بچوں نے سنی کہانی – سیدہ حنانہ مریم – مقابلہ کہانی (1)




“بچو! اب میں آپ سے چند سوالات کروں گی اور آپ مجھے اس کا جواب دیں گے۔” مس فرح نے جماعت پنجم کی بچیوں کو ہدایت دی۔

“ہمم… تو میرا پہلا سوال۔۔ اگر آپ اپنی کسی سہیلی کے گھر بہت تیار ہو کر، نئے نئے کپڑے پہن کر جا رہے ہوں اور گلی محلے کی کوئی گندی بچی آپ پر پانی ڈال دے تو آپ کیا کریں گی؟” مس نے طالبات سے پوچھا۔ یہ طالبات کا سیکشن تھا اور یہاں پر صرف بچیاں موجود تھیں۔
“میں تو اس کی امی کو شکایت لگا دوں گی۔” جذباتی علشبہ بولی۔
“میں تو سیدھا سیدھا اپنا راستہ بدل لوں گی اور ابو کو بتاؤں گی تاکہ وہ اس بچی کو ڈانٹ پلائیں۔”
“مس میں تو آئندہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھوں گی۔” سب بچوں نے اپنی اپنی راۓ دی۔
“اچھا اچھا! اب میں دوسرا سوال کرنے جا رہی ہوں۔۔ جیسا کہ آپ نے بولا کہ اس کی پٹائی کروائیں گے، تو اگر وہ آپ کی پٹائی سے بیمار ہو جائے تو آپ کیا کریں گے؟”

“مس میں بچی سے معافی مانگوں گی۔” علشبہ فوراً شرمندہ ہو گئی۔
“میں تو کوئی معافی وافی نہیں مانگوں گی، اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے۔” سنینہ نے بولا۔
“تو کچھ ایسا ہی واقعہ ہمارے پیارے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔” مس فرح نے ٹھندی سانس لی اور کہا۔
“ایک دن کی بات ہے۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے مسجد جا رہے تھے کہ راستے میں ایک بوڑھی کافر عورت نے اپنے گھر کا سارا کچرا لیا اور جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینک دیا، اس سے ان کے سارے کپڑے گندے اور جسم ناپاک اور بدبودار ہوگیا۔۔ لیکن آپ نے اس پر بھی غصہ نہ کیا اور مسجد چلے گئے۔ اب یہ اس عورت کے روز کا معمول بن گیا تھا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد جاتے وہ ہر روز کچرا ڈالتی تھی

ایک دن اس نے کچرا نہیں پھینکا، تو اللہ کے نبی پریشان ہو گۓ اور اس عورت کے دروازے پر دستک دی۔ جب وہ اندر گۓ تو وہ بوڑھی ایک بستر پر بیمار پڑی تھی۔ رسول اللہ نے اس کی اچھی سی عیادت کی۔۔۔ وہ کافر عورت آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا متاثر ہوئی کہ وہ مسلمان ہو گئی۔ تو اس سے یہ پتا چلا کہ آپ اپنے اخلاق کے ذریعے کسی کا دل بھی فتح کرسکتے ہیں اور دنیا بھی۔ اب آپ لوگوں کو بھی اپنے اخلاق اتنے اچھے رکھنے ہیں کہ کوئی دوسرا آپ کا دوست بن جاۓ۔”
“اوکے ٹیچر! ” سب بچوں نے مل کر بولا۔

“چلیں اب آپ سب نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایسا واقعہ اپنی کاپی میں لکھنا ہے جس سے خوش اخلاقی کا سبق ملتا ہو۔” آہستہ آہستہ جماعت کا ماحول اپنے معمول پر آیا اور طالبات اپنا قلم اٹھا کر لکھنا شروع ہو گئیں۔

Leave a Reply