علامہ محمد اقبالؒ – عُرفہ کامران




کچھ لوگ ہمیشہ کہتے تھے
لفظوں کا جادو چلتا ہے
ہے دنیا اسکی مٹھی میں
جو حرف پرو کر سیتا ہے
ہم مان گئے جب آنکھوں دیکھا
اک شخص دلوں میں بستا ہے
وہ ساحر جیسا لگتا ہے
پر شاعر خود کو کہتا ہے
جب بات ہو مسلم امت کی
وہ چپ کہاں پھر رہتا ہے
دردِ جگر کو گھول کے پھر
لفظوں کی مالا بُنتا ہے
ایک سوز ہے اس کے لہجے میں
وہ خواب حقیقی رکھتا ہے
جو دل کی تاروں کو چھیڑے
وہ تال قلم میں رکھتا ہے
جو خونِ جگر کو گرما دے
وہ جز بے آہنی رکھتا ہے
گر اس کا جادو چل جائے
وہ کہاں کسی کا رہتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں