علامہ اقبال، ہمارے محسن – فوزیہ اسرار




کچھ لمحے مفکر پاکستان کی یاد میں ……. قدر شناس لوگ ھمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ھیں جنہوں نے مشکلات کے اندھیرے میں دے اور جگنو کا کردار ادا کیا ھوتا ھے۔ایسے کچھ لوگ قوموں کی زندگیوں میں بھی آتے ھیں جو اپنی عقل،فہم وفراست،ہمت سے نہ صرف قوم کو جگاتے ھیں بلکہ ان کو نئ سوچ دے کر عمل کی جہت بھی دکھاتے.

اور پھر یہی لوگ اپنی قوم کو مصائب کے بھنور سے نکالنے کی جدو جہد بھی کرتے ھیں انہی شخصیات میں علامہ اقبال کا نام سر فہرست ہے. آپ کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ عقیدت تھی یہ عشق قلب و نظر ان کی شاعری میں جھلکتا ھے آپکی شاعری بعض مقامات پر الہامی محسوس ہوتی ھے اپنی کم مائیگی کا احساس نظر آتا ہے. مومن،مردحق،نمازی، جیسی اصطلاحات کا آپ نے اپنی شاعری میں برملا اظہار کیا۔عہد قدیم سے مسلمانوں کا رشتہ جوڑا ان کو قرطبہ اور اندلس کی یاد دلائی اور ساتھ ہی مسلم سپہ سالاروں سے روشناس کروایا۔

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

ایک طرف بیدار کیا اور عمل پر آمادہ کیا اور دوسری طرف 1930 کے سالانہ اجلاس کے موقع پر خطبہ الہ آباد دیا جو ظلم کی چکی میں پستے لوگوں کے لیے امید کی ایک کرن تھی۔کبھی رب سے شکوہ کیا اور پھر رب کی طرف سے جواب شکوہ لکھا۔غرض انہوں نے شاعری کی صلاحیت کو قوم کی’ تعمیر و تشکیل کے لئیے استعمال کیا وہی ہے صاحب امروز کہ جس نے اپنی ھمت سے زمانے کے سمندر سے نکالا گوہرِ فردا

1930کے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیا ….. اس خطبے میں علامہ اقبال نے قوم کو واضح حل دے دیا کہ متحدہ ہندوستان کا تو کوئی تصور ھی نھیں مسلمانوں کو اپنے تشخص کو باقی رکھنے کے لیے علیحدہ وطن کی ضرورت ہےمسلمانوں کی قومیت اسلام کی وجہ سے ھےانھوں نے اسلام کو زندہ قوت قرار دیا .

زندہ قُوّت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ عِلم کلام
روشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

علامہ اقبال نے قائد اعظم کو مسلمانوں کی قیادت کے لیے تیار کیا انہیں لندن سے وطن واپسی پر آمادہ کیا اور مسلسل اپنی شاعری کے ذریعے قوم کو عمل پر ابھارنے کا کام کیا۔انہیں بتایا کہ مومن کی شان کیا ھے۔ مومن کا مقام کیا ھے؟ مسلمان خوددار ھوتا ھے مصائب کی آندھیوں میں بھی اپنا راستہ تلاش کرتا ھے۔

نہ تو زمیں کے لیے ھے نہ آسمان کے لیے
جہاں ھے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے

ان کی کوششیں تھیں کہ لوگوں میں شعور و آگہی پیدا ہوئ ان کی تصانیف آج بھی مسلمانوں کو اپنا مقام ومرتبہ یاد دلانے کے لیے موجود ہیں شرط یہ ھے کہ ان کو مفہوم و مطالب کے ساتھ پڑھایا اور سکھایا جائے حکیم الامت،مفکر پاکستان،مصور پاکستان کہلانے والے علامہ اقبال اپنے خواب کو تعبیر ھونے سے پہلے ھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے 21 اپریل 1938 میں وہ دیا بجھ گیا کہ جس نے ملت کی تاریک راہوں میں روشنی کی تھی وہ اپنے نوجوانوں سے بہت پرامید تھے اسلیے کہا

نہیں ھے نا امید اقبال اپنے کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اللہ ان کی قبر میں ویسے ھی آسانی دے جیسی انہوں نے مسلمانوں کو علیحدہ ملک دلا کر دی۔

آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

آمین۔

Leave a Reply