مس حسن آ را – نادیہ احمد




“گرلز کالج “کے میدان میں آج بڑی رونق تھی .پنڈال سجایا جا چکا تھا اسٹیج کے ایک جانب پرنسپل اور مہمان خصوصی کے لئےکرسیاں لگائی گئی تھیں۔ یہ ساری تیاری دراصل آج “مسزحسن آرا” کو دی جانے والی الوداعی تقریب کے سلسلے میں تھی جن کی ملازمت کی معیاد پوری ہو گئی تھی.
انہیں الوداع کہنے کے لیے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے لئے تمام ساتھی اساتذہ نے آج “اساتذہ کا عالمی دن “مقرر کیا تھا یوں تو اس کالج کی یہ خاصیت تھی کہ یہاں تمام اساتذہ بہترین اور اپنے شعبے سے مخلص اور محبت کرنے والی تھیں لیکن مس حسن آرا کی بات ہی الگ تھی۔ ان کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جن کے لیے شعبہ” درس و تدریس” صرف ملازمت ہی نہیں تھی بلکہ ایک نسل کی تربیت تھی . وہ ایک مخلص٫ باعمل ٫دیندار اور اسم بامسمیٰ معلمہ تھیں۔ کیونکہ انسان کا حسن اس کی شخصیت میں ہی ہوتا ہے۔ مس حسن آرا بھی ظاہری اور باطنی طور پر ایک مکمل شخصیت تھیں اور ایک مثالی کردار کی حیثیت رکھتی تھیں ۔گرلز کالج ہونے کے باوجود ہمہ وقت حجاب ان کے چہرے کا احاطہ کیے رہتا ۔ ان کے پڑھانے کا انداز نہایت فصیح و بلیغ تھا یہی وجہ تھی کہ انگلش جیسا مشکل مضمون بھی اس کالج میں لڑکیوں کا پسندیدہ تھا اور اس کلاس میں ان کی حاضری سب سے زیادہ ہوتی تھی ۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا گیا۔ اس کے بعد پرنسپل نے اساتذہ کے عالمی دن کے حوالے سے چند باتیں کیں۔ پھر مس حسن آرا کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی خدمات کو سراہنے کے لیے تعریفی سند اور تمغہ تحسین پیش کیا.
۔ساتھی اساتذہ نے گلدستے اور تحائف پیش کیے اور مس کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اسٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی گئی۔ وہ اسٹیج پر تشریف لائیں اور اپنی گفتگو کا آغاز حمدیہ کلام کے اشعار سے کیا۔ انہوں نے کہا میری عزیز ساتھی اساتذہ اور بچیوں! میرا اور آپ کا تدریسی عمل کا ساتھ آج تک کا تھا.میں نے کوشش کی کہ علم کی جو امانت میرے پاس ہے اسے پوری ایمانداری کے ساتھ سینہ بہ سینہ منتقل کر دوں اور الحمدللہ آج یہاں ایسی بچیاں بھی موجود ہیں ہیں جن کی ماؤں نے یہاں سے تعلیم حاصل کی اور ان کا بھروسہ اس حد تک پہنچا تو انہوں نے اپنی بچیوں کی تعلیم کے لئے بھی اس کالج کا انتخاب کیا۔وہ یہ کہہ کر چند لمحے کیلئے خاموش ہوئیں حاضرین نہایت دلچسپی سے ان کی گفتگو سن رہے تھے تھے وہ واقعی ان لوگوں میں سے تھیں جن کی باتیں خوشبو بکھیرتی تھیں وہ پھر گویا ہوئیں. تعلیم دراصل صرف کتابیں پڑھا دینے اور فارمولے رٹوا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ استاد کا کام ایک نسل تیار کرنا ہوتا ہے جو اپنی مثبت سوچ کو کو اگلی نسل میں منتقل کرنے کا کام سرانجام دے۔ بچوں کی تربیت میں گھر سے باہر کے لوگوں میں سب سے زیادہ اثر استاد کا ہوتا ہے کیونکہ وہ روحانی والدین ہوتے ہیں اور روح کو سیراب کرنا ہی استاد کی اصل ذمہ داری ہے.
ایک طالب علم جب مادر علمی میں قدم رکھتا ہے تو اس کی روح تشنہ ہوتی ہے اور جیسے جیسے وہ علمی مدارج طے کرتا جاتا ہے اگر اس کی روح سیراب نہ کی جائے تو یہ تشنگی بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ ڈگری تو ہاتھ آجاتی ہے مگر روح کی تشنگی برقرار رہتی ہے اور ایسے طالب علم عملی زندگی میں بامقصد زندگی گزارنے کے قابل نہیں بن سکتے۔ اسی طرح استاد کا بھی معاملہ ہوتا ہے جب وہ اپنے کیریئر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتا ہے اگر وہ طالب علم کی روح کو سیراب کرنے میں کامیاب ہوجائے تو خود اس کی روح بھی سیراب ہو جاتی ہے استاد اور شاگرد کا رشتہ اس لئے لازوال ہے کہ یہ روح کا رشتہ ہے۔آپ سب آگے چل کر کسی نہ کسی پیشے کا انتخاب کریں گی کوئی ڈاکٹر بننا چاہیں گی کوئی انجینئر کوئی سائنسدان تو کوئی تدریس جیسے مقدس پیشے کا انتخاب کریں گی۔سب سے پہلے پہلے تعین کریں کہ آپ کا مقصد حیات کیا ہے ؟ پھر کوشش، حوصلہ، لگن اور یقین آپ کو آپ کی منزل تک پہنچائے گا ۔شعبہ کوئی بھی ہو مگر جہاں بھی جائیں یہ یاد رکھیں کے ہر شعبے سے منسلک ذمہ داریوں کی آپ امین ہیں اور مومن امانت میں خیانت نہیں کرتا اس لئے اپنے فرائض کو تندہی سے انجام دیں میری دعا ہے کہ آپ سب زندگی میں بہت کامیابیاں حاصل کریں.
اور یہ یاد رکھئے گا کہ میرا تعلق کالج سے ختم ہوا ہے لیکن میں آپ کی رہنمائی کے لئے ہمیشہ موجود ہوں آپ مجھ سے ہمیشہ رابطہ کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور مس حسن آرا پروقار انداز میں اپنی نشست کی جانب بڑھ گئیں۔اس کے بعد کچھ ساتھی اساتذہ نے ان کے لیے اپنے خیالات اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔آخر میں کالج کی کی طالبات کی جانب سے کتابوں کا تحفہ اور ٹائٹل پیش کرنے کے لئے اسٹوڈنٹ کونسل کی انچارج اسٹیج پر تشریف لائیں اور ایک دفعہ پھر مس حسن آرا کو اسٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی گئی۔ انچارج نے ٹائٹل پر موجود اشعار پڑھ کر سنائے
محبت، خلوص، عزم و ہمت انکو فطرت سے ملی ہے حکمت
رب کی روایتوں کی امین ہیں ہمارے لیے وہ تحفہ عظیم ہیں
احساس تشکر سے سے مسز حسن آرا کی آنکھیں بھر آئیں اور مسکراتی مگر پرنم آنکھوں سے انہوں نے طالبات کی محبت کا شکریہ ادا کیا استاد اور شاگرد کی ایسی لازوال محبت پر موجود تمام اساتذہ نے یہ عہد کیا کہ وہ بھی مس حسن آ را کے طریقے کو اپنا شعار بنائیں گی ۔
تعلیم کی امانت کو بہترین جذبے اور خلوص کے ساتھ نئی نسل میں منتقل کریں گی اور ان کی روح کی تشنگی کو ختم کرنے کا ذریعہ بنیں گی. بلآخر ایک پر وقار تقریب کا اختتام ہوا جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی ۔ دل پر عزم تھے اور لب دعا گو تھے کہ اللہ رب العزت اسے محترم اساتذہ کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سائے میں رکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں