بیاد.. ڈاکٹر عبد القدیر خان! مشکوٰۃ عبد الوحید




تم محسن رہے ہم تو مقروض ٹہرے ہیں
ہماری کامیابی کے قصے تم سے منسوب ٹہرے ہیں

تم تو وفا شعار رہے اس خاکِ چمن سے
ہم اس رِیت میں سراسر ارزاں ہی ٹہرے ہیں
تمہارا حق ادا کرنے کو محروم رہے اربابِ وطن
ہم بھی کونسا تمہاری تعظیم میں سابقون ٹہرے ہیں

طعنہ زنی کرتے تھے تم پر یہ لوگ بے بہا
تمہاری در جو تعزیت کو آ کر خواہاں ٹہرے ہیں
تمہارے احسانوں تلے جھکنے کو مچل رہے ہیں
ہماری آنکھوں میں آ کر جو آنسو ٹہرے ہیں

تم اثاثۂ سرزمین بہت قیمتی تھے جوہر
نظر بند کرنے والے تم سے پست قامت ٹہرے ہیں
اور یوں ایک دور کا انحطاط ہوتا ہے
ہمارے آسماں پہ کونسا خورشید ٹہرے ہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں