“صبر” – رشکِ حنا – مقابلہ کالم(2)




من الحیث القوم ہمارے اندر سے صبر کا عنصر غائب ہوتا جا رہا ہے .ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا خاصہ “صبر ” جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں شامل تھا ہماری زندگی میں سے ختم ہوتا جارہا ہے ، ہمیں کوئی تھوڑی سی بھی تکلیف ہوتی ہے،تو ہم صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ،

جبکہ ہم اپنے نبی کی زندگی میں پیدائش سے لیکر آخر تک صبر دیکھتے ہیں . آپ کی پیدائش سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد وفات پا جاتے ہیں آپ کی والدہ چھ سال کی عمر میں سفر کے دوران رحلت فرما جاتی ہیں ، آپ کی تکلیف کا اندازہ کیجئے کہ کوئی نہیں ہے صرف ام ایمن ہیں آپکی دیکھ بھال کے لیے …. پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات اپنے رشتہ داروں کے سامنے رکھیں تو انکے سگے خون کے رشتے آپکی مخالفت میں دشمنی میں اتر آئے اور سب سے بڑھ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا ابو لہب ، جس کے گھر کی دیواریں آپ کی دیواروں سے ملی ہوئی تھیں _ پکتے ہوئے کھانے میں گندگی پھینک دیتے تھے ، نماز پڑھنے کے دوران جانور کی الائیش آپکے اوپر ڈال دیتے تھے اور ابو لہب کی بیوی روزانہ جنگل سے کانٹے لا کر آپکے گھر کے سامنے ڈال دیتی تھی تاکہ گھر سے جو بھی بچہ بڑا نکلے اس کے پاؤں میں کانٹے چبھیں_ ابو لہب کے دو بیٹوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں کا نکاح ہوچکا تھا .

وہ اس نے بیٹوں سے کہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں کو طلاق دلوائی ، اندازہ کیجئے اس غم کا اس باپ کے غم کا جس کی دونوں بیٹیوں کو طلاق ہوگئی ہو ، ابو لہب کا بیٹا عتیبہ آپ سے بدتمیزی کرتا ہے اور آپ کے اوپر تھوک دیتا ہے ،تھوک تو نہیں پہنچتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بد دعا دیتے ہیں کہ اللہ آپنے کتوں میں اے ایک کتا اس پر مقرر کردیں ، اور ہم تاریخ کی کتابوں میں یہ حیرت انگیز واقعہ پڑھتے ہیں کہ شام کے سفر میں ابولہب کا قافلہ ایک جگہ رکتا ہے تو وہ اپنے بیٹے کی حفاظت کے لیے اس کے خیمہ کے چاروں طرف اونٹ بٹھا دیتا ہے اور پہرہ سخت کردیا جاتا ہے کیونکہ ابولہب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے ڈر بھی لگتا تھا کہ آپکی کہی بات پوری ہوتی تھی ، اور یہ ہی ہوا رات کو جب سب کی آنکھ لگ گئی جنگل میں سے ایک شیر آکے صرف ابولہب کے بیٹے کو چیر پھاڑ دیتا ہے .

ان سب کے باوجود ابو لہب کی دشمنی میں کمی نہیں آتی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی اور انتقال ہوگیا ، برابر کے گھر سے ابو لہب بغلیں بجاتا ہوا خوشی کے نعرے مارتا ہوا قریش کے پاس جاکر کہتا ہے محمد کی تو آج جڑہی کٹ گئی (نعوذباللہ ) آپ غمگین ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل غم سے بھرے ہوئے ہیں مگر ہم اللہ کی رضاء میں راضی ہیں ،اللہ کی امانت ہم اسے واپس بھیجتے ہیں ، یہ کیسا صبر ہے زرا غور کیجیے ، زرا اپنے اندر جھانکیں کہ کیا ہم بھی صدمہ میں ایسے صبر کرتے ہیں ، اپنوں کے ہاتھوں سے پہنچی ہوئی تکالیف کا ہم کتنا برا مناتے ہیں اور دل میں رکھ کر میل ملاپ چھوڑ دیتے ہیں زبان سے غلط الفاظ نکالتے ہیں وغیرہ وغیرہ ، مگر میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے صبر _ آپ کے صبر کے بدلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سورہ الکوثر عطا فرمائی جس میں دشمنوں کی بات کا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا ، اور آج نبی کے نام لیوا دنیا کے ہر کونے میں ہیں ،

ابولہب تو دشمنی میں اتنا آگے چلا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دینے جہاں جاتے یہ پیچھے سے جاتا آپ کو پتھر مارتا اور لوگوں سے کہتا کہ یہ دیوانہ ہے اس کی باتیں مت سنو ، ابولہب کی ان حرکتوں پر اللہ تعالیٰ نے سورہ لہب اتاری تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا ہے . میرے نبی کی سیرت میں بہت سے واقعات صبر کے متعلق ہیں ، چاہیے وہ طائف کا سفر ہو اور ان کے سرداروں کا رویہ ۔ غور کریں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبر نہیں کرتے جلد بازی کرتے موسیٰ علیہ السلام کی طرح تو اپنا مقصد کیسے حاصل کرتے تبلیغ کا کام محبت اور صبر سے کیا _ آج ہمارے اندر صبر کی کمی ہے زرا سی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ، بہادر شاہ ظفر کا شعر ہے

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا جو ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

یہاں یہ بات سمجھ لیں کہ صبر کے معنیٰ “روکنے” کے ہیں صبر کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی رونا دھونا نہ کرے بلکہ اس کے معنی ہیں کہ آدمی ہر اس چیز سے آپنے آپ کو روک لے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہیں ….. بلکہ ہر پریشانی اور مصیبت کو من جانب اللہ سمجھ کر صبر کا راستہ اختیار کرے _ دو قسم کے حالات میں صبر کی ضرورت پیش آتی ہے . ایک یہ کہ آدمی ایسی مصیبت میں پڑے جو اس کے بس میں نہ ہو ، کسی کی موت ہو جائے کوئی بچہ اللہ تعالیٰ واپس لے لیں ،چاہنے والا رخصت ہو جائے، کوئی مرض ہو جائے ، کوئی مال کا نقصان ہوجائے ،

یہ چیزیں آدمی کے اختیار میں نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں ہمیں آپنی زندگی میں اپنے نبی کا اسوہ دیکھنا ہے کہ کیسے انھوں نے صبر کیا ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضہ ہے کہ انکے اسوہ حسنہ کو اپنائیں ، اور دین و دنیا میں سرخرو ہوں .

Leave a Reply