھتے ہونگے۔ صفائی تو برائے نام کرتے ہیں بسا اوقات خون اور دیگر الائشیں دو دن تک تعفن پھیلا رہی ہوتی ہیں۔ کبھی صفائی بھی کردیتے ہیں اب تو لوگ سمجھاتے ہیں تو سفید پا ؤڈر بھی ڈال دیتے ہیں مگر دوسروں کے گھروں کے آ گے خون اور دیگر آلائشوں کو چھوڑ کر اہل محلہ کو تکلیف دینا ایک گناہ سے کم نہیں لگتا، نہ ہی شور شرابہ اچھا لگتا ہے بجائے اسکے خاموشی ہو سب پڑھیں، تکبیریں پڑھیں دعائیں پڑھیں تو کتنا اچھا ہوگو یا انہوں نے قربانی کی روح کو ہی نہیں سمجھا۔

بس اللہ قبول فرمائے اسی جگہ اس دن دو بڑے بیل بھی وہیں قربان کئے جاتے ہیں تو اسکا بھی وہی حال ہوتا ہے ایک تو مین روڈ اوپر سے بالکل رش کی وجہ سے بند ہوجاتی ہے۔ اکثر میڈیا بھی آ جاتا ہے۔ چاہے رات کے بارہ بجے ہوں یا ایک، جس کے گھر بھی گائے آتی ہے۔ صاف شور سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جانور آیا ہے جو بالکل غلط ہے ہمیشہ دن میں یہ عمل ہونا چاہئے ورنہ اہل محلہ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی بیمار ہے کوئی سو رہا ہے، کوئی پڑھ رہاسب متاثر ہوتے ہیں یہ شعور کب جاگے گا کہ مہذب مسلمان کا کردار کیا ہونا چاہئے؟ اور کیسے دکھاوے بنا کام پرسکون انداز میں ہونا چاہئے؟ تمام لوگ اور قصائی کو بھی چیخ چیخ کرنہیں بولنا چاہئے اور جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے بالکل نہیں کاٹنا چاہئے۔ بچوں کو تو بہت دور رکھنا چاہئے کیونکہ ذرا سی بھگدڑ سے بڑے بڑے واقعات ہوجاتے ہیں جس میں ہماری اپنی کوتاہیاں ہوتی ہیں جو ناقابل تلافی نقصان کے برابر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک ہدایت دے ہم اس قربانی کے مفہوم کو سمجھیں اور اس سنت کو احسن طریقے سے انجام دیں۔ حلال کمائی، حلال طریقہ اور لوگوں کی عزت نفس اور خوشی کا خاص خیا ل رکھیں۔ کسی کیلئے تنگی نہ پیدا کریں۔ قربانی کے جانور کی ہر چیز کو مقدم سمجھ کر پاک صفائی کا خیال رکھیں، دُم، کھر دیگر آلائشوں کو وہیں زمین میں دبا دیں خون صاف کرکے سفید چونا ڈال دیں تاکہ مکھیاں اور بیماریاں جنم نہ لیں۔

کوئی نا خوش نہ ہو بلکہ سب کو خوشی ہو۔ سب کا خیال رکھنا اور تعاون کرنا ہی تو اصلی خوشی ہے اور اسی خوشی کا نام تو عید ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ہدایت دے اور ہم اس قربانی کی عید کا اوراپنے مسلمان ہونے کا صحیح معنوں میں حق ادا کریں۔ حقوق العباد اور حقوق اللہ کو کبھی نہ بھولیں اللہ تعالیٰ سب کی دلی خواہشات کو پورا کرے اور سب کی قربانیوں کو قبول و مقبول فرمائے اور ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں