ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا




امی صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بنی اسرائیل سے حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھیں. والد کا نام حییّ بن اخطب اور والدہ کا نام برہ بنت سیموئل تھا. حییّ بن اخطب اپنے قبیلے کا سردار اور یہودی عالم تھا. اس نے امی صفیہ کی پہلی شادی چودہ سال کی عمر میں یہودیوں کے مشہور شہسوار سلام بن مشکم قرظی سے کی لیکن کچھ عرصے بعد سلام بن شکم نے انہیں طلاق دے دی. اس کے بعد حضرت صفیہ کی دوسری شادی بنو قریظہ کے سردار کنانہ بن ابی الحقیق سے ہوئی جو خیبر کے قلعے القموس کا حاکم تھا.

ایک رات امی صفیہ نےخواب دیکھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹ کر ان کی گود میں گرا ہے. جب یہ خواب انہوں نے اپنے شوہر سے بیان کیا تو وہ شدید غصے میں آگیا اور کس کے ان کے منہ پہ طمانچہ مارا کہ تُو یثرب کے بادشاہ( نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی تمنا کرتی ہے. طمانچہ اس قدر زور سے مارا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے شادی کے بعد بھی امی صفیہ کے چہرے پہ اس کا نشان موجود تھا.جب خیبر فتح ہوا تو تمام قیدی اور مالِ غنیمت ایک جگہ جمع کیا گیا. حضرت صفیہ دحیہ کلبی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حصے میں آئیں. چونکہ وہ اسیرانِ جنگ میں ذو صفت تھیں اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ صفیہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی رئیسہ ہیں. خاندانی نجابت ان کے چہرے سے عیاں ہے. وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے موزوں ہیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ مشورہ پسند آیا. انہوں نے امی صفیہ کو آزاد کردیا اور یہ اختیار دیا کہ چاہیں تو اپنے گھر چلی جائیں یا پسند فرمائیں تو نبی کریم سے نکاح کرلیں. امی نے سرکارِ دو عالم سے نکاح کرنا پسند فرمایا. سرکار نے ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا. امی صفیہ مسلمان ہوئیں اور ان کا نکاح اور ولیمہ خیبر سے کچھ دور صہبا کے مقام پر ہوا. ولیمہ عجب شان سے ہوا. اعلان کردیا گیا کہ جس کے پاس کھانے کا جو سامان ہے وہ لے آئے. سب نے ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھایا. اس ولیمے میں کوئی جانور ذبح نہ کیا گیا تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صہبا میں تین دن قیام کیا.

یہاں پر ایک بات کرنا چاہوں گی. اس سلسلے کو شروع کرنے کا مقصد سب سے پہلے تو یہ ہے کہ ہم امہات المؤمنین کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں. دوسرا یہ کہ ہم یہ جانیں کے اللہ تعالیٰ نے خانوادہ رسول میں کیسی اعلیٰ مرتبت اور وضع دار خواتین جمع کی تھیں. تیسری اور سب سے اہم بات ہم یہ سیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سلوک ازواج المطہرات کے ساتھ کیسا تھا. جو جو باتیں علم میں آ رہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخلاق کے اعلیٰ ترین پیمانے اور بیوی کو عزت و احترام دینے کے بلند ترین معیار آقا اپنی امت کو سکھا گئے ہیں. یہاں ایک واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گی.تین دن بعد جب نبی کریم صہبا سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو یہ اعلان کرنے کے لیے صفیہ اب ام المؤمنین ہیں، آقا نے امی صفیہ کو خود اونٹ پہ سوار کرایا. عبا سے ان کے گرد پردہ کیا کہ کوئی دیکھ نہ سکے. اونٹ پہ سوار کراتے وقت اپنا زانو رکھا تاکہ امی اس پہ پاؤں رکھ کر سوار ہوجائیں. تصور کیجیے آقائے کائنات اپنا زانو آگے کر رہے ہیں کہ ان کی زوجہ آرام سے اونٹ پہ سوار ہوں. امی بھی حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھیں. خاندانی تھیں. انہوں نے بھی اپنا پیر نہیں رکھا. بلکہ اپنا زانو سرکار کے زانو پہ رکھ کر سوار ہوئیں. میرے سرکار نے اپنی ازواج کے لاڈ کس کس طریقے سے اٹھائے ہیں.

امی صفیہ نہایت حسین و جمیل تھیں. حلیم الطبع، خلیق، ملنسار اور کشادہ دل تھیں. نکاح کے بعد جب مدینہ منورہ تشریف لائیں تو شہزادی فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالٰی عنہا ان سے ملنے تشریف لائیں. امی بے تحاشہ خوش ہوئیں. اپنے کانوں سے بیش قیمتی طلائی جھمکے اتار کر سیدہ فاطمہ کو پہنائے. ان کے ساتھ جو دیگر خواتین تھیں ان کو بھی تحائف دییے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امی صفیہ سے بے تحاشہ محبت تھی. ہم سب جانتے ہیں کہ امہات المؤمنین کی آپس میں نوک جھونک چلتی رہتی تھی. ایک دن امی صفیہ سخت افسردہ تھیں. سرکار کے استفسار کرنے پہ فرمایا کہ عائشہ کہتی ہیں کہ میرے تو ماں باپ دونوں مسلمان ہیں. زینب بنت جحش کہتی ہیں کہ میں تو نبی کریم کے خاندان سے ہوں. نبی کریم نے ان کی دلجوئی کے لیے فرمایا کہ آپ یہ کہہ دیا کیجیے کہ میرے تو والد ہارون، چچا موسی اور شوہر محمد ہیں. کچھ دنوں بعد انہوں نے امی عائشہ کو یہ جواب دے دیا. امی عائشہ نے ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے پہلے کبھی نہیں کی. یہ بات آپ کو کس نے سکھائی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام لیا. امی عائشہ نے نبی کریم سے کہا کہ ہماری باتوں میں آپ کمک فراہم نہ کریں. یہ تھے ہمارے آقا. بیویوں کی دلجوئی کرنے والے اور ان کو اتنا حق اتنا استحقاق دینے والے کہ بلا جھجھک ان سے ہر بات کر سکیں.

امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج میں سب سے عمدہ کھانا پکانے والی سیدہ صفیہ تھیں. بہترین گوشت پکاتی تھیں. ان کے پکائے کھانے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بے حد مرغوب تھے.امی صفیہ نبی کریم سے بے تحاشہ محبت کرتی تھیں. جب اللہ کے رسول بیمار پڑے تو شدید بے چین ہوگئیں. شوہر سے ملنے آئیں تو کہنے لگیں کہ کاش یہ بیماری مجھے ہوجاتی. دوسری ازواج انہیں دیکھنے لگیں تو سرکار نے فرمایا کہ یہ بالکل درست کہہ رہی ہیں. دل سے وہ بالکل یہی چاہتی ہیں.امی صفیہ صاحبِ علم تھیں. عورتیں ان سے مسائل دریافت کرنے آتی تھیں. بے حد دردمند اور فیاض تھیں. وصیت کر گئی تھیں کہ ان کا ذاتی مکان راہِ خدا میں دے دیا جائے. امی صفیہ سے 76 احادیث مروی ہیں جن میں سے ایک بخاری مسلم دونوں میں موجود ہے. امی کا انتقال پچاس ہجری میں رمضان المبارک میں ہوا. امی جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں.

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا” ایک تبصرہ

  1. ما شآء اللہ سیرت امہات رضی اللہ عنھن کو بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالٰی علم و عمل میں برکت عطا فرمائیں اور کاوشیں قبول فرمائیں۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں