ام المؤمنین سیدہ ماریہ قبطیہ بنت شمعون رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا




چھ ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مشرکینِ مکہ سے توجہ ہٹانے کا موقع ملا تو انہوں نے گرد و نواح کے حکمرانوں کو خطوط بھیج کر اسلام کی دعوت دی. اسلام صرف خطہ عرب یا حجاز کے لیے تو نہیں آیا تھا. اسے ساری دنیا میں پھیلنا تھا. اسی لیے صلح حدیبیہ کی یک طرفہ شرائط منظور کی گئی تھیں اور اسی پہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے سورہ فتح نازل فرمائی. ان میں سے ایک خط اسکندریہ کے رومی حکمراں مقوقس کے نام بھیجا.

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ ذمہ داری حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو سونپی. یہ وہی صحابی ہیں جن کا ذکر سورہ ممتحنہ میں آیا ہے. حاطب جب مکتوب لے کر مقوقس کے پاس پہنچے تو اس نے اسلام تو قبول نہیں کیا لیکن حاطب سے نہایت عزت و احترام سے پیش آیا. بیش قیمتی تحائف کے ساتھ دو قبطی لڑکیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روانہ کیں. ان میں ایک سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور دوسری سیرین رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں. یہ دونوں لڑکیاں قبطیوں میں بڑا درجہ رکھتی تھیں. قبطی عیسائی مصریوں کو کہتے ہیں.دونوں خواتین راستے میں حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھوں مسلمان ہوگئیں. مدینہ پہنچ کر حاطب نے دونوں خواتین اور دیگر تحائف نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ دونوں خواتین اسلام قبول کر چکی ہیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماریہ قبطیہ کو اپنے لیے اور سیرین کو حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے پسند فرمایا. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم امی ماریہ سے بھی دیگر امہات ہی کی طرح برتاؤ کرتے تھے. ان کے لیے بھی پردے کا وہی حکم تھا جو دیگر امہات کے لیے تھا. اللہ تعالیٰ نے امی ماریہ کو حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت سے بھی مالامال کیا تھا. اللہ تعالیٰ نے انہیں اس اعزاز سے نوازا جو امی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے علاوہ کسی اور امہات المؤمنین کو نہیں ملا.

امی ماریہ وہ خوش قسمت خاتون ہیں جن کو امت کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرزند سیدنا ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ماں ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا. اسی لیے امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں کہ مجھے جتنا رشک ماریہ پر آتا ہے کسی دوسرے پہ نہیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے تھے کہ قبطیوں سے حسن سلوک کرو اس لیے کہ ان سے عہد اور نسب دونوں کا تعلق ہے. ان سے نسب کا تعلق یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ اور میرے فرزند ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ ماریہ دونوں اسی قوم سے ہیں. اور عہد کا تعلق یہ ہے کہ ان سے معاہدہ ہوچکا ہے. سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ساٹھ سال کے تھے. ان کی پیدائش پہ سرکار بے حد خوش ہوئے تھے. سیدنا ابراہیم کو گود میں لے کر امی عائشہ کو پوچھا کرتے کہ دیکھو مجھ سے ملتا ہے نا. سیدنا ابراہیم کی ولادت باسعادت 27 ذی الحجہ 8ھ مطابق 17 مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام ’’عالیہ‘ میں ہوئی. اس لیے مقام عالیہ کا دوسرا نام ”مشربۂ ابراہیم ”بھی ہے۔ ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس میں سنائی. یہ خوشخبری سن کر حضورِ اکرم ﷺنے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع کو ایک غلام عطا فرمایا.

اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو’’یااباابراہیم‘‘کہہ کر پکارا. حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے. ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ابراہیم‘‘ نام رکھا۔ پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا. آپ ﷺ کو حضرت ابراہیم سے بہت زیادہ محبت تھی. چنانچہ حضرت انس کا بیان ہے کہ ہم رسول اﷲﷺ کے ساتھ حضرت ابوسیف کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے. اس وقت عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!ﷺ کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے! یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنےلگے تو آپ کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے:’’اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں۔ جس دن حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا۔ عربوں کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کایہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے۔

چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے. حضورِ اقدس ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ یقیناً چاند اور سورج ﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں. کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا. جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے. (بخاری جلد 1 ص145 باب الدعاء فی الکسوف) حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا. اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی. سیدنا ابراہیم کی تاریخ وفات 29 شوال المکرم 10ھ تھی. سیدنا ابراہیم نے ایک سال اور دس ماہ کی عمر پائی. حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم کوجنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا.امی ماریہ کو اپنے شہزادے کے بچھڑنے کا شدید غم تھا. جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان سے ملنے تشریف لے جاتے امی شدت غم سے رو دیتی تھیں. اور پھر کچھ عرصے بعد امی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بچھڑنے کا غم برداشت کرنا پڑا.

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رخصت ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کا اعزاز و اکرام برقرار رکھا. لیکن امی کے اندر اتنے غموں کو سہنے کے بعد شاید جینے کی امنگ ہی ختم ہو چکی تھی. امی بہت کم عمری میں رخصت ہوگئیں. امی کا انتقال سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا. روایات کے مطابق امی ماریہ قبطیہ محرم الحرام 16 ہجری میں انتقال کر گئیں. ان کے انتقال پہ پورا مدینہ جمع ہوا. ان کے نماز جنازہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی. امی ماریہ جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں