منزل آسان – ایمن سلیم – انعامی مقابلہ تحریر




(کیٹگری 1
انعام یافتہ – سؤم انعام)

“اسلام علیکم” سارا نے چچا کے گھر داخل ہو کر سلام کیا
” وعلیکم السلام.” چچی نے جواب دیا
” چچی ایشا کہاں ہے ؟ آپ نے اس کو بتایا تو نہیں نا میرے آنے کا ؟” سارا نے پوچھا

” نہیں ، نہیں بتایا ، وہ اپنے کمرے میں ہی ہے تم جاؤ اور حیران کردو اسکو ۔” چچی نے کہا تو وہ مسکراتی ہوئی ایشا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور چپکے سے دروازہ کھٹکھا کر ایک طرف ہو گئی ۔ ایشا نے اندر سے ہی کہا” کون” مگر کوئ جواب نہ پا کر باہر آئ تو سارا نے ایک دم ڈرا دیا ایشا ایک دم اچھل پڑی
” تم۔۔۔ تم کہاں سے ٹپک پڑی اچانک”؟
“اچانک نہیں جناب ، مکمل پروٹوکول کے ساتھ آپ کے گھر دو دن کے لئے ما بدولت تشریف لائے ہیں” ۔
“او ہو ، زہے نصیب ، ہمارے بھی بھاگ جاگ گئے ، آج سارا صاحبہ کی سواری ہمارے گھر ۔۔ واہ کیا کہنے ہیں ، چلو اندر آؤ سارا کی بچی ..” ایشا نے اس کی عزت افزائی کی
اور پھر پورا دن ان کی باتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہا

“تم سونے سے پہلے چادر جھاڑو گی نہیں؟” سارا نے ایشا سے پوچھا جو سونے کے لئے بستر پر لیٹنے ہی لگی تھی ۔
” کیوں! بالکل صاف تو ہے بستر ، پھر کیوں جھاڑوں؟”ایشا نے حیرت سے کہا
” اس لئے کے بستر جھاڑ کر سونا سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ، میری امی تو ضرور کرواتی ہیں.” سارا نے بتایا
“اچھا ، ایشا نے چند لمحے سوچا اور چادر اٹھاتے ہوئے کہا” چلو تم کہتی ہو تو جھاڑ ہی لیتے ہیں مگر پھر مل کردوبارہ بچھوانا .”
“ہاں کیوں نہیں ” سارا نے کہا اور مل کر دوبارا سب ٹھیک کیا اور دونوں لیٹ کر باتیں کرنے لگیں
” ویسے تم آج کچھ زیادہ ہی نہیں بدل گئی کہ بیٹھ کر پانی پیو ، سیدھے ہاتھ سے سب کام ضروری وغیرہ۔۔ “ایشا نے کہا

” تم کو پتا ہے ، مجھے بھی بڑی چڑ ہوتی تھی کہ یہ کیا بات ہوئی اچھا خاصا کام بڑھ جاتا تھا ، پھر ایک دن ایک چھوٹی سی کتاب امی نے دی کہ یہ پڑھ لینا ، میں نے دیکھا تو کتاب کا نام تھا ” سو سنتیں صلی اللّٰہ علیہ وسلم (جمعیت تعلیم القرآن)” ۔ اس وقت تو میں نے امی کو کہہ دیا کہ اچھا پڑھ لوں گی مگر میں نے پھر سوچا کہ اگر پڑھ لیا تو پتا نہیں کتنے مشکل مشکل کام کرنے پڑیں گے تو میں نے وہ کتاب چھپا دی اور امی سے کہہ دیا کہ پتہ نہیں میں رکھ کر بھول گئی.” سارا نے کہا
” اچھا کیا ، پتا نہیں یہ امی لوگ سمجھتی ہی نہیں ، ابھی تو ہماری عمر انجوائے کرنے کی ہے ان پر بھی عمل کر ہی لیں گے “۔ ایشا نے کہا
” آگے تو سنو ، میرا بھی یہ ہی خیال تھا۔”
“پھر؟؟”

” پھر یہ کہ ایک دن ایک کتاب ڈھونڈھتے ہوئے “سو سنتیں” پھر ہاتھ میں آگئی تو میں نے سوچا کہ چلو دیکھ لیتی ہوں ، ایک دو پر تو عمل کر ہی لوں گی ، مگر پتا ہے کہ اس میں کیا تھا ؟” سارا نے تجسس پھیلایا
“کیا تھا؟؟” ایشا بھی اٹھ بیٹھی
” ہمارے روز مرہ زندگی کے کام جو باتیں امی ،ابو یا نانی ،دادی بچپن سے ٹوکتی یا سکھاتی آ رہی ہیں۔” سارا نے پھر بات ادھوری چھوڑ دی “مثلاً؟؟”
“مثلاً یہ کہ “سارا مزے سے بولی ” صبح اٹھ کر کلمہ پڑھنا ، ایک سنت ، بیٹھ کر پانی پینا ، دوسری ، کھانے سے پہلے کی دعا تیسری ، کھا ے کے بعد کی چوتھی سنت ، رات کو سوتے وقت کی دعا، صبح اٹھنے کی دعا،واش روم جانے کی دعا، گھر سے نکلنے اور داخل ہونے کی دعا،مسجد کے داخلے ،مسواک ، وضو کا طریقہ، لباس ،

جوتی پہنتے وقت سیدھا ہاتھ یا پاؤں پہلے وغیرہ اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے کام جو ہم کو بچپن سے سکھا رہے ہیں وہ سب سنتیں ہیں ۔اور اسی طرح کی بہت سی سنتیں ۔۔”
” ہائیں۔۔۔۔ واقعی ، ؟ “ایشا حیران رہ گئی
“ہاں ں ں۔ اور کیا میں تو خود حیران رہ گئی تھی کہ اللّہ کا شکر ہے کہ ہمارے بزرگ ہم کو بچپن سے ہی ان سب کی عادت ڈال دیتے ہیں اور ہم کو پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم سنتوں پر عمل کر رہے ہیں ۔” سارا نے کہا
” ہاں کچھ باتیں ایسی تھیں جو مجھے نہیں معلوم تھیں کہ جیسے یہ بستر جھاڑنا یا رات کو وضو کرکے سونا یا ایک دو باتیں اور وہ اس کو پڑھ کر معلوم ہو گئیں ”

” یہ تو بڑی آسان بات ہے ہم پتہ نہیں کیوں اتنا گھبراتے ہیں کہ دین پر چلنا کتنا مشکل ہے ۔ ” ایشا نے بھی تائید کی
” ویسے دیکھا جائے تو رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے سے ہمارا عکس بھی روشن نظر آتا ہے ۔ سارا نے کہا اور دونوں نے اٹھ کر وضو کیا اور سونے کی دعائیں پڑھ کر سنت طریقہ پر سیدھی کروٹ سے سونے کے لئے لیٹ گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں