سچے عاشق رسولؐ – خضر جاوید – انعامی مقابلہ




(کیٹگری 1
انعام یافتہ – دؤم انعام)

اسد اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا اپنے عالیشان گھر اور قیمتی چیزوں کی تعریف کررہا تھا جب عمر نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
“اسد تم تو کہتے ہو کہ میں عاشق رسولؐ ہوں۔”
” ہاں میں ہوں۔” اسد نے جواب دیا۔

” تو پھر تمہیں رسولؐ کی سیرت کو اپنانا چاہیے۔” عمر اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔
” آپ ؐ کا مشہور واقعہ ہے ۔۔۔۔۔ حضرت ابن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چٹائی پر آرام کیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر کچھ نشانات آگئے، ابن مسعود رضہ سے رہا نہ گیا وہ بول پڑے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں نرم چٹائی بچھادوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے دنیا کی کیا ضرورت ؟ میری اور دنیا کی مثال اس مسافر کی طرح ہے جو گرماں کے زمانے میں سفر کررہا ہو اور تھوڑی دیر کے لیے درخت کے سائے میں آرام کیا اور چل دیا،۔۔ (مشکوٰة: ۴۴۲) (الوفاء باحوال المصطفیٰ۲/۴۷۵ بیروت )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کی کیفیت حضرت عائشہ یوں بیان فرماتی ہیں:
” انَّمَا کَانَ فِرَاشُ رَسُوْل اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم الَّذِيْ یَنَامُ عَلَیْہِ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُہ لِیْفٌ․آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کے پتے بھردیے جاتے تھے۔” ( مشکوة)

” تم نے ٹھیک کہا پیارے عمر مجھے پیارے نبیؐ کی سیرت کا ایک بار پھر سے مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ میں ان کی سنت کو اپنا سکوں اور خود کو دنیا کے پیچھے نا تھکاوں۔” عمر کی بات سن کر اسد نے اسے خوشدلی سے گلے لگایا اور عمر مسکرادیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں