محنت – ایمن شاہد




کام تو اس دنیا میں ہر کوئی کر رہا ہے
کوئی کام کے کام تو کوئی نام کے کام کر رہا ہے

کوئی مستقل محنت سے دن رات کر رہا ہے
تو کوئی گھر پر بیٹھا آرام کر رہا ہے
منزل کو پہچان کر کوئی تلاش کر رہا ہے
کوئی منزل کی ابھی تک پہچان کر رہا ہے
کوئی آج کا کام کل کرنے کی سوچ کر رہا ہے
کوئی کل کا کام آج کرنے کی کوشش کر رہا ہے

منزل یونہی ملا نہی کرتی فقط باتوں سے
کل اسی کا ہے جو آج محنت سے کام کر رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں