کوئی مثل مصطفے کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا – اسماء صدیقہ – انعامی مقابلہ




(کیٹگری 2
انعام یافتہ – اول انعام)

کائنات کے خالق نے جو زمین وآسمان کا نور ھے زمین کے لیے خلیفہ بنانے کا ارادہ جب اپنی نوری مخلوق کے سامنے ظاھر کیا تو اس مطیع وفرمان بردار وجود نے ایک خدشہ ظاھر کیا خون بہائے جانے کا خدشہ جو قطعی جھوٹا اور ذرا بے بنیاد نہ تھا
مگر رب العزت نے کہا میں وہ کچھ جانتا ھوں جو تم نہیں جانتے

یہ تخلیق آدم کا قصہ صادق ھےجس میں یہی سر نہاں تھا اسی سے آدم مسجود جن و ملائک ٹہرے یہ حرف راز وضاحت سے جاننا چاھیں کہ کیا تھا خلیفہ ارض کی تخلیق کو آپ اگر کوئ خاص نام دینا چاھیں تو بالیقیں وہ نام محمد الرسول اللہ ھے صل اللہ علیہ وسلم جو بشر مگر ایسی عظمت بشر کہ نوری مخلوق ان کے تجلیات کے آگے ماند پڑ گئی ساری دنیا بس اسی ایک ھستی کی خاطر تخلیق ھوئ

سب کچھ تمھارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایت اولی تم ھی تو ھو

بشر اشرف المخلوقات ٹہرا یہ شرف اس کو دو وجوہات سے حاصل ھوا 1: علم 2:محبت دونوں بانٹنے سے بڑھتی ھیں اس دولت سے کلی طور پہ مالا مال بے شک خداے واحد ھے مگر اس نے اپنے خاص بندے کو بدرجہء اتم بخشی وہ شہر علم وجہ تکوین کائنات سراپا رحم ومحبت محمد مصطفے خاتم الانبیاء کے سوا کون ھے اسی مقام پہ بشر نوریوں سے آگے بڑھ گیا جب خالق نے اپنے حبیب کو آسمانوں پہ بلایا وہ اعزاز عطا کیا جو کسی کانصیب نہ تھا تو سدرہ پہ پہنچ کر جبرئیل امین وھیں ٹہر گئے کہ اس سے آگے جانے کی کوشش کی تو میرے پر جل جائیں گے اسی اعزاز پہ آپ خاتم الانبیاء قرار دئیے گئے

جلتے ھیں جبرئیل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تم ھی تو ھو

سورہء نجم میں مقام مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح بیان کیا گیا ھے
“اس وقت سدرہ پہ چھارھا تھا جو کچھ کے چھارھا تھا نگہ چوندھیائ نہ حد سے متجاوز ھوئ اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں “

مفسر قرآن مجدد دوراں لکھتے ھیں کہ یعنی ایک طرف رسول اللہ کے کمال تحمل کا حال یہ تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ کی نگہ میں کوئ چکا چوند نہ پیدا ھوئ اور آپ پورے سکون کے ساتھ انکو دیکھتے رھے”

روشنی کی طلب گار تھی روشنی

“دوسری طرف آپ کے ضبط اور یک سوئی کا کمال یہ تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ کو بلایا گیا اسی پر آپ اپنے ذھن اور اپنی نگہ کو مرکوز کیے رھے اور جو حیرت انگیز مناظر وھاں تھے ان کو دیکھنے کے لیے آپ نے ایک تماشائ کی طرح نگہ نہیں دوڑانی شروع کردی ”

گویا شاہ خالق این و آں نے آپ کو طلب کیا تو نظر میں کچھ ایسا تھاکہ ھٹالوں آنکھ اپنی ماسوا سے

بس تو ھی تو ھے باقی سب عبث ھے

بندگی کے کمال کا یہ سرا کسی بندے کو تو کجا کسی جلیل القدر پیغمبر کو بھی نصیب نہ ھوا سیدنا موسیٰ علیہ السلام وہ برگزیدہ نبی ھیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نے اللہ نے سب سے زیادہ کیا جب وہ تقاضے دید الہی کرتے ھیں رب ارنی کہ کر تو جواب لن ترانی کی صورت میں ایک انکار ھوتا ھے مگر جب تقاضا بڑھتا گیا اور خدا نے کوہ طور کی جانب تجلی فرمائ تو وہ مقرب پیغمبر دید کی تاب نہ لاتے ھوے بے ھوش ھو کر گر پڑے

مگر شان محمد صل اللہ علیہ وسلم ھے
کہ اپنے مقصد سے شدت سے جڑے رھے

عہد حاضر میں انٹرنیٹ نے مواصلات کے فاصلے تو قریب کردئیے مگر حضوری قلب مقصد سے مربوط رھنا یعنی کام سے کام رکھنا مخلص رھنا بہت کم ھوتا جارھا ھے مگر جب اس واقعہء معراج کی آیات اور تفسیر پڑھیں جذب کریں تو پائیں گے بندگی کا ایسا کمال اور اس کمال میں پنہاں یکتا جمال یہ علم اور محبت کی دولت سے مالامال ھوے بغیر ممکن نہیں دل پکارے گا بےشک

کسی اور کایہ رتبہ کبھی تھا نہ ھے نہ ھوگا

واقعہء طائف کا دلدوز منظر اشک آنکھوں میں اے بغیر نہیں رھتے انسانوں کو ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلانے کو قابل سنگ زنی جرم قرار دیا گیا محبت کی ایسی کیا مثال کہ ان کو جھوٹے خداؤں کی غلامی سے چھڑوا کر ایک اللہ کی بندگی میں لانے کی فکر اور تڑپ اور اس محبت کے کمال اظہار پہ جس تذلیل اور جس نفرت کا انتہائ گھٹیا اظہار کیا گیاسنگ برساے گئے اور تماش بینوں نے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا نعلین مبارک خون سے بھر گئے آپ کہ وجہ تخلیق کائنات سرور دوجہاں اپنے رب کو محبوب نے صدا دی

“اے میرے اللہ میں اپنی بے بسی اور بے چارگیاور لوگوں میں بے وقعتی کی فریاد تجھ ھی سے کرتا ھے ”
“اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو پھر مجھ کو کوئ پروا نہیں مجھے “یہ بندوں کے ہاتھوں بے بس ھونے پہ بندہء خاص الخاص کی اپنے محبوب حقیقی سے عاجزی بھری التجا تھی رب نے اتنی بڑی آزمائش میں کسی کو نہیں ڈالامگر حبیب خدا اس کڑے وقت میں سرخرو ھوے اور کسی کو بددعا تک نہ دی شاید کہ ان میں سے کوئ ھدایت پاجاے ھے کوئ ایسا بندوں کو چاھنے والا جو رب ودود سے انھیں ملانے کو اتنا بے قرار ھو یہ بے بسی کا عالم تھا اور رب نے ان کو ایسے نوازا جب وھاں سے آپ وادیء نخلہ پہنچے تو جنات کی ایک جماعت آپ کی تلاوت سن کر ایمان لے آئ سبحان اللہ بےشک

محمد السید الکونین والثقلین والفریقین من عربی ومن عجمی محمد سردار ھیں کون و مکاں کے جن و انسان کے سب فرقوں کے خواہ عرب ھوں یا عجم یہاں جن انسانوں پہ سبقت لے گئے تھے دوسرا بڑا انعام یا کہ لیں کہ تڑپتی ھوئ فریاد کی شنوائی رب نے آسمانوں پہ بلا کر کی خدا بن گیا میزبان اللہ اللہ یہ کرم نوازی کسی کا مقدر نہ ھوئ رفعنا لک ذکرک کا اوج کمال کسی کا نصیب نہ ھوا نہ کبھی ھوگامہر ختم نبوت کا شرف جب ھی تو ملا تھا آپ کو یہ قرب خداوندی کا اظہار تھا جب بشر نور علی نور ھوا
دوسری مثال رخ مصطفے کی وہ رحمت عالی ھے کہ آپ ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں آتے ھیں اسی مکہ میں جہاں سے آپ کو اذیتیں دے کر نکالا جاتا ھے آپ کا اپنا وطن مکہ آپ کے لیے اجنبی بنادیا جاتا ھے آج آپ غالب ھیں مگر اونٹ پہ سوار جب داخل ھوتے ھیں تو سر عاجزی سے جھکا ھوا اور زبان پہ سورہء نصر کی تلاوت جاری ھوتی ھے گویا بندگئ رب اوج کمال پہ
آئ اور وھاں کے باشندے جو آپ کے جانی دشمن رھے آپ نے انتقام لینا تو درکنار لاتثریب علیکم الیوم آج تم پہ کوئ گرفت نہیں کہ کر انسانی تاریخ کو چونکا دیا

جو تیغ زن سے لڑے نہتا
جوغالب آکر بھی صلح کرلے

بندہء خاص الخاص بے بسی اور مختاری دونوں کی انتہاؤں میں رحمت ھی رحمت ٹہرا محبوب کو کیوں نہ پیار اے پھر بتائیے یہ علم اور محبت کی دولت سے مالامال کیئ گئی ھستی سے نسبت کا تقاضا جہل اور نفرت کے تماشوں سے کیوں آلودہ کیا جارھا ھےخرافات کا گورکھ دھنداامت کو سچائ سے دور کررھا ھے جو رحمت ھی رحمت ھے
تماشائ بننا اور تماشا دیکھنا اسی میں مصروف رھنا علم کا نہیں جہالت کا خاصا ھے محبت سے بھی اس کا رتی برابر واسطہ نہیں صاحب خلق عظیم ایسے ھی تو نہیں ھوگیے اخلاق علم محبت نے ایک تہذیب عطا کی ھے ربیع الاول کی خوشی محافل کی سجاوٹ میں یہ امر ملحوظ خاطر رھے انکی محفل کا جب بھی تصور کیا ھاتھ میں سر وحدت کاجام آگیا
یعنی خداے واحد سے اتنا قرب اتنی محبت پھر اسی حوالے سے ھر نہج پہ بندوں سے محبت
شرک کے اندھیرے ختم کرنا کہ یہ ظلم عظیم ھے اس داعی اعظم صل اللہ علیہ وسلم کا پہلا مطالبہ ھے ھم سے
پھر آپس کے معاملات میں عدل واحسان انفاق کے راستے کھولنا
ایک امن و صلح کا تمدن
اسی سے خاندانی نظام کی بنیاد رکھ کر اس کو تحفظ دینا بچوں عورتوں اور کمزوروں کی دست گیری کی تاکید یتیموں اور بیواؤں کے حقوق پہ زور دینا کہ” اپنے بچوں کے لیے پھل لاؤ تو اس کے چھلکے باھر نہ ڈالو کہیں پڑوس کے بچوں کو اس سے تکلیف نہ پہنچے ”

پھر فرمایا “خیر خواھی دین ھے”

“خدا کی قسم وہ مومن نہیں جو خود تو
پیٹ بھر کر کھانے اور اس کا پڑوسی
بھوکا سوے ”
مسلم وہ ھے جس کے ھاتھ اور زبان سے
دوسرے مسلم محفوظ رھیں

یہ ھے محبت کے تمدن کی راھیں ایک چلن کی بنیاد

اللہ وحدہ لاشریک نے پھر آپ کو وہ دولت دی
جو کسی نبی کا نصیب نہیں مخلص
شراکت داروں اور۔ بے شمار عاشق جانثاروں کی دولت جو آپ کے ساتھیوں سے ابد تک آپ کے فدائین مجاھدوں مجددوں مبلغوں اور عام سے مسلمانوں تک کی صورت میں رھے گی ان شاء اللہ

وہ آدم و نوح سے زیادہ بلند ھمت بلند ارادہ
وہ زھد عیسی سے کوسوں آگے جو سب کی منزل وہ اسکا جادہ
ھر اک پیغمبر نہاں ھے اس میں
ھجوم پیغمبراں ھے اس میں
وہ جس طرف ھے خدا ادھر ھے
میرا پیمبر عظیم تر ھے
ربیع الاول کے مبارک موقع پہ ھر مسلک کا امتی یہ لازمی دیکھ لے کہ
خوشی کے اظہار میں وہ علم اور محبت کے بجاے جہل اور نفرت وفرقہ واریت کے تماش بین کلچر کی طرف تو نہیں جارھا ذکر مصطفے کی محافل
گھروں اور دلوں کے اندھیرے تو نہیں بڑھارھیں
نمائش نے انفاق کے راستے بند تو نہیں
کردئیے
سود کے کلچر نے مہنگائ کو کتنا بڑھادیا کہ حلال کے راستے مشکل تر اور حرام آسان ھورھا ھے ھم ممکنہ حد اس کے خاتمے کے لیے کیا کررھے ھیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ ھے
رسول اللہ پہ آنے والی پہلی وحی اقراء
ھے گویا نبی صل اللہ علیہ وسلم سے ھماری نسبت علم اور محبت سے آراستہ ھونی چاھیے جہل تماشوں اور نفرت سے آلودہ نہیں
پھر حیا ایمان کی شاخ ھے کی تاکید
ایک تہذیب کا خاصا
جس میں شرم وحیاء ھر برائ کے راستے کی رکاوٹ بن کر صالح سماج کو تشکیل دیتی ھے
مصحف لم یزل پیش لفظ ازل
جملہء اختتام تجھ پہ لاکھوں سلام

ولادت باسعادت سے وصال تک پڑھتے جائیے آپ کو مقصود یہی ملے گا
کلمت اللہ ھی العلیا
وہ اللہ کا کلمہ ھی بلند ھے
کئ جگہ مستند روایات ملتی ھیں
کہ پیدائش کے وقت زبان پہ تھا ربی ھب لی امتی
اے میرے رب میری امت کو بخش دے
یہی محبت بھری دعا حشر میں لب پہ ھوگی جب ھر ایک پکارے گا نفسی نفسی

شرک وبدعت میں گم رھنے کی طرح اس دور کا ایک نیا عذاب دوسرے پہلو کی شکل میں ھے اس ماہ سے لاتعلقی
لبرل کی آرزو کی تکمیل ھے جو کسی نہ کسی طرح یہود کا ایجنڈا ھے
ھشیار رھیے افراط وتفریط کے سنگم پہ

نسبت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم
ایمان کا نور ھے شمع ھے توحید کی
بجھنے نہ دیجئے خدارا
چکاچوند روشنیوں میں عصر حاضر کے پرفتن اندھیرے ھیں کمزور پہ طاقتور عرصہء حیات تنگ کیے ھوے ھیں
آخری وصیت مبارکہ دیکھیں
نماز اور تمھارے زیر دست لوگ ”
یہ سارا حال گھروں اور شہروں کا ھی نہیں امت کا ھے خصوصا کشمیر فلسطین شام عراق یمن کے بے قصور
کے اللہ ھمارا رب ھے کہنے کے جرم میں نہیں کربناک زندگی یا المناک اموات کی سزا نہیں پارھے
حکمران غلام ھیں
بے شرمی کی حد تک امت روزی روٹی کی جھمیلوں میں پھنسادی گئ غم غلط کرنے کو تماشوں میں لگادی جاتی ھے

چاھے میلاد رسول صل اللہ علیہ وسلم کے نام پہ جہل ونفرت پھیلا ے
توصیف مصطفے کاحق تو ادا نہیں ھوسکتا مگر صرف توصیف ھی مقصود نہیں ھے اس آئینے میں اس بے مثل امت کا چہرہ دیکھنا بھی لازم ھے جو امت وسطی ھے میں آپ سب بہت بے بس بے کس نسبت اور محبت کے کمزور دعوے کے ساتھ ربیع الاول کی محافل ترتیب دے رھے ھیں یا خلوت میں ذکر کررھے ھیں قلم اٹھارھے ھیں آواز دے رھے ھیں
سیرت کا مطالعہ کررھے ھیں یا مدحت کررھے ھیں در حقیقت بے بس ھیں نادم ھیں کیا کریں کیا نہ کریں
اللہ کا کوئ شریک نہیں اور
ان کا ثانی نہیں کوئ
جو تعلیم تہذیب اور تکمیل کی اعلی صفات سے متصف ھیں رھبر کامل مرسل داور صل اللہ علیہ وسلم

مجھ سے بے کس کی قوت پہ لاکھوں درود
مجھ سے بے بس کی طاقت پہ لاکھوں سلام
جس کی تسکیں سے روتے ھوے ھنس پڑیں
اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

آئیے
توحید رسالت ختم نبوت اور امت کادرد
ھم اس دولت سے مالامال ھوکر ایک ھوجائیں
اس راز ارض و سماء سے اپنی نسبت کی تجدید کریں جس نے بندگی ء رب کو اپنا مقصود بنایا امت کی خاطر راتوں کو اشک بہاتے شاید شہر علم کو خداے عالم الغیب والشھادت نے اس کربناک پرفتن دور کا علم دے دیا تھا
جب آمد مصطفے کی خوشی کا تذکرہ ھوتا ھے تو لگتا ھے کہ نظام مصطفے
غالب آنے کی خوشی ھے عدل وانصاف قائم ھونے کا مژدہ ھے امن سکون کی بشارت ھے جرائم اور کرپشن کی موت کی خبر ھے
وصال نبی تو ھوچکا کہ جو آیا ھے اسے جانا ھے غم بے شک تین دن کا ھے مگر اس کے بعد غم قوت محرکہ بن جاتا ھے
محافل میں اس کا بھی تذکرہ کریں کہ
غم اور خوشی آپس میں جڑے ھیں لہذا اعتدال توازن قائم رھے دکھلاوے تماشے روایت پرستی جہل ھے
سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے
باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے
تیرے تو وصف عیب تناہی سے ھیں بری
حیراں ھوں میرے شاہ کہ کیا کیا کہوں تجھے
لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کردیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

اللہ کے بندہء کمال نے کہا اللہ تو میرا رب ھے اور اسی رشتے سے بندوں سے محبت کی بے پناہ طائف کا منظر انسان سے محبت کی بے مثال گواھی ھے اور مسلمانوں کے لیے تو قلم عاجز ھے اس محبت کے بیان سے جیسا اللہ نے کہا “یقینا تمھارے پاس ایک رسول آیا ھے تم ھی میں سے اس پہ یہ بات بہت گراں گزرتی ھے کہ تم کسی مشقت میں پڑو وہ تمھارے لیے بھلائیوں کا طالب ھے اور مومنین کے لیے رووف اور رحیم ھے”اور سرعرش اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ خود درود بھیجتا ھے اور ھم کو بھی حکم دیتا ھے کہ محبت کی اس روشن انتہا پہ درود وسلام دیں علم اور محبت اپنا عملی عروج دیکھ کر نازاں ھیں راز ارض و سماء پہ خاتم الانبیاء پہ زینت عرش معلی الصلوت والسلام

مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ھدایت پہ لا کھوں سلام

اپنا تبصرہ بھیجیں