رکھ کر نبی کو سامنے آرائش کردار کر – فریال فیصل – انعامی مقابلہ تحریر




(کیٹگری 2
انعام یافتہ – دؤم انعام)

اس دنیا میں بڑے آدمی بہت پیدا ہوئے اور ہوتے ہیں بڑے لوگ وہ بھی جنہوں نے کوئی اچھی تعلیم اور کوئی ایسی فکر پیش کی جس کے وجود میں آنے ک، بعد دنیا میں ایک عجیب سا انقلاب برپا ہوا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ملک فتح کیے جنہوں نے بہادرانہ کارناموں کی کی کی مثالیں قائم کیں جنہوں نے کئی عنوانات پر کتابیں لکھیں.

جنہوں نے پوری دنیا کی سیر کی جنہوں نے جدید ترین چیزوں کو اس دوڑتی ہوئی دنیا میں متعارف کروایا لیکن ہم جب ایسے بڑے آدمیوں کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی زندگی کو کئی پہلوؤں کوک سیکس وڈی پر رکھ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے کہ ان کی زندگیوں میں کہیں تو اجالا ہے لیکن وہی کسی دوسرے پہلو کی جانب تاریکی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ کہیں پر افراد ہیں تو کہیں تفریح کہیں اونچائی ہے تو کہیں ڈھلان۔کہیں تو ہر شے جگہ پر موجود ہے اور کہیں ہر شے اپنی جگہ سے بہت دور معلوم ہوتی ہے لیکن نبی کی زندگی کا ہر گوشہ دوسرے گوشوں کے ساتھ متوازن ہے اور ہر گوشہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگر دین ہے تو دنیا بھی ہے جلال ہے تو جمال بھی ہے غرض یہ کہ زندگی کا ہر باب اور ہر گوشہ اتنا روشن اور شفاف ہے کہ رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لیے ایک عملی نمونہ ہے اور عمل کرنے کا بہترین طریقہ بھی ہے .

نبی کریم کی زندگی کے ہر گوشے میں خیر ہی خیر ہے ہے جس باب کو بھی اٹھا کر مطالعہ کروں تو وہ باب ایک خوشبودار پھول کی مانند ہے ہے جس کی مہک سے سارا عالم معطر ہوا جا رہا ہے ہے نبی کی زندگی کی تمام چیزیں ہیں عملی نمونہ ہے۔
وما ارسلناکا الا رحمت اللعالمین
اور ہم نے تو بس آپ کو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔

القرآن

میرے نبی کے لئے قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یعنی نبی کی ذات ہم سب کے لئے رحمت کا ذریعہ ہے ان کی سنت ہم سب کے لئے رحمت کا باعث ہے اور ان کی نصیحت ہمارے لیے عملی مثال ہیں۔ آپ کی زندگی کا ایک واقعہ یوں ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ میرا بچہ کھو گیا ہے اور مل نہیں رہا بہت دن سے بچھڑا ہے وہی ایک شخص نے بولا کہ تمہارا بچہ کسی باغ میں اونٹ کے ساتھ کھیل رہا ہے کیونکہ باپ نے بیٹے کا حلیہ بتایا تھا جب وہ شخص خوشی کے مارے اپنے لخت جگر سے ملاقات کرنے جانے لگا تو نبی کریم نے فرمایا کہ تم جب اپنے لخت جگر کو دیکھو تو زور سے آواز نہ دے کر بلانا۔ اگر وہاں کوئی یتیم بچہ ہوا تو تمہارے درد بھرے لہجے سے تم اس کا دل تکلیف میں آجائے گا کیونکہ وہ باپ ایک لمبی جدائی کے بعد اپنے لخت جگر سے ملے گا اور اس کی آواز میں ایسا درد محبت کا جذبہ ہو گا جو ایک یتیم کے دل کو توڑ کے رکھ دے گا ….

مولانا اور مان جاؤں اپنے نبی کی شرط پر کہ میرے پیارے حبیب نے ایک یتیم کے دل کی کیفیت کا کیا خیال کیا۔ اس نے درد کو کس طرح محسوس کیا اور بہترین نصیحت فرمائی۔ اس کے برعکس میں اگر موجودہ دور میں ایک نگاہ ڈالو تو میرا دل کٹ کر رہ جاتا ہے اس وقت دنیا کا ہر انسان دوسرے کو نیچا دکھانے کی ایسی دوڑ میں لگا ہے کہ اس نے اپنے آپ تک کو بھلا ڈالا اس بات کی فکر تو بالکل ہی ختم کر ڈالی کہ میرے کسی دبئی سے کسی دوسرے کو تکلیف ہو سکتی ہے ہے امت کے اظہار سے کوئی اپنی محرومی کو رو سکتا ہے ہے اور میری عیش و عشرت کی زندگی کی نمائش سے سے کسی غریب کی دال اور سبزیاں کے لئے ناشکری کا سبب بن سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دوڑتے ہوئے دور میں جہاں ہر منٹ ہر سیکنڈ کی خبر فورن سے قبل دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک جا پہنچتی ہے، جہاں پیسہ زندگی کا مقصد بنا ہوا ہے اور جہاں مالدار اپنے مال کی نمائش اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے یہ سب کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔

افسوس ہے اس معاشرے اور اس کے حال پر جس شخص کی امتی ہونے کا دعوی کرتے ہیں ان کی سنت کا ذرا بھی خیال نہ کیا اور اپنے نفس کو اپنا خدا بنا ڈالا۔ اگر میرے نبی اس وقت یہاں کے حالات کو دیکھیں تو شاید ہم زمین نہیں دس جائیں شرم کے مارے یہ ہے وہ زندگی جو ہم گزار رہے ہیں صرف دکھاوے کی۔ زندگی میں دین پر چلنے کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ہم قرآن و سنت کی رسی کو مضبوطی سے تھام تھے اور اپنے کردار کو خوبصورت بناتے۔ ایسا بناتے جس کو دیکھ کر کہا جا سکتا کہ ہاں یہ ہے محمد کے امتی کردار ایسا ہو کہ ہم ہر فیصلہ لینے سے پہلے ضرور سوچیں کہ اس معاملے میں میرے نبی کا فیصلہ کیا ہوتا تا ہاں تبھی ہم ایک مثالی معاشرہ بن پائیں گے۔

سارے صنم مسمار کرخیر البشر سے پیار کر
رکھ کر نبی کو سامنے آرائش کردار کر

اپنا تبصرہ بھیجیں