رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ – فریحہ تحریم – انعامی مقابلہ




(کیٹگری 1
انعام یافتہ – اول انعام)

پہاڑوں میں گھری، جنت نظیر وادی کے ایک چھوٹے سے اسکول میں بچے اپنی ٹیچر کا انتظار کر رہے تھے۔
السلام علیکم استانی جی!

وعلیکم اسلام بچو! مس شازیہ سلام کا جواب دینے کے بعد گویا ہوئیں:
“آپ سب جانتے ہیں نا کہ ہماری وادی کے حالات کا کچھ پتہ نہیں ہے کب کس وقت بھارت کشمیر کا محاصرہ اور سخت کر دے اور ہم سب کا یہاں چھپ چھپا کر آنا بھی محال ہو جاۓ”

“مس ہمارے حالات کب بدلیں گے؟ کب ہم آزاد ہوں گے؟ “حسن نے کہا۔
” بیٹا آپ کو تو فخر ہونا چاہئے کہ آپ کا تعلق کس عظیم قوم سے ہے۔ آزادی کے لیے تو خون کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ ہم نہ تو حالات سے گھبرانے والے لوگ ہیں اور نہ ھی موت سے ! اور نا امیدی تو کفر ھے بیٹا! آئیندہ اس طرح بلکل مت سوچیئے گا ۔۔ ٹھیک ھے نا میرے پیارے بیٹے.”
“آئیں اب ھم سب اپنے سبق کی طرف آتے ہیں ۔ آج ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں گے !”

_________

“السلام علیکم دادی”
” وعلیکم اسلام حسن بیٹا ! آج آنے میں دیر کر دی ۔ میں پریشان ہو گئی تھی .”
“جی دادی بس آنے میں دیر ہو گئی ۔جگہ جگہ بھارتی فوجی کھڑے تھے۔”حسن نے جواب دیا۔۔
“اللہ میرے بچے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ احمد کا بھی ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ھے۔ اے میرے رب تو اس کی حفاظت کرنا ”
_________

اندھیری رات چھائی ہوئی تھی۔ چھم چھم کرتی بارش موسم کو مزید سرد بنا رہی تھی۔ حسن اپنی ڈائری پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔

پیارے اللہ میاں !
میری امی ابو تو آپ کے پاس بالکل خیریت سے ہوں گے۔ انہیں کہیےگا کہ میں آپ دونوں کو بہت یاد کرتا ہوں ۔
اللہ تعالیٰ ! احمد بھیا کا پتہ نہیں چل رہا ہے ۔ دادی بہت فکر مند رہتی ہیں ۔آپ ان کو بھیج دیجئے نا۔ میں اور دادی ہی بس گھر میں ہوتے ہیں۔ آئے دن بھارتی فوجی گھروں میں چھاپے مارتے رہتے ہیں۔ دادی کی طبعیت بھی خراب رہتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ آج مس شازیہ نے ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی مشکلات و مصائب سے بھری پڑی تھی مگر انہوں نے کبھی بھی خدا سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ ان کے آنے سے پہلے بھی نبی کے ابو آپ کے پاس آ گئے تھے۔ چھ سال کی عمر میں ان کی امی کا انتقال ہو گیا۔ پھر جب آٹھ سال کے ہوۓ تو دادا جانی بھی چلے گئے۔ ان کو کتنی تکلیف ہوئی ہو گی نا ۔

کتنی یاد آتی ہوں گی اپنے امی ابو کی۔ پھر جب وہ نبی بنے تو ان کے خاندان والے ھی آپ کے سب سے بڑے دشمن بن گئے اور آپ کو بہت تکلیفیں پہنچائیں! ان سے سارے تعلق ختم کر دیے تو حضور مسلمانوں کو لے کرشعیب ابی طالب کی گھاٹی میں اذیت کے تین سال گزارے۔ مس نے بتایا تھا کہ اس دوران انہوں نے درختوں کے پتے کھا کے گزارہ کیا۔ تو یہ سن کر مجھے رونا آگیا کس طرح یہ سب برداشت کیا ہو گا ۔ اور پھر ایک سال میں ھی دو عظیم ترین ہستیاں حضرت خدیجہ اور چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ان کے چلے جانے کے بعد تو مکہ کے مظالم اور بھی سخت ہو گئے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعوت پہچانے کی غرض سے طائف کی وادی میں تشریف لے گئے۔ لیکن وہاں کے لوگوں نے آپ کو اتنے پتھر مارے کہ جوتے خون سے بھر گئے لیکن پھر بھی کسی کو بد دعا نہیں دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے رحم دل تھے نا ۔

مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنی پڑی ۔ لیکن جب مکہ فتح ہوا تو ان سب کو معاف کردیا جنہوں نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کسی کی مدد کرتے تھے ،بہت سادگی سے رہتے تھے ، انتہائی رحمدل تھے، ہمیشہ سچ بولنے تھے اور اللہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اللہ تعالی آپ مجھے بھی ایسا ھی بنا دیجئے نا کہ میں ایک اچھا انسان بن جاؤ آپ کی خاطر ساری مشکلات برداشت کرنے والا۔۔ اپنی وادی کا مجاہد!!

حسن کے دل و دماغ میں اپنے نبی کی محبت چھائی ہوئی تھی۔وہ اس آرزو کا خواہش مند تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا و آخرت کی ھر کامیابی سمیٹ لے۔
_________

اس حسین وادی کے اس پار، باڑوں کے پیچھے آزاد ملک کے لوگ جشن میلاد النبی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ تمام سرکاری عمارات کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ھے ۔ وہاں سرکاری طور پر عشرہ رحمت للعالمین منانے کا اعلان ہو چکا ھے۔ جس میں میلاد کا انعقاد کیا جاۓ گا۔ جھوم جھوم کر نعتیں پڑھی جائیں گی۔ نبی کی آمد مرحبا کی صدائیں گونج رہی ہوں گی۔ ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ اسی ملک میں کرپشن کا بازار بھی گرم ھے۔ دشمن کے ہاتھوں شہہ رگ ہونے کے باوجود وہاں کے لوگ آرام سے بیٹھے ہیں۔ چند سر پھرے لوگوں کے سوا کسی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کی فکر نہیں ھے۔

یہاں کے حکمران ریاست مدینہ کے دعویدار ہیں۔ یہاں کے آزاد باشندے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے دعویدار ہیں اور ساتھ ساتھ اپنا الو سیدھا رکھنے کے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی نافرمانی بھی کر جاتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو حقیقی امتی جان کر آخرت میں حوض کوثر کا حقدار بھی سمجھتے ہیں !! تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا
_________

اپنا تبصرہ بھیجیں