سوچ کے بات کیجیے – نیر کاشف




بچپن میں جس کتاب سے اردو لکھنا پڑھنا سیکھا، اس میں ایک جملہ تھا۔ جملہ کیا تھا سنہری قول تھا “پہلے تولو پھر بولو”، مگر لگتا ایسا ہے کہ کم ہی لوگوں نے اس جملے کا حقیقتاً کوئی اثر لیا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ دل میں آنے والے ہر خیال اور ذہن میں اٹھنے والے ہر سوال کو ہم من و عن سامنے والے کے آگے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کسی کی اولاد نہیں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کافی عرصے سے نہیں ہے، پھر بھی اس سے اس کے بارے میں سوال کرنا، ہر بار ملاقات پہ نئے مشورے ، دعائیں اور مشہور ڈاکٹروں کے نام بتانے سے مسئلہ تو شاید ہی حل ہو، کسی کی تکلیف میں اضافہ ضرور ہو سکتا ہے۔

کچھ عرصے پہلے ایک صاحبہ سے ملاقات ہوئی جنہوں نے اپنی بلیوں کا ذکر میرے بچے کہہ کر کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا میرے گھر کی رونق بس ان سے ہی ہے، ان کا اتنا کہہ دینا کافی ہی تھا نا! لیکن اگلی خاتون سوال کرتی ہیں، تو کیا آپ کے بچے نہیں ہیں؟ اچھا ایک بھی نہیں ہے؟ شادی کو کتنا عرصہ ہو گیا ؟؟؟ یعنی سوال در سوال۔۔۔۔۔ آپ کے گھر کے قریب کوئی نئی منتقل ہونے والی پڑوسن ہو یا آپ کے کام کی جگہ پہ نئی ساتھی۔ اسے وقت دیجیے! پہلے ہی دن، پہلی ہی ملاقات کے پہلے ہی گھنٹے میں اس کی زندگی کی داستان الف سے ی تک جان لینے کی سرتوڑ کوشش نہ کریں، وقت کے ساتھ ساتھ وہ جس قدر مناسب سمجھے گی اسی قدر آپ کو اپنے آپ کو جاننے کے مواقع فراہم کرتی رہے گی۔

اسی طرح کبھی کسی انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں تو ساتھ والی خاتون کا کچا چٹھا جان لینے کی کوشش سے ہمیں کیا حاصل ہونا ہے؟ ڈاکٹرز کے کلینک پہ بیٹھی خواتین بھی اس صلاحیت کا بخوبی اظہار کرتی نظر آتی ہیں، آپ کے ساتھ بیٹھی خاتون مریض ہو یا تیماردار، سوال پوچھ پوچھ کر اسے پریشان کیوں کریں، ہمیں کیا معلوم کہ وہ کس ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے اور اس وقت مستقل آپ کو اپنے حالات سے آگاہ کرنے کا کام اسے کس قدر تکلیف دہ محسوس ہو رہا ہے؟

میری دو سہیلیاں ایک دن کام سے واپسی پہ پارلر گئیں تاکہ پیڈی کیور کروا کے ذرا تھکن اتاری جائے اور بھاگتی دوڑتی زندگی میں چند پل سکون کے میسر ہوں۔۔۔۔ ایک نے تو اس مقصد کو بخوبی حاصل کیا لیکن بھلا ہو پارلر کی ورکر کا۔ اس نے بلاوجہ باتیں کر کر کے میری دوسری سہیلی کے آرام کرنے اور لطف اٹھانے کے سارے منصوبے کا بیڑہ غرق کر دیا ۔

اسی طرح کئی لوگوں کو فون پہ طویل گفتگو کرنے کا شوق ہوتا ہے، آپ تو اس وقت ہر کام سے فارغ ہیں لیکن اگلے بندے کے آگے ابھی کاموں کا انبار ہے یا ہو سکتا ہے کہ وہ تھکا ہوا ہے، آرام کرنا چاہتا ہے۔ ہر بار آخری بات کی تمہید کے ساتھ نئی بات نکالتے جانا، یقین مانیں یہ بھی ظلم کی ایک قسم ہے۔

پھر اس بات کا بھی دھیان رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ کسی ذاتی نوعیت کے معاملے کو موضوع گفتگو بنانے سے سامنے والا فرد کترا رہا ہے تو اس بات کو وہیں ختم کر دیں۔ بجائے اس کے کہ کرید کرید کے سوال کریں اور اگلے کی ناک میں دم کر دیں۔ فرض کیجیے کسی کے بچے کا رشتہ طے ہونے یا خدانخواستہ رشتہ ختم ہونے کی اطلاع آپ تک پہنچ چکی ہے تو اس سے ملاقات کے دوران اسی بات کے منتظر نہ رہیں کہ کب وہ آپ کو یہ بات بتاتا ہے، کچھ دیر انتظار کر کے خود ہی اس سے ذکر کر دینا یا سوال پوچھ لینا اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کے علاوہ اور کیا ہے؟

ایک سفر کے دوران دو تین خواتین سے اچھی بات چیت ہو گئی، ایک خاتون زمین پہ بیٹھنے سے قاصر تھیں۔ منزل پہ پہنچنے کے ساتھ ہی نماز کا وقت تھا خاتون نے کرسی پہ نماز ادا کی۔ نماز کے بعد جب وہ کرسی سے اتر کر نیچے نہ بیٹھیں تب تک تو ٹھیک رہا لیکن جب کھانا بھی کرسی پہ ہی بیٹھے بیٹھے کھانے لگیں تو ساتھی خاتون آنکھیں پھاڑے حیرت سے کہتی ہیں “ہئے الله آپ بالکل بھی نیچے نہیں بیٹھ سکتیں؟؟؟”(بہن پوچھ رہی یا بتا رہی ہو؟؟) اب یہ کیسی صورتحال ہو گی ان کے لیے جن سے یہ سوال ہے، اچھا جواب میں ہم چاہتے ہیں کہ اگلا بندہ اپنی بیماری الف سے ی تک تمام تفصیلات کے ساتھ ہمیں سنائے، بھئی آخر کیوں؟؟؟؟ کسی کی بیٹی کا رشتہ طے نہیں ہوا اب تک، تو ہر ملاقات میں پوچھنا “کہیں بات چلی؟” یقین جانیں بہت تکلیف دہ سوال ہے، ہمیں بہت پریشانی ہے تو اس کے لیے کوشش کریں یا کم از کم دعا کریں، پوچھ پوچھ کر انہیں پریشان تو نہ کریں۔

آپ کسی رشتے دار کے گھر چار پانچ مرتبہ گئے ہیں اور ہر مرتبہ ہی ان کی شادی شدہ بیٹی معہ بچوں کے وہیں نظر آئی ہے، صبر کیجیے! کوئی بھی وجہ ہو گی اندازوں اور قیاس آرائیوں سے بچیے۔ دل میں برے خیالات آہی رہے ہیں تو اس بچی کے حق میں دعائے خیر ہی کر دیں۔ بس، یاد رکھیں بیٹیاں کبھی بھی بوجھ نہیں ہوتیں، یہ ہماری نظریں اور ہماری باتیں ہی ہیں جن کی وجہ سے والدین انہیں بوجھ سمجھنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ بہر حال کوئی بھی ذات غلطیوں سے مبرا نہیں ہے، لیکن اوپر بیان کردہ باتیں درحقیقت اخلاقیات کے زمرے میں شامل ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ اپنی گفتگو اور الفاظ کے چناؤ میں محتاط رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں