ہم محسنوں کو مجرم بنا دیتے ہیں!! افشاں نوید




وفاقی اردو یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا مگر اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔کھچاکھچ بھرا آڈیٹوریم جو اندر نہ آسکے باہر کھڑے منتظر کہ وہ اپنے محسن کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔۔ شگفتہ فرحت کی کتاب ‘تذکرۂ شخصیات بھوپال’ کی تقریب رونمائی میں ہم بھی ان کے مدعوئین میں تھے۔ تقریب کی کشش ڈاکٹر عبد القدیر خان کی آمد تھی۔

نوجوانوں کا جوش دیدنی تھا۔ان کو جو محبوبیت حاصل تھی وہ صدیوں میں کسی کا مقدر بنتی ہے۔ سخت سیکیورٹی میں ڈاکٹر صاحب آڈیٹوریم کے عقبی دروازے سے داخل ہوئے۔ان پر نظر پڑتے ہی نوجوانوں نے فلک شگاف نعرے لگائے اور آڈیٹوریم کے درودیوار پر ثبت ہوا کہ مشک آنست کہ خود ببوید ناکہ عطار بگوید وہ مشک صفت فخر پاکستان ہی نہیں فخر عالم اسلام تھے. آڈیٹوریم میں انکی گھن گرج سے پاک عاجزانہ گفتگو،جس میں تقریر کا شائبہ بھی نہ تھا۔یوں ہم کلام ہوئے جیسے دوستوں کی محفل۔۔۔ سخت سیکیورٹی کے حصار نے انھیں کسی سے ملنے نہ دیا۔ سب خوش تھے اس عظیم انسان کو دیکھ کر جس نے مسلم دنیا کی آبرو قائم رکھی تھی۔ وہ اپنی پر تعیش زندگی چھوڑ کر صرف وطن کی محبت میں واپس آئے تھے۔مورخ سوال کرے گا کہ وہ ایک آزاد ملک میں کس جرم کی پاداش میں نظر بند کیے گئے۔وہی ناکردہ جرم جس کی سزا ڈاکٹر عافیہ بھگت رہی ہیں۔ آہ۔۔۔نہ محسن فراموش کیے جاسکیں گے نہ تخت شاہی کے مجرم ۔۔ ہمارا محسن آج ہمیں غمگین چھوڑ گیا۔ جھیلوں،تالابوں،محبتوں اور وفاؤں کا شہر بھوپال جس سے نسبت کی خوشبو گاہے گاہے ان کے قلم سے پھوٹتی تھی آج اداس ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب پر درجنوں کتابیں لکھی گئیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔تغمۂ امتیاز نے ان کی نہیں انھوں نے تمغۂ امتیاز کی آبرو بڑھائی۔کچھ لوگوں کے جانے پر دل سوچتا ہے کہ وہ “کچھ لوگوں” کا حساب سخت کر گئے۔جنرل مشرف آج عبرت کا نشان ہیں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا گواہی دے رہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر قوم کے پیرو تھے۔وہ تو شکر ہے کہ روز حشر قوموں کا نہیں افراد کا حساب ہوگا ورنہ بحثیت قوم ڈآکٹر صاحب کی ناقدری پر ہم ہلا مارے جاتے۔۔یہ کیا کم سزا ہے کہ آج پاکستان برین ڈرین میں شائد پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان کے قابل آئی ٹی ماہرین، ڈاکٹرز،انجینرز،ریسرچرز جو وطن کی خدمت کرنا چاہتے ہیں جب وہ محسنوں کے ساتھ یہ بے وفائی دیکھتے ہیں تو دیار غیر کا رخ کرتے ہیں اور ان ملکوں کی خدمت کرنے لگتے ہیں۔ یہ ضرب المثل ہے کہ یہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں ہے۔۔ آپ اپنے دشمن کی اقدار دیکھئے وہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد الکلام کو ملک کا صدر بناتے ہیں۔اس قدردانی کے نتیجے میں جب نوجوانوں کا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے تو۔۔۔ ان کا شہر بنگلور ‘سیلیکون ویلی’بننے جارہا ہے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی قدر کرتے تو وہ جنھوں نے ایک غریب قوم کو ایٹم بم کا تحفہ دیا کیا وہ سیلیکون ویلی کا تحفہ نہ دے سکتے تھے۔ قومیں گرین لائن اور میٹرو سے ترقی نہیں کرتیں۔ افراد کی قدردانی قوموں کا اصل جوہر ہوتی ہے۔

محسن پاکستان کا خطاب ڈاکٹر صاحب کو قوم نے دیا تھا۔ قوم کے دلوں میں وہ حشر تک زندہ رہیں گے۔- ڈاکٹر صاحب اتنی ناقدری کے باوجودِ جی داروں کی طرح جئے۔ملک کے معروف اخبارات میں شائع انکے کالم علم وادب کا بہترین عکاس تھے۔جن میں ان کا کرب کبھی کبھی لہو بن کر جھلکتا تھا۔۔قرآن سے انکا عشق۔صوفیاء سے انکی محبت،کلام رومی پہ انکی گہری نظر،کلام اقبال پہ ان کی دسترس،وطن کی محبت انکا ایمان۔۔۔ ایک خوف خدا رکھنے والا دل جو زمین کے اوپر تھا آج اس نے خاک کی چادر اوڑھ لی۔۔ انکی مغفرت کی دعا کے ساتھ جو احساس جرم و ندامت ہے اس کے مداوے کی یہی صورت ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ملک کو ایٹم بم کا تحفہ ہم اگلا قدم اٹھائیں اور پاکستان میں ڈاکٹر عبد القدیر خان سیلیکون ویلی بنائیں۔۔ ڈاکٹر صاحب بھی تنہا ایک مشن لے کر وطن پلٹے تھے۔پھر لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔آج کوئی محب وطن آگے بڑھے اور اس ندامت کا ازالہ کرے جو ڈاکٹر صاحب کی جدائی پر ہمارے رگ وپے میں اتر گئی ہے۔ اللہ ہمیں قدر دان حکمران عطا فرمائے اور ہمارے اس قومی جرم کی مزید سزا سے ہمیں محفوظ رکھے۔آمین رب غفر لھہ وارحمہ وادخلہ الجنتہ۔آمین یا رب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں