تعلق یا رابطہ – نادیہ احمد




کرونا سے بگڑتی صورت حال کچھ بہتر ہوئی کوئی اور ارباب اختیار ان کو تعلیمی اداروں کے کھولنے کا خیال آیا تو گھر میں معمول کی چہل پہل صبح صبح ہی شروع ہوگی ابھی وہ روٹین جو دو سال کرو نا کے باعث سکول بند ہونے سے سے ب بگڑ چکی تھی اپنے معمول پر آتی نظر آئی میں بھی بچوں کو اسکول بھیج کر کر صفائی سے فارغ ہو چکی تھی.
دوپہر کے کھانے کی تیاری بھی مکمل تھی اور بچوں کے اسکول سے آنے میں کافی وقت تھا تو سوچا کہ چلو آج خالہ کو فون کر لیتی ہوں.
موبائل اٹھا کر خالہ کا نمبر ملایا یا پہلی بیل پر بی خالہ نے کال رسیو کر لیں علی سلام دعا کے بعد میں نے شکوہ کیا خالہ میرے تو بچے چھوٹے ہیں اور گھریلو مصروفیات بھی بہت زیادہ ہیں ہیں لیکن پھر بھی میں آپ سے رابطہ کر ہی لیتی ہولیکن آپ تو کبھی مجھے فون ہی نہیں کرتی کیا آپ کو میری یاد نہیں آتی. خالہ نے بڑی متانت سے جواب دیا ارے بیٹا کیوں نہیں! رابطہ تم کرو یا میں لیکن بات یہ ہے کہ تعلق تو قائم ہے ناں، یہ احساس ہی بہت ہے کہ ہر دعا میں میں تمہیں اور تم مجھے یاد رکھتی ہوں ہو ہر خوشی کے موقع پر اپنی خوشی اور دکھ کے موقع پر اپنا غم مجھ سے شیئر کرنا نہیں بھولتی۔ جی خالا یہ تو ہے میں نے کہا،پھر خیر خیریت اور دو چار مختصر باتوں کے بعد میں نے فون بند کر دیا. ابھی میں خالہ کی بات کا سوچ ہی رہی تھی کہ واقعی یہ ہمارے بڑوں کی دعائیں ہی تو ہیں کہ اردگرد موجود نہ ہوتے ہوئے بھی ایک تعلق بنا رہتا ہے کہ اچانک دل میں خیال گزرا نہ کہ یہ اصول معاشرت کے ساتھ ساتھ روحانیت پر بھی تو لاگو ہے یعنی بندے کا معبود کے ساتھ ساتھ “رابطہ ہے یا تعلق”.
رابطہ دراصل دو افراد کا کچھ لمحات کو ساتھ گزارنا ملنا ملانا ‘ بات چیت کو کہتے ہیں خواہ وہ ظاہری طور پر ساتھ موجود ہوں ہو یا ان لمحات کو کو گزارنے کا کوئی اور ذریعہ موجود ہو جیسا کہ دور حاضر میں فون یا میسج رابطے کا ذریعہ ہیں اورتعلق نام ہے دلوں کے جڑ جانے کا یعنی وجودی طور پر ایک ساتھ موجود نہ ہو کر بھی ابھی کسی کی پسند نا پسند کے احساسات کا خیال ہوں ہو ہے یہاں یہ بات دل کو لگتی ہے ہے کہ ہم روزانہ پانچ وقت اذان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں تلاوت قران بھی کرتے ہیں, گناہوں سے رکتے اور نیکی کا اہتمام بھی کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں ہیں یعنی اپنے معبود سے “رابطہ” تو ہے لیکن جب ہم نماز کے وقت یہ سوچ لی کہ میں اس رب کے سامنے کھڑا ہوں جو میرا معبود ہے جب تلاوت کے وقت میں یہ سمجھ جاؤ کہ آج میرے لیے میرے رب کا یہ پیغام ہے ‘ “امر بالمعروف” کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ہوئے مجھے یہ یاد ہو کہ مجھے اسی مقصد کے لئے خلیفۃ اللہ فی الارض بنایا گیا ہے.
جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے وقت میرا یہ یقین کامل ہو کہ اس نے کہا ہے کہ “مجھ سے مانگو میں دوں گا” .صرف اور صرف اسی ہستی کا خیال میرے دل میں ہو اسی کی مرضی میری زندگی کا حاصل ہو یہ ہے “تعلق “, اس سوچ نے مجھے اپنا جائزہ لینے پر مجبور کردیا ہے ہے آپ بھی سوچیں اچھی اور اپنا جائزہ لیں کے اپنے رب سے سے آپ کا” رابطہ ہے یا تعلق”

اپنا تبصرہ بھیجیں