متنازعہ کیک – فوزیہ تنویر




مُردوں کی سالگرہ مناتے ہوئے کیک کاٹنے کی رسم تو ہمارے ملک میں بخوبی نبھائی جاتی ہے۔ نہیں معلوم کیا سوچ کر اس چیز کو رواج بنا دیا گیا ہے۔ مُردوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا کیک کھانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ پہلے پہل جو کیک صرف بچوں کی سالگرہ پر کاٹا جاتا تھا، پھر شادیوں میں اور مختلف نام کے تہواروں پر کاٹے جانے لگا۔ لیکن جب یہی کیک سیاسی رنگ اختیار کر گیا تو پھر اس کیک کی وہ مٹی پلید ہونے لگی کہ خدا کی پناہ! اس کی خوبصورتی اور نفاست کو سیاسی ورکرز کاٹنے سے پہلے ہی پامال کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اسے پیار اور محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن آج کے دور میں اسے بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ایسے موقع پر کیک کٹنے لگا ہے کہ دل میں خوشی کے بجائے دکھ اور کرب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

کیسا دور آگیا ہے کہ مذہبی اجتماعات میں بھی بڑے سے بڑا کیک کاٹنے کو فخر سمجھا جاتا ہے۔ اب تو نبی پاک ﷺ سے محبت کا ثبوت بھی بڑا سا کیک کاٹ کر دیا جاتا ہے۔ جب حکومتی سطح پر نبی آخر الزماں ﷺ سے عشق و محبت کا یہ انداز اپنایا جائے گا تو پھر عام لوگوں میں بدعات کے فروغ کو کس طرح سے روکا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔ نہ جانے یہ شروعات کیا انجام لے کر آئیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں