عنوان: رونق بحال ہوئی
ازقلم: سیدہ ابیحہ مریم

چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی سب کے لکھتے ہوئے ہاتھ رک گئے۔ دھڑا دھڑ کتب بند کر کے بستہ کی واحد کھلی ہوئی جیب میں ڈالیں۔ بستے کی دیگر تمام جییبیں گھنٹہ ختم ہونے سے پہلے ہی بند کر دی تھیں تو پینسل کو عبایہ پہننے کے بعد اس کی جیب میں ڈال کر کمرہ جماعت سے باہر نکل گئی۔ فزکس کا پیریڈ کبھی بھی آخر میں نہ ہو۔ ورنہ جب تک وین کا نام دوسری دفعہ نہ لیا جائے، لکھتے ہی رہنا ہوتا ہے۔

نیچے انتظار گاہ میں جانے کے لئے دو منزلے عبور کرنے تھے۔ میں اس خیال سے سہج سہج کر نیچے اتر رہی تھی کہ آج تو کافی سارے بچے ہیں۔ لہذا سب کو بیٹھنے میں وقت لگے گا۔ دوسرے منزلے کی درمیانی سیڑھی پر کھڑی تھی جب سامنے سے آٹھ نو لڑکیوں کا گروہ آتا نظر آیا جو اندھا دھند اوپر کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ میں کونے میں ہوگئی۔ ان کے گزرنے کے بعد آگے بڑھنا ہی چاہتی تھی کہ پیچھے سے “ایکسکیوز می!” کی آواز کے ساتھ ایک ٹیچر نے راستہ مانگا۔ انکے پہلو میں جماعت ششم کی طالبات قطار بنائے نیچے اتر رہی تھیں۔ میں اس ہی سیڑھی کی دیوار سے ٹک گئی۔ جب سب طالبات گزر گئیں تو خاک آلود سیڑھیوں پر نگاہ پڑی۔۔

سب کے جوتوں کی مٹی نے سیڑھیوں کو ایک نیا رنگ دے دیا تھا۔۔
رونق سے بھرپور بھورا رنگ۔۔
اجتماعت کا رنگ۔۔
احساس، فکر اور اشتراکیت کا رنگ۔۔
اس رنگ میں کچھ انوکھی سی اپنائیت تھی۔۔
یادیں اور امیدیں تھیں۔۔
یادیں۔۔۔ ڈیڑھ سال پہلے کی
اور
امیدیں۔۔۔ ہمیشہ ساتھ رہنے کی!


اسمبلی کے لئے بچوں کا انتخاب۔۔
پریفیکٹ اور ہیڈ گرل جیسی دیگر ذمہ داریوں کی تعیناتی۔۔ اسکول پکنک کا نوٹس۔۔
اور وہ ہی ہفتہ وار، ماہانہ اور ششماہی امتحانات کی تیاریاں۔۔
ہر جماعت کے تختہء سفید پر حاضری کا خانہ۔۔
وقفہ میں پورا اسکول گھومنا۔۔
دوسرے سیکشن میں جا کر اپنی بچھڑی ہوئی دوستوں سے ملنا۔۔
مائیکروفون، جی-سی، آن لائن کلاس جیسی اصطلاحات سے چھٹکارہ۔۔
وہ ہی بڑی جماعتوں کا چھوٹوں پر رعب۔۔
اسمبلی میں دوسروں کو جگہ دینے کیلئے چپک چپک کر کھڑا ہونا۔۔
قومی ترانے میں گلا پھاڑ پھاڑ کر وطن سے محبت کا اظہار۔۔
دیر سے پہنچنے پر ‘لیٹ کمرز” کی قطار۔۔
اور گھر آتے ہی ناخن کاٹنے، سپاہ ہیئر بینڈز اور ‘بلیک or وائٹ’ جوتوں جیسی دوسری پابندیوں کی فکر۔۔
ویلکم بورڈ پر 💯 فیصد حاضری کا نوٹس۔۔۔!

یہ تھیں یادیں۔۔۔
اور یہ ہی ہیں
امیدیں۔۔ روایتیں۔۔
اور
رونق۔۔۔
میرے اسکول کی۔ دیگر تعلیمی اداروں کی۔۔۔
جو مارچ 2020 کی ایک شام نے مجھ سے چھین لی تھیں۔۔
اور پھر۔۔۔
اکتوبر 2021 کی ایک شام نے انہیں لوٹا دیا۔۔۔
الحمدللہ رب العالمین

ان دونوں شاموں نے طلباء کو خوش کر دیا۔۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔۔ ایک دفعہ اسکول کی چھٹیوں کی مسرت اور دوسری دفعہ مل جانے کی خوشی۔۔
اور ان ہی دو راتوں کے درمیان۔۔
مجھے پتا چلا ۔۔

صبح سویرے اٹھ کر اسکول کیوں جانا ہوتا ہے..؟
کلاس میں ہی لیکچر غور سے کیوں سننا ہوتا ہے..؟
غیر نصابی سرگرمیاں ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے..؟
ہاتھ اٹھا کر کلاس میں ہی سوال پوچھنے اور جی-سی یا زوم پر ‘ریز ہینڈ’ کے آپشن میں کیا فرق ہے..؟
وہ وین کا طویل سفر طے کرنے میں کتنے مزے ہوتے ہیں..؟

شکریہ کووڈ 19۔۔ تمہارا شکریہ!
یہ بتانے کے لئے کہ اس قید میں بھی آزادی تھی۔ یہ تمہارے کئی منفی پہلو کے مقابلے میں ایک مثبت اور قیمتی پہلو ہے کہ تم نے مجھے میری تعلیمی ادارے اور اساتذہ کی اہمیت سے روشناس کرا دیا۔۔!

وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿البقرہ: ٢١٦﴾
ترجمہ:
ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں