محسن پاکستان تیری عظمت کو سلام – نبیلہ شہزاد




بڑی افسردگی کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ایک ایسی عظیم شخصیت، جس نے پاکستان کے لئے عظیم ترین کارنامہ سر انجام دیا،اس کا اجر اسے صرف اللہ تعالی ہی دے سکتے ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اب وہ ہم میں نہیں رہے۔ 1935ء میں بھارت کے شہر بھوپال اور پشتون خاندان میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان، قیام پاکستان کے چند سال بعد ہجرت کرکے کراچی میں آئے۔
1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی ( دھاتوں کے علم) میں سند حاصل کی۔ پھر سکالرشپ پر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جرمنی چلے گئے اور پھر ہالینڈ گئے۔ وہاں سے 1972ء میں میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹر یت کی ڈگری حاصل کی۔ 1972ء میں ہی ڈاکٹر صاحب نے فزیکل ڈائنامکس ریسرچ لیبارٹری میں یورینکو (URENCO) کی یعنی برطانیہ، جرمنی اور ڈچ (ہالینڈ) شراکت دار کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ 1971ء میں قائم کی گئی اس کمپنی میں اہم کام سینٹری فیوجز کے ذریعے یورنیم کی افزودگی کی تیاری اور تحقیق تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی قابلیت اور محنتی ہونے کی بنا پر یہاں انہیں نچلی سطح پر سیکورٹی کلیرنس دی گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں سینٹری فیوج ٹیکنالوجی کی مکمل معلومات حاصل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے “ایل میلو” ( مشرقی ہالینڈ کا شہر) میں قائم ڈچ پلانٹ کا بھی متعدد مرتبہ دورہ کیا۔ جدید ترین سینٹری فیوجز سے متعلق جرمن دستاویزات کا ترجمہ کرنا بھی ان کے ذمے لگایا گیا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں ڈاکٹر صاحب کے علم میں اضافہ ہو رہا تھا ان کا دل اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کے لیے اور زیادہ دھڑک رہا تھا۔ 1972ء میں جب انڈیا نے ایٹمی ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تو ڈاکٹر صاحب اپنے ملک کے لیے تڑپ اٹھے.
وہ جانتے تھے کہ بھارت کا ایٹمی طاقت بننا پاکستان کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔وہ اپنے علم اور قابلیت سے اپنے ملک کو فائدہ دینا چاہتے تھے۔ وہ خود آگے بڑھے اور 17 ستمبر 1974ء کو وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو خط لکھا جس میں انہوں نے ایٹم بم بنانے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس خط میں اپنی رائے بھی دی کہ پلوٹونیئم کی بجائے ( کیونکہ اس سے پاکستان پہلے ہی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا) سینٹری فیوجز، یورینئم (سینٹری فیوجز انتہائی تیز رفتاری سے کام کرتے ہیں) کو استعمال کرکے بم بنایا جائے۔ کیونکہ اس میں جوہری ری ایکٹرز اور ری پراسیسنگ ہوتی ہے۔ بھٹو صاحب نے ڈاکٹر خان صاحب کی حوصلہ افزائی کی اور جوابی خط میں انہیں پاکستان واپس آنے کے لیے کہا۔ پاکستان کا یہ قابل فخر سپوت ہر آسائش کو ٹھکرا کر اپنے وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تحفظ و سالمیت کے لیے کچھ کرنے کی خاطر بیوی، بچوں سمیت پاکستان میں واپس آگیا۔یہاں آکر کر ایٹمی پروگرام پر انتہائی محنت اور تگ و دو سے کام کیا اور پاکستان کو بھی 28 مئی 1998ء میں ایٹمی طاقت بنانے کا خواب پورا کیا۔ جہاں ایک طرف قوم کا عزم تھا کہ گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے وہاں دوسری طرف ڈاکٹر صاحب اور دوسرے سائنسدانوں کی لگن، جانفشانی اور قربانی بھی شامل ہے۔
آج بھی پاکستان ایٹمی طاقت رکھنے والا واحد اسلامی ملک ہے حالانکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت تمام دنیا کفر نے کی اور اسے روکنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔ کیونکہ انہیں بھارت جیسے فسادی ملک کا ایٹمی پاور بننا تو منظور تھا لیکن کسی اسلامی ملک کا نہیں۔ یوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے قومی ہیرو بن گئے۔ انہیں قومی سطح پر بہت سارے اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں 1996ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز ستارہ امتیاز ملا۔ انہیں ہلال امتیاز بھی مل چکا ہے۔ ایک درجن سے زیادہ طلائی تمغے بھی حاصل کیے ہیں۔ بلکہ یہ پاکستان کے ابھی تک واحد شہری ہیں جنہیں ان کی زندگی میں دو دفعہ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ پہلا 1996ء میں اور دوسرا 1999ء میں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سلامتی کی خاطر گرانقدر خدمات سرانجام دینے والا ڈاکٹر عبدالقدیر خان طاغوت کی آنکھ میں کھٹکنے والا شہتیر تھا۔وہ ہر پل ان کے خلاف چالیں چلنے میں مشغول رہتے تھے۔ آخرکار انہیں یہ موقع مل گیا۔ انہوں نے نے پرویز مشرف کے دور میں ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی کے منتقلی کے الزام میں اس درویش صفت ہیرو کو 31 جنوری 2004 میں گرفتار کروایا تھا۔
حکومت وقت نے ان پر دباؤ ڈال کر زبردستی ان سے اعترافی جرم کا بیان ٹیلیویژن پر دلوایا۔ اس بیان کے بعد2009ء تک انہیں ان کے گھر میں نظر بند رکھا۔ بعد میں ان کی نظر بندی تو دور کر دی گئی لیکن انہیں پہلے جیسی آزادی نہ حاصل تھی۔ اس رویہ پر ڈاکٹر صاحب دل افسردہ تھے اور کبھی کبھی شکوہ کناں بھی ہوتے۔ جس کا اظہار ڈاکٹر صاحب نے اپنے شعر میں اس طرح کیا۔
گزر تو خیر گئی تیری حیات قدیر ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔
سچ فرمایا ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے۔ مگر یہ کوفیوں والا رویہ صرف یہود و نصاری،کفار کی ایماء پر چلنے والے ارباب اختیار کا تھا۔پاکستانی قوم کے دل کل بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محبت میں لبریز تھے اور آج ان کی وفات پر ہر محب وطن پاکستانی کا دل غم زدہ اور آنکھیں نم ہیں۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ پاکستانی قوم ایک زندہ دل رکھنے والی قوم ہے۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی عزت و وقار کی علامت تھے اور رہیں گے۔ انہیں ہیرو تصور کیا جاتا تھا اور کیا جاتا رہے گا۔ کیونکہ انہوں نے انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنایا تھا۔انشاءاللہ تاقیامت پاکستان کے محسنین کی فہرست میں ان کا نام سنہری حروف میں سرفہرست لکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں