انکار حدیث – عالم خان




ایک شاگرد نے “کلوز گروپ” کے ایک پوسٹ میں مینشن کیا جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ہم انکار حدیث نہیں کرتے لیکن ہمارے پاس موجودہ ذخیرہ حدیث مشکوک اور ناقابل اعتماد ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ قرآن پر عمل کیا جاے اور مزید بتایا گیا تھا کہ قرآن کی سمجھنے میں کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ اللہ تعالی کا اپنا دعوی ہے کہ “وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ” کہ ہم نے قرآن کو آسان بنا دیا ہے اب اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مشکل کتاب ہے تو نعوذ باللہ گویا ہم اللہ تعالی کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

گروپ ممبر نا ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں لکھ سکا اس لیے درج بالا تحریر پر چند گزارشات اپنے وال پر افادہ عامہ کے لیے دوستوں کے گوشہ گزار کرتا ہوں۔ یہ جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں کہ ہم منکرین حدیث نہیں کیوں کہ جن اہل علم نے فتنہ انکار حدیث پڑھا ہو تو ان کو علم ہے کہ منکرین حدیث کے تین اقسام ہے:۱- جو حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں اور قرآن ہی کو کافی وشافی سمجھتے ہیں۔۲- جو احادیث کو صرف صحابہ کرام ؓ کے لیے حجت سمجھتے ہیں لیکن بعد کے لوگوں کے حجت نہیں سمجھتے ہیں۔ ۳- جو حدیث کے حجیت کا ایک فریبی دعوی کرتے ہیں لیکن عملا مانتے نہیں اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ ہمیں موثوق اور قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچے ہیں۔ رہی مذکورہ آیت سے استدلال باطل اور علوم قرآن سے جہالت ہے کیوں کہ قرآن میں تین قسم کے مضامین موجود ہیں:
۱- وہی مضامین جن کا تعلق خوف خدا، فکر آخرت اور پندونصیحت سے ہو تو وہ بالکل آسان اور عام فہم ہے اور اس آیت “وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ” میں بھی وہی بیان کی گئی ہے۔ ۲- وہی مضامین جن کا تعلق احکام اور تفاصیل احکام سے ہے وہ رسول ﷺ کے بغیر سمجھنا مشکل ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ “وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ” کہ ہم نے یہ قرآن اس لیے آپ پر نازل کیا تاکہ کہ آپ لوگوں کو اس کی وضاحت کردیں۔

۳- وہی مضامین جن کا تعلق متشابہات سے ہیں جس کے علم کے حوالے سے مختلف اقوال ہے لیکن ظاہر قرآن یہ ہے کہ “وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ” اللہ کو اس کا علم ہے۔ لہذا! یہ دجل، فریب اور انکار حدیث کا ایک نیا انداز ہے کہ قرآن کا سمجھنا آسان ہے اس کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں اگر ایسا ہے تو پھر ہر آیت کی تفیسر اور شان نزول کو کہاں سے لائیں گے یا ان آیات اور سورتوں کو قرآن سے نکالیں گے جس کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے ہو یا صحابہ کرام ؓ کے معاملات سے ہوں اس پر یقین ہی نہیں کریں گے کہ سورہ الأنفال غزوہ بدر، سورہ مجادلہ ایک خاتون کی شکایت اور سورہ عبس عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ کے بارے میں نازل ہوا ہے کیوں کہ یہ سب احادیث میں ہیں اور وہ ناقابل اعتبار ہیں تو ان آیات اور سورتوں کا کیا کریں گے؟۔ یہی صرف نہیں بلکہ خود رسول اللہ ﷺ کی تاریخی حثیت سے انکار کریں گے کہ ایسا ایک انسان ارض حجاز میں رہا ہی نہیں تھا جس کی سیرت اور صورت (شمائل) یہ تھا یا خاندان قریش سے اس کا تعلق تھا جس کو چالیس (٤٠) سال کے عمر میں غار حرا میں جبرائیل نے وحی لا کر نبوت کی ذمہ داری سونپی تھی کیوں کہ یہ عبادات تو ہیں نہیں کہ تواتر کو بنیاد بناکر قبول کریں اور احادیث ہم مانتے نہیں تو کہاں سے رسول اللہ ﷺ کی حالات زندگی، تاریخی حیثیت اور وجود ثابت کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں