میرے لوگ ذکر کرتے ہیں نیند کا – سیدہ فاطمہ ذیشان




کہ رات بنی ہے سونے کے لیے
کیا میرے کانوں نے یہ صحیح سنا ہے ؟
کہ لطف ہے خوابوں میں سیر کرنا
کیا میرے حواسوں نے یہ آج جانا ہے ؟
کہ اشک نہ بہانا، ہلکے سے موند لینا
کیا میری آنکھوں کو اب پتا لگا ہے ؟

کہ دل نہ جلانا ، غم میں نہ تڑپنا
کہ اندیکھی راہوں کو تکتے نہ رہنا
کہ ان سنی باتوں کو ہوا میں اڑانا
کہ دل جلے تبصروں کو ہنس کر ٹالنا
کہ دھڑکتے دلوں کو امید دکھانا
کے بے پروا وجودوں کو ہوش میں لانا

کہ رات بنی ہے سونے کیلئے
کیا میرے کانوں نے یہ صحیح سنا ہے ؟

کہ کھڑکی کہ پار ، چاند پر مسکرانا
کہ اندھرے سے گھبرا کر دیا نہ جلانا
کہ ہواؤں کے گھوڑوں سے باتیں نہ کرنا
کہ بکھری سوچوں کو ملامت نہ کرنا
کہ دماغ کی چیخ و پکار نہ سننا
کہ الفت کی یادوں کو لگام نہ دینا

کہ رات بنی ہے سونے کے لیے
کیا میرے کانوں نے یہ صحیح سنا ہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں