بنتِ خاؤر




خود ہی کہ عہد و پیماں کو میں اکثر توڑ دیتی ہوں
کہ جن راہوں میں رب نہ ہوں وہ راہیں چھوڑ دیتی ہوں

تیری راہیں، تیری بانہیں ، تیری ہی سب پناہ گاہیں
مجھے آغوش میں لے لیں تو سب کچھ چھوڑ دیتی ہوں

گرے رہنا یوں سجدوں میں، پڑے رہنا مزاروں میں
خوشی سے جھومتے پھرنا، یا پھر رہنا بازاروں میں
نہ یہ حد ہے نہ وہ حد ہے، حقیقت تو اب ایسی کہ
تیرا سایہ جہاں پاؤں وہیں حد توڑ دیتی ہوں

ہر اک انساں تماشہ ہے، خطاء بندہ پرور کہ
حُکَم بجا لے آتی ہوں مریدی چھوڑ دیتی ہوں

خود ہی کہ عہد و پیماں کو میں اکثر توڑ دیتی ہوں
خدا کے خوف سے اکثر محبت چھوڑ دیتی ہوں

میں بے ایمان کہلاؤں تو سب کو یہ بتا دینا
میں دل میں رہنے والے پہ خودی کو توڑ دیتی ہوں

خدا کے واسطے دیکھو محبت چھوڑ دیتی ہوں
میں اس کے حکم پہ جاناں، جہا‍ں کو چھوڑ دیتی ہوں

خدا کے خوف سے اکثر محبت چھوڑ دیتی ہوں
خدا کے خوف سے اکثر محبت چھوڑ دیتی ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں